Back to: 12th Class Urdu Notes JKBOSE | Chapterwise Notes
- کتاب: بہار ستانٍ اردو براۓ جماعت 12
- سبق نمبر :5
- سبق کا نام: مرزا غالب
- مصنف کا نام: مولانا الطاف حسین حالی
۲.مشق
سوال نمبر 1:مولانا الطاف حسین حالی کی سوانح نگاری پر مفصل نوٹ لکھیے۔
جواب:آپ کا نام الطاف حسین نام اور حالی تخلص تھا۔آپ نے اردو ادب میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔اگر آپ کی علمی و ادبی خدمات کو دیکھا جائے تو مولانا ایک بڑے اور مایہ ناز ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر بھی ہیں انہیں عربی ،فارسی ،ہندی اور اردو زبان پر خاصی دسترس تھی۔ انہوں نے نثر کے ساتھ ساتھ شاعری میں بھی لوہا منوایا۔
ان کی زبان دہلی کی ٹکسالی زبان ہے ان کی تحریر ساده شیرین اور پر تاثیر ہے۔ جبکہ عبارت میں سلاست اور سادگی پائی جاتی تھی۔ حالی بیک وقت شاعر،نثر نگار،نقّاد صاحب طرز سوانح نگار اور مصلح قوم ہیں جنھوں نے ادبی اور معاشرتی سطح پر زندگی کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو محسوس کیا اور ادب و معاشرت کو ان تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا۔
ان کی تین اہم کتابیں “حیات سعدی، “یادگار غالب” اور “حیات جاوید” سوانح عمریاں بھی ہیں اور تنقیدیں بھی۔”مقدمۂ شعر و شاعری” کے ذریعہ انھوں نے اردو میں باقاعدہ تنقید کی بنیاد رکھی اور شعر و شاعری کے تعلق سے اک مکمل اور حیات آفریں نظریہ مرتب کیا اور پھر اس کی روشنی میں شاعری پر تبصرہ کیا۔اگر ان کی سوانح نگاری کی بات کی جائے تو حالی کی لکھی ہوئی پہلی سوانح عمری حیات سعدی ہے۔
حیات سعدی ایسی سوانح عمری ہے جس میں حالی کا کام تحقیقی نوعیت کا ہے کیونکہ حالی نے پہلے اپنے ہیرو کے متعلق تمام مواد اکٹھا کیا اور پھر غیر ضروری چہ و کے متعلق تمام مواد اکٹھا کیا اور پھر غیر ضروری چیزوں کو الگ کر کے مستند مواد ہی کو پیش نظر رکھا۔ حالی نے معلومات کے علاوہ کلیات سعدی سے بھی استفادہ کیا یہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔
پہلے حصے میں شیخ سعدی کی زندگی کی تصویر کھینچی ہے جس میں ان کا نام نسب، ولادت، بچپن، تعلیم سیاحت اور سفر کی تفصیلات دی ہیں جبکہ دوسرے حصے میں شیخ سعدی کی تصانیف پر روشنی ڈالی ہے اور ان کے کارناموں کا جائزہ لیا ہے۔ یہ اردو میں سوانح نگاری کا اولین نمونہ ہے۔حالی نے اس مشہور زمانہ فارسی شاعر و نثر نگار کو نہ صرف ہندوستان میں متعارف کروایا بلکہ جہاں بھی اردو زبان کے قاری ہیں انہوں نے سعدی جیسی عظیم شخصیت کو ان سے روشناس کروا دیا۔ علاوہ ازیں کتاب کے ایک بڑے حصے میں انہوں نے سعدی کی دو مشہور کتابوں کا گلستان اور بوستان پر مفصل تبصرہ بھی کیا ہے۔
یاد گار غالب، حالی کی دوسری سوانحی تصنیف ہے یہ مرزا اسد اللہ غالب کی سوانح عمری ہے اس میں حالی کا فنی شعور حیات سعدی کے مقابلے میں زیادہ پختہ اور نکھرا ہوا نظر آتا ہے۔ حالی غالب کے شاگرد تھے انہیں نہ صرف غا غالب کی قربت میسر تھی بلکہ ان کی زندگی کے معمولات ادبی کارناموں اور شعری مصروفیات سے واقف تھے۔اس کتاب کے بھی دو حصے ہیں پہلے حصے میں حالی نے مرزا کی تاریخ ولادت، خاندان، تعلیم، شکل وصورت، مطالعہ کتب، سفر کلکتہ، قیام، لکھنو، سرکاری ملازمت سے انکاری، فارسی دانی، اخلاقی وعادات، شوخی بیان، ناؤ نوش، لطائف، راست گفتاری، شاگردوں کی کثرت کی تفصیل دی ہے۔ جبکہ دوسرے حصے میں ان کے کلام پر تبصرہ ملتا ہے اور آخر میں فرہنگ اور الفاظ کی تشریح کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔
حیات جاوید بھی ان کی تصنیف ہے جو سرسید احمد خان کی زندگی کی تفصیلات اور ان کے کارناموں پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب اردو کے سوانحی سرمایہ میں بلند مقام رکھتی ہے۔ اس میں حالی کا سوانحی شعور پورے جوبن پر نظر آتا ہے۔ یہ کتاب بھی دو حصوں پر مشتمل ہے سرسید چونکہ ایک معروف اور کئی حوالوں سے اہم شخصیت تھے لہذا حالی نے بڑی ذمہ داری سے سوانح عمری لکھی۔مجموعی طور پر الطاف حسین حالی اردو کے بہترین سوانح نگار ہیں۔
سوال نمبر 2:حالی کی اس رائے سے متفق ہیں یا نہیں؟اگر مرزا اسد اللہ خان غالب کو بجائے حیوان ناطق کے حیوان ظریف کہا جائے تو بجا ہے کیا آپ مولانا سے متفق ہیں یا نہیں۔
جواب:اگر غالب کو حیوان ناطق کے بجائے حیوان ظریف کہا جائے تو بلکل درست ہے کیونکہ ان کی زبان سے جو کچھ لکھا گیا ہے وہ ظرافت سے بھرا ہوا ہے اور انھوں نے اپنے حسنِ بیان اور حاضر جوابی سے ہر جگہ بات سے بات پیدا کی ہے۔
سوال نمبر 3:مولانا الطاف حسین حالی نے مرزا غالب کے جن اخلاق و آداب کو بیان کیا ہے اُن کو اپنے الفاظ میں تحریر کیجئے۔
جواب:مرزا غالب کے اخلاق نہایت وسیع تھے۔ جو بھی شخص ان سے ملنے جاتا وہ اس سے خندہ پیشانی سے ملتے، جو ایک بار ان سے مل لیتا اسے بار بار ان سے ملنے کا اشتیاق رہتا تھا۔
سوال نمبر 4:مرزا غالب کے چند لطایف لکھیے۔
- جواب:(1) ایک مرتبہ جب ماہ رمضان گزر چکا توبہادر شاہ بادشاہ نے مرزا صاحب سے پوچھاکہ مرزا، تم نے کتنے روزے رکھے؟ غالب نےجواب دیا پیر و مرشد ، ایک نہیں رکھا۔
- (2) جب مرزا غالب قید سے چھوٹ کر آئے تو میاں کالے صاحب کے مکان میں آکر رہے تھے۔ ایک روز میاں صاحب کے پاس بیٹھے تھے کہ کسی نے آکر قید سے چھوٹنے کی مبارکباد دی ۔ مرزا صاحب نے کہا: کون قید سے چھوٹا ہے۔ پہلے گورے کی قید میں تھا۔ اب کالے کی قید میں ہوں۔
۳. معنی لکھیے اور جملوں میں استعمال کیجیے۔
| ۱.باز آنا | چھوڑ دینا | احسن اپنی بری عادتوں سے باز آؤ۔ |
| ۲.پاش پاش ہونا | ریزہ ریزہ ہونا | علی نے احمد کے بھروسے کو پاش پاش کر دیا۔ |
| ۳.باغ باغ ہونا | بہت خوش ہونا | احمد کو اپنے سامنے دیکھ کر میرا دل باغ باغ ہو گیا۔ |
| ۴. دل بھر آنا | غمزدہ ہونا | مریض کی حالت دیکھ کر میرا دل بھر آیا۔ |
| ۵.منھ لگنا | تکرار کرنا | برے لوگوں کے منھ نہیں لگنا چاہیے۔ |
| ۶.ہاتھ لگنا | حاصل ہونا | میری کھوئی ہوئی کتاب میرے ہاتھ لگ گئی۔ |
| ۷.بار آور ہونا | پھل نکلنا | کھبی کبھی کوشش بار آور نہیں ہوتی۔ |
| ۸.جی بہلنا | دل بہلانا | سیر و تفریح سے میرا دل بہلتا ہے۔ |
| ۹.این خانہ ہمہ آفتاب است: | ہر پہلو قابل تعریف | مرزا غالب ہر لحاظ سے این خانہ ہمہ آفتاب است تھے۔ |
۴.واحد کے مقابلے میں جمع اور جمع کے مقابلے میں واحد اسم لکھیے۔
| اندھا: | اندھے |
| صورت: | صورتیں |
| خلعت | خلعتیں |
| کھونٹی: | کھونٹیںاں |
| بیت: | بیعوت |
| عین: | عیون |
| عاشق | عشاق |
| رئیس | رؤسا |
| حکیم: | حکماء |
| حکم: | احکامات |
۵.درج ذیل الفاظ کو اس طرح اپنے جملوں میں استعمال کیجیے کہ ان کی تذکیر و تا بیت واضح ہو جائے۔
| کان: | میرے کان میں درد ہو رہا ہے۔(مذکر) |
| آب: | مُجھے آب پینا ہے۔ (مذکر) |
| دوپہر: | دوپہر میں بہت گرمی تھی۔(مؤنث) |
| گزر: | آج کل کے زمانے میں گزر بسر بہت مشکل ہو گیا ہے۔(مذکر) |
| عرض: | فقیر نے بادشاہ کے سامنے اپنی عرض پیش کی۔(مؤنث) |
| لگن: | ہمیں اپنا کام لگن سے کرنا چاہیے۔ (مذکر) |
| تکرار: | دوستوں کے بحث و تکرار ہوگئی۔(مؤنث) |
| مرض: | اس کا مرض بڑھتا گیا۔(مذکر) |
| چاند: | چاند چمکتا ہے۔(مذکر) |
۶.مختصر جواب طلب سوالات:
سوال نمبر 1:غالب کے اخلاق کیسے تھے؟
جواب:مرزا غالب کے اخلاق نہایت وسیع تھے۔ جو بھی شخص ان سے ملنے جاتا وہ اس سے خندہ پیشانی سے ملتے، جو ایک بار ان سے مل لیتا اسے بار بار ان سے ملنے کا اشتیاق رہتا تھا۔
سوال نمبر 2:غدر کے بعد غالب کی حالت کیسی تھی؟
جواب:غدر کے بعد غالب کو طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ انگریزحکومت کی طرف پیشن بند ہوگئی تھی۔
سوال نمبر 3:غالب اپنے دوستوں سے کیسے پیش آتے تھے؟
جواب:غالب اپنے دوستوں کے ساتھ ہمدردی سے پیش آتے تھے، دوستوں کو دیکھ کر وہ باغ باغ ہوجاتے تھے، ان کی خوشی سے خوش اوران کے غم میں غمگین ہوتے تھے۔