قدیم ہند آریائی

قدیم ہند آریائی دور کو ماہرین لسانیات نے دو حصّوں میں تقسیم کیا ہے:

پہلا دور

پہلا دور ویدک سنسکرت کا دور ہے، جو دراصل سنسکرت کی قدیم شکل کا عہد ہے۔ اس دور میں چار وید یعنی ریگ وید، سام وید ،یجر وید اور اتھروید کے علاوہ قدیم اپنشد یا منتر گرنتھ ملتے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق ریگوید۱۵۰۰ق۔م سے ۱۲۰۰ ق۔م کے درمیان تصنیف کی گئی۔ باقی وید ۱۰٠۰ ق۔م تک یا اس کے کچھ بعد تک کی تصانیف خیال کی جاتی ہیں۔

قدیم سنسکرت پر آریاؤں کی آمد کا بڑا اثر پڑا۔ جس کی وجہ سے سنسکرت کے تین مختلف روپ سامنے آتے ہیں۔اس کا قدیم ترین روپ وہ ہے جب آریا پنجاب کے راستے سے داخل ہو کر شمال کے اکثر حصوں میں قبضہ کرچکے تھے۔ اس وقت شمال میں جو سنسکرت بولی جاتی تھی اس کا متاثر ہونا ضروری تھا ۔ دوسرا روپ سنسکرت کی وسطی بولی کا ہے جب آریا اپنے قدم بڑھا کر مدھیہ پردیش تک جا چکے تھے۔تیسرا روپ آٹھویں صدی ق۔م میں ملتا ہے جب آریا مشرقی ہند تک پہنچ چکے تھے۔ یہ مشرقی بولی کا روپ ہے ۔اس وقت قدیم سنسکرت کے علاوہ مختلف علاقوں میں جو بولیاں رائج تھیں۔ان کا ذکر دوسرے دور میں آتا ہے۔

دوسرا دور

جن بولیوں کا ذکر اوپر آیا ہے وہ بولیاں یہ ہیں
1- ادیچی 2- مدھیہ پردیشی 3 -پراچی

۱۔ ادیچی

ادیچی شمال مغربی ہندی میں ،مدھیہ پردیشی مدھیہ پردیش میں اور پراچی مشرقی ہند میں بولی جاتی تھیں۔ ادیچی کو اس لحاظ سے فوقیت حاصل تھی کہ وہ آریاؤں کی قدیم معیاری زبان سے قریب تر تھی۔آریاؤں کی معیاری زبان کی سند لوگ اسی علاقے سے لیتے تھے۔

2- مدھیہ پردیشی

مدھیہ پردیشی زبان نہ تو اس قدر معیاری سمجھی جاتی تھی جتنی کہ شمال مغربی ہندوستان کی زبان اور نہ اس قدر پست جیسی کہ پراچی کی بولی۔رفتہ رفتہ آریائی تہذیب کا مرکز پنجاب سے ہٹ کر دوآبہ گنگا جمنا ہوتا گیا اور مدھیہ پردیشی زبان کو ممتاز حیثیت حاصل ہوتی گئی۔

3 -پراچی

پراچی زبان کا رواج آریاؤں کے ان قبائل میں تھا جو موجودہ اودھ، مشرقی یوپی اور مغربی بہار کے بعض حصوں میں آباد ہو گئے تھے۔یہاں کی زبان دیسی بولیوں سے مل کر اپنا آریائی لب و لہجہ کھوچکی تھی۔مغربی ہندوستان کے آریا ان کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے اور اسوروں( بھوت پریت) کی نسل سے تعبیر کرتے تھے۔

ان کی زبان کو” براہمناں” می” "اشدھ” کہا گیا ہے۔اس عہد کی سنسکرت میں اسٹرو ایشائی اور دراوڑی الفاظ خاصی تعداد میں ملتے ہیں۔سنسکرت کے اس شکست وریخت کو دیکھتے ہوئے زبان کو نئے سرے سے منظم کرنے کی کوشش کی گئی ۔مقامی تعصبات سے الگ ہٹ کر ان الفاظ کو ٹکسالی مانا گیا جو سب جگہ رائج تھے۔اب لوگ ادب میں ایک خاص ٹکسالی زبان کا استعمال کرنے لگے اور زبان سنسکرت (شدھ) ہو گئی۔

ابتداء میں سنسکرت لفظ صفت کے طور پر استعمال ہوتا رہا جس کے معنی صاف شستہ زبان کے تھے۔بعد میں سنسکرت ایک خاص زبان کا نام ہو گیا۔ شستہ زبان ہونے کی وجہ سے ادبی تصنیفات اسی زبان میں ہونے لگیں۔لیکن نقصان یہ ہوا کہ علمی و ادبی زبان ہونے کی وجہ سے یہ عوام سے ہٹنے لگی۔لگ بھگ اسی زمانے میں جین مت اور بدھ مت والوں نے اپنے اپنے مذہب کا پرچار مقامی بولیوں میں کرنا شروع کیا۔جس کی وجہ سے مقامی بولیاں چمک اٹھیں۔

سنسکرت کے عالموں اور ویدک مذہب کے علمبرداروں کو یہ اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں سنسکرت پھر مقامی زبانوں کی زد میں آکر اپنا معیاری روپ نہ کھودے۔ اس لیے یہ لوگ اپنی زبان کی سختی سے حفاظت کرنے لگے۔نتیجے میں سنسکرت ایک فرقہ کی زبان بن کر محدود ہو گئی۔ مذہبی رہنماؤں کے اس زبان پر تسلط کی وجہ سے یہ "دیوبانی” تو بن گئی لیکن عوام میں اس کی مقبولیت کم ہوگئی یعنی سنسکرت قابل احترام تو ہو گئی لیکن قابل استعمال نہ رہی۔

Close