تعارف:☜

آپؒ کا پورا نام ذوالنون بن ابراھیم المصریؒ ہے۔آپؒ ثوبی قوم سے تعلق رکھتے تھے اور آپؒ کا اسم گرامی ثوبان تھا۔آپؒ اکابر طریقت اور مشائیخ طریقت میں سے تھے۔ آپ سلطان معروف اور بحر توحید کے شناور تھے اور عبادت و ریاضت سے مشہور زمانہ ہوئے لیکن اہل مصر آپؒ کے حالات سے متحیر تھے اور آپؒ کی شان سمجھنے سے قاصر تھے۔ ہمیشہ آپؒ کو بے دین کہہ کر آپؒ کی بزرگی و عظمت سے مکر جاتے تھے اور لوگ آپؒ کی مخالفت کیا کرتے تھے۔ ساری عمر آپؒ کے جمال حال سے بے خبر رہے اور آپؒ نے بھی کبھی کسی پر اپنے اوصاف ظاہر کرنے کی زحمت نہ فرمائی جس کے سبب آپؒ کے حالات پر تا حیات پردہ پڑا رہا۔

آپؒ  کے تائب ہونے کا واقعہ:☜

کسی شخص نے آپؒ کو اطلاع پہنچائی کہ فلاں مقام پر ایک نوجوان عابد ہے تو  جب آپؒ اس سے شرف نیاز حاصل کرنے پہنچے تو دیکھا کہ وہ ایک درخت پر الٹا لٹکا ہوا ہے اور اپنے نفس سے مسلسل یہ کہہ رہا ہے کہ جب تک تو عبادت الٰہی میں میری ہمنوائی نہیں کریگا میں تجھے ایسے ہی اذیت دیتا  رہوں گا حتٰی کہ تیری موت واقع ہو جائے۔ یہ واقعہ دیکھ کر آپؒ کو اس پر ایسا ترس آیا کہ آپؒ رونے لگے اور جب  اس نوجوان عابد نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ جو اس گنہگار پر ترس کھا کر رو رہا ہے۔یہ سن کر آپؒ نے اسکے سامنے جا کر سلام کیا اور مزاج پرسی کی۔تو اس نے بتایا کہ یہ بدن عبادت الہی پر آمادہ نہیں ہے اس لیے یہ سزاء دے رہا ہوں۔

آپؒ نے فرمایا کہ مجھے تو یہ گمان ہوا کہ تم نے کسی کو شائد قتل کر دیا ہے یا کوئی عظیم گناہ سرزد ہوا ہے۔ اس نے کہا کہ تمام گناہ مخلوق سے اختلاط کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اس لئے مخلوق سے رسم و راہ کو بہت بڑا گناہ تصور کرتا ہوں۔ آپؒ نے فرمایا تم واقعی بہت بڑے زاہد ہو۔اس نے کہا کہ اگر تم واقعی بہت بڑے زاہد کو دیکھنا چاہتے ہو تو اس پہاڑی پر جا کر دیکھو۔

چناچہ جب آپؒ اس پہاڑی پر پہنچے تو آپؒ نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ جسکا ایک پیر کٹا پڑا تھا اور اسکا جسم کیڑوں کی خوراک بنا ہوا تھا۔جب آپؒ نے صورت حال دریافت کی تو اس نے بتایا کہ ایک دن میں اسی جگہ مشغول عبادت تھا کہ ایک خوبصورت عورت گزری میں اسکو دیکھ کر گرفت شیطان ہو گیا۔اس عورت کے نزدیک پہنچ گیا۔ غیب سے ندا آئی کہ اے بے غیرت تیس سال خدا کی عبادت و ریاضت میں صرف کرنے کے بعد آج شیطان کی عبادت کرنے جا رہا ہے۔ چناچہ میں نے اسی وقت اپنا پیر کاٹ دیا کیونکہ گناہ کی طرف پہلا قدم  اسی پاؤں سے  بڑھایا تھا۔ بتائیے کہ آپؒ مجھ گنہگار کے پاس کیوں آئے ہیں اور اگر واقعی آپؒ کسی بڑے زاہد کی جستجو میں ہیں تو اس پہاڑکی چوٹی پر چلے جائیے۔

لیکن جب بلندی کی وجہ سے آپؒ کا پہنچنا نا ممکن  ہو گیا تو اس نوجوان نے خود ہی ان بزرگ کا قصہ شروع کر دیا اور بتایا کہ پہاڑ کی چوٹی پر جو بزرگ ہیں ان سے کسی نے یہ کہہ دیا کہ روزی محنت سے حاصل ہوتی ہے۔ اسی دن انہوں  نے یہ عہد کر لیا کہ جس روزی میں مخلوق کا ہاتھ ہوگا اس روزی کو ہر گز ہاتھ نہ لگاؤں گا۔ اور جب بغیر کچھ کھاۓ کچھ دن گزر گئے تو اللہﷻ نے شہد کی مکھیوں کو حکم  دیا کہ انکے ارد گرد جمع ہو کر انہیں شہد مہیا کرتی رہیں۔چناچہ وہ ہمیشہ شہد ہی استعمال کرتے ہیں۔

یہ سن کر حضرت ذوالنون نے درس عبرت حاصل کیا اور اسی وقت عبادت و ریاضت میں مشغول ہو گئے۔اور جب آپؒ پہاڑ سے نیچے کی جانب اتر رہے تھے تو دیکھا کہ ایک اندھا پرندہ پیڑ سے نیچے کی جانب آکر بیٹھ گیا۔اس وقت آپؒ کو خیال آیا کہ نہ جانے اس کو رزق کہاں سے مہیا ہوتا ہوگا؟ لیکن آپؒ نے دیکھا کہ اس پرندے نے اپنی چونچ سے زمین کریدی جس سے ایک سونے کی پیالی برآمد ہوئی۔ اس میں تل بھرے ہوۓ تھے اور دوسری پیالی چاندی کی جو گلاب کے عرق سے لبریز تھی۔چناچہ وہ پرندہ اسے کھاکر اور عرق پی کر درخت پر جا بیٹھا اور پیالیاں غائب ہو گئیں۔

یہ دیکھ کر آپؒ نے بھی توکل پر کمر باندھ لی اور یقین کر لیا کہ اللہﷻ پر بھروسہ کرنے والوں کو کبھی تکلیف نہیں ہوتی۔ اسکے بعد آپؒ نے جنگل کی راہ لی جہاں آپؒ کے کچھ پرانے ساتھی مل گئے۔اور اتفاق سے وہاں سے خزانہ برآمد ہوا جس میں ایک ایسا تختہ تھا جس پر اللہﷻ کے اسماء مبارک کندہ تھے۔جس وقت خزانہ تقسیم ہوا تو آپؒ نے اپنے حصہ میں صرف وہ تختہ لے لیا۔ اور ایک دن خواب میں دیکھا کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ اے ذوالنون ! سب نے دولت تقسیم کر لی اور تونے ہمارے نام کو پسند کیا۔جسکے عوض ہم نے تیرے اوپر علم و حکمت کے دروازے کشادہ کر دیے اور آپؒ یہ سن کر شہر تشریف لے آئے۔

آپؒ کو غیبی تنبیہ:☜

آپؒ نے فرمایا کہ  ایک مرتبہ میں لب دریا وضو کر رہا تھا کہ سامنے کے محل پر ایک خوبصورت عورت نظر آئی۔ جب میںؒ نے اس سے گفتگو کرنے کے لیے کہا تو اس نے کہا کہ میں  دور سے تمہیں دیوانہ تصور کیے ہوے تھی اور جب  قریب آ گئی تو عالم تصور کیا۔ اور جب  بالکل قریب آگئی تو اہل معرفت تصور کیا۔ لیکن اب معلوم ہوا کہ تم ان تینوں میں سے کچھ بھی نہیں ہو۔ جب  میں نے  اس سے اسکی وجہ پوچھی تو اس نے فرمایا کہ عالم غیر محرم پر نظر نہیں ڈالتے اور دیوانے وضو نہیں کرتے اور اہل معرفت خدا کے سوا کسی کو نہیں دیکھتے۔ یہ کہہ کر وہ غائب ہو گئی اور میں نے سمجھ لیا کہ یہ غیب کی جانب سے تنبیہ تھی۔

ذوالنون کی وجہ تسمیہ:☜

ایک مرتبہ آپؒ کشتی میں سفر کر رہے تھے تو ایک بیوپاری کا موتی گم ہو گیا۔تو سب نے آپؒ کو مشکوک   تصور کرکے زدو کوب کرنے لگے۔آپؒ نے آسمان کی جانب نظر اٹھا کر عرض کیا کہ یااللہﷻ تو علیم ہے کہ میں نے کبھی چوری نہیں کی۔ یہ کہتے ہی دریا سے صدہا مچھلیاں اپنے منھ میں ایک ایک موتی لیکر نمودار ہوئیں اور آپؒ نے ایک مچھلی کے منھ سے موتی نکال کر اس بیوپاری کو دے دیا۔اس کرامت کے مشاہدے کے بعد تمام مسافروں نے معافی طلب کی۔اس وجہ سے آپکا خطاب ذوالنون پڑ گیا۔

آپؒ کے ایک ارادت مند نے چالیس چلے کھنچے اور چالیس برس سویا نہیں اور مراقبہ کرتا رہا۔ عرض کیا کہ اتنی عبادت و ریاضت کے بعد مجھ سے آج تک اللہﷻ ہم کلام نہیں ہوا اور نہ کبھی رموز خداوندی مجھ ہر منکشف ہوئے۔ لیکن ناعوذ باللہ یہ اللہﷻ کا شکوہ نہیں ہے بلکہ میری  اپنی بد نصیبی کا اظہار ہے۔

آپؒ نے فرمایا کہ خوب شکم سیر ہو کر کھانا کھاؤ اور بغیر عشاء کی نماز پڑھے سو جاؤ۔اس نے حکم کی تعمیل میں کھانا تو خوب کھایا لیکن نماز قضا کرنے پر اسکے قلب نے امادہ نہیں کیا اس لیے نماز پڑھ کر سو گیا۔اور خواب میں حضورﷺ کی زیارت ہوئی تو حضورﷺ نے فرمایا کہ اللہﷻ نے تجھے سلام کے بعد  یہ فرمایا کہ ہماری بارگاہ سے ناامید لوٹنے والا نامراد ہے۔ اور میں تیری چالیس سالہ ریاضت کا صلہ ضرور دونگا لیکن  ذوالنون کو ہمارا یہ پیغام دینا کہ ہم تجھے شہر بھر میں اس لیے ذلیل کرینگے کہ تو پھر سے ہمارے  دوستوں کو فریب میں مبتلاء نہ کر سکے۔

جب اس نے اپنا خواب حضرت ذوالنون کو سنایا تو انکی آنکھوں سے مسرت کے آنسو نکل پڑے۔ لیکن اگر کوئی معترض یہ اعتراض کرے کہ کیا کوئی مرشد کسی کو نماز نہ پڑھنے کا حکم دے سکتا ہے؟؟؟ تو اسکا جواب یہ ہےکہ مرشد بمنزلہ طبیب ہوا کرتا ہے اور طبیب کبھی زہر سے بھی علاج کیا کرتا ہے۔اور چونکہ آپؒ کو یہ یقین تھا کہ وہ میرے کہنے پر بھی نماز ترک نہیں کریگا۔اس لیے آپؒ نے یہ حکم دیا۔ اور اسکے علاوہ طریقت کی راہوں میں ایسے احوال بھی پیش آ جاتے ہیں جو بظاہر شریعت کے خلاف ہوتے ہیں۔لیکن درحقیقت وہ اپنی جگہ بالکل  صحیح ہوتے ہیں۔ جس طرح حضرت خضر کو لڑکے کے قتل کا حکم دیا لیکن منشائے خداوندی یہی تھی۔ گو کہ یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ خلاف شرع کوئی کام نہ کیا جائے لیکن راہ طریقت میں ایسے احوال پیش آ جاتے ہیں جنکا انکار نہیں کیا جا سکتا۔

ارشادات:☜

  • آپؒ اکثر فرمایا کرتے تھے۔ کہ پاکیزہ ہے وہ ذات جو عارفین کو دنیاوی وسائل سے بے نیاز کرتی ہے۔
  • فرمایا کہ حجاب چشم ہی سب سے بڑا حجاب ہے۔جسکی وجہ سے غیر شرعی چیزوں پر نظر نہیں پڑتی۔
  • فرمایا شکم سیر کو حکمت حاصل نہیں ہوتی۔
  • فرمایا کہ معصیت سے تائب ہو کر دوبارہ ارتکاب معصیت دروغ گوئی ہے۔
  • فرمایا کہ سب سے بڑا دولت مند وہ ہے جو تقوٰی سے مالا مال ہو۔
  • فرمایا کہ قلیل کھانا جسمانی توانائی کا ذریعہ ،اور قلیل گناہ روحانی توانائی کا۔
  • مصائب میں صبر کرنا  تعجب خیز نہیں بلکہ مصائب میں خوش رہنا تعجب کی بات ہے۔
  • فرمایا کہ خدا سے خوف کرنے والے ہدایت پاتے ہیں۔اور اس سے خائف ہونے والے گمراہ ہو جاتے ہیں۔ اور درویشیی سے ڈرنے والے قہر الہی سے غافل ہو جاتے ہیں۔
  • فرمایا کہ انسان پر چھ چیزوں کی وجہ سے تباہی آتی ہے۔
  • 👈اعمال صالحہ سے کوتاہی کرنا۔
  • 👈ابلیس کا فرمانبردار ہونا۔
  • 👈موت کو قریب نہ سمجھنا
  • 👈رضاۓ الہی کو چھوڑ کر مخلوق کی رضامندی حاصل    کرنا۔
  • 👈تقاضاۓ نفس پر سنت کو ترک کر دینا۔
  • 👈اکابروں  کی غلطی کو سند بنا کر انکے فضائل پر نظر نہ رکھنا اور اپنی غلطی کو انکے سر تھوپنا۔

خوف الہٰی :☜

فرمایا کہ خوف الہی کی علامت یہ ہےکہ کہ بندہ اللہﷻ کے علاوہ ہر شے سے بے خوف ہو جائے۔ اور دنیا میں وہی محفوظ ہوتا ہے جو کسی سے بات نہیں کرتا۔پھر فرمایا کہ توکل نام ہے مخلوق سے ترک حرص کا،اور دنیاوی وسائل کو چھوڑ کر گوشہ نشین ہو جانے اور نفس کو ربوبیت سے جدا کرکے عبودیت کی جانب مائل ہو جانے کا۔پھر فرمایا کہ بے طینت کو غم بھی زیادہ ہوتا ہے اور دنیا نام ہے خدا سے غافل کر دینے کا۔فرمایا کہ وہ کمینہ ہے جو خدا کے راستہ سے ناواقف ہوتے ہوۓ بھی کسی سے معلومات نہ کرے۔

وصیت و نصائح :☜

  • کسی نے آپؒ سے عرض کیا کہ مجھے کچھ نصیحت فرمایئے ۔۔۔تو آپؒ نے فرمایا کہ
  • 👈 اپنے ظاہر کو خلق کے اور باطن کو خالق کے حوالے کر دو۔
  • 👈خدا سے ایسا تعلق قائم کرو ؛جسکی وجہ سے وہ تمہیں مخلوق سے بے نیاز کر دے۔
  • 👈اور یقین پر کبھی شک کو ترجیح نہ دو۔
  • 👈اور جس وقت تک نفس اطاعت پر آمادہ نہ ہو مسلسل اسکی مخالفت کرتے رہو۔
  • 👈اور مصائب پر صبر کرتے رہو۔
  • 👈زندگی خدا کی یاد میں گزار دو۔

پھر دوسرے شخص کو یہ نصیحت فرمائی کہ ۔۔قلب کو ماضی اور مستقبل کے چکر میں نہ ڈالو۔ یعنی گزرے ہوۓ اور آنے والے وقت کا تصور قلب سے نکال کر صرف حال کو غنیمت جانو۔

وصال:☜

منقول ہے کہ موت کے قریب لوگوں نے سوال کیا کہ آپؒ کی طبیعت کسی چیز کو چاہتی ہے؟؟؟ فرمایا کہ میری صرف ایک ہی خواہش ہے کہ موت سے پہلے مجھے آگاہی حاصل ہو جاۓ۔ پھر آپؒ نے یہ شعر پڑھا کہ ؀

الموت امرضنی، والشوق احرقنی
الحب افنانی،  واللہ احیانی

معنی:۔ خوف نے مجھے بیمار ڈال دیا، اور شوق نے مجھے جلا ڈالا،
محبت نے مجھے  فنا کیا، اور اللہﷻ نے مجھے جِلا دیا،

اسکے بعد آپؒ پر غشی طاری ہو گئی اور کچھ ہوش ہونے کے بعد یوسف بن حسینؒ نے کچھ وصیت کرنے کے لئے عرض کیا؟؟؟ فرمایا کہ میں اس وقت خدا کے احسانات میں گم ہوں۔اس وقت کوئی بات نہ کرو۔ اسکے بعد آپؒ کا انتقال ہو گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

جس رات آپؒ کا وصال ہوا اس رات ستر اولیاء اکرام  کو آپﷺ کی خواب میں زیارت ہوئی۔ آپﷺ فرما رہے ہیں کہ آج خدا کے دوست ذوالنون نے وفات پائی ہے اور میںﷺ اس کے استقبال کے لیے آیا ہوں۔ لوگوں نے آپؒ کی پیشانی پر  ان الفاظوں کو لکھا ہوا دیکھا۔ (ھذا حبیب اللہ مات لی حب اللہ وھذا قتیل اللہ مات من سیف اللہ) یعنی یہ اللہ کا حبیب ہے جو اللہ کی محبت میں جان دے دی اور یہ مقتول ہے جو اللہﷻ کی تلوار سے مرا ہے۔

جب آپؒ کا جنازہ اٹھایا گیا تو گرمی کا موسم تھا۔جنگل کے پرندوں نے جمع ہو کر آپؒ پر سایہ کر دیا۔جب  مصر کے لوگوں نے یہ کرشمہ دیکھا تو اپنے کیے پر بہت پچھتائے اور  جو مظالم آپؒ پر ڈھائے تھے ان سے تائب ہوئے۔

Advertisements