وسطی ہند آریائی

وسطی ہند آریائی کے تین دور ہیں

پہلا دور

۵۰۰ق۔م سے مسیحی سن کی ابتدا کا دور ہے۔ یہ دور پالی کا دور ہے۔جب سنسکرت دیوبانی ہو گئی تو مقامی بولیاں ویدک زبان کے فطری رجحان پر چل پڑیں اور عوام کی زبان ایک مخلوط زبان ہوتی گئی۔ یہی پراکرت کا پہلا روپ تھا۔پراکرت کا پہلا ادبی روپ پالی کا ہے۔پالی کے سب سے قدیم نمونے بدھ اور جینوں کی مذہبی کتابوں یا پھر اشوک کی لاٹوں پر کندہ ہوئے ملتے ہیں۔لفظ پالی سنسکرت کے لفظ "پنکتی” سے نکلا ہے۔اس لفظ کو "قدیم مگدی” بھی کہتے ہیں۔پالی میں مذہبی شاعری، کہانیاں اور قواعد و لغت بھی ملتے ہیں۔پالی اس زمانے میں مقبولِ عام زبان تھی۔اس لیے جین مت اور بدھ مت کی تعلیمات اسی زبان میں دی جاتی تھی۔

دوسرا دور

وسطی ہند آریائی کا دوسرا دور مسیحی سن کی ابتداء سے ۵۰۰ء تک شمار کیا جاتا ہے۔یہ دور پراکرت کا دور کہلاتا ہے۔پراکرت کسی ایک زبان کا نام نہیں بلکہ کئی ایک زبانوں کے مجموعے کا نام ہے۔پراکرت کے معنی ہیں ایسی زبانیں، جو اپنے فطری انداز میں پھل پھول رہی ہوں۔اس عہد میں ادبی اور اہم پراکرتوں کی پانچ واضح شکلیں نظر آتی ہیں۔

۱. مہاراشٹری

یہ جنوب کی پراکرت ہے۔ مراٹھی اسی سے نکلی ہوئی زبان ہے۔ یہ شاعری اور موسیقی کی زبان سمجھی جاتی ہے اور سنسکرت کے ڈراموں کے گیت اسی میں لکھے جاتے تھے جس کی وجہ سے اسے ملک گیر مقبولیت حاصل ہو گئی ۔اس میں حروف علت کی کثرت ہے جس کی وجہ سے لوچ زیادہ آگیا ہے۔ ‏ پراکرتوں میں سب سے پہلے مہاراشٹری کی قواعد مرتب ہوئی۔ اس میں نظم و نثر کا قیمتی سرمایہ ملتا ہے۔

۲۔شورسینی

اس کا مرکز شورسین یعنی متھرا کا علاقہ تھا۔ سنسکرت کے بعد اعلیٰ طبقہ میں اگر کسی پراکرت کا رواج تھا تو وہ یہی زبان تھی جس پر سنسکرت کی گہری چھاپ نظر آتی ہے۔

۳۔مگدھی

یہ پورے مشرقی ہندوستانیوں کی بولی تھی۔ اس کا مرکز مگدھ یعنی جنوبی بہار تھا۔چونکہ یہ آریاؤں کے مرکز سے دور تھی اس لئے اس پر غیر آریائی بولیوں کا شدید اثر ملتا ہے۔اس لیے آریا اس پراکرت کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ سنسکرت ڈراموں میں نچلے طبقے کے کرداروں کے مکالمے اسی زبان میں لکھے گئے ہیں۔

۴.اردھ مگدھی

اس کے لفظی معنی آدھی مگدھی کے ہیں۔اس کا مقام اودھ اورمشرقی اترپردیش تھا۔ یہ تمام پراکرتوں میں سب سے قدیم ہے۔ اس میں اشوک کی تعلیمات کا بھی پرچار ہوا ہے۔مغربی ہندوستان کے رہنے والے اسے پراچیہ کہا کرتے تھے۔پراچیہ کے تحت مگدھی اور اردھ مگدھی دونوں آجاتی ہیں۔اس کا رواج اس زمانے کے شاہی خاندانوں میں بھی رہا ہے۔ شاہی زبان ہونے کی وجہ سے ہی یہ دوسری پراکرتوں پر بھی اثرانداز ہوئی۔ اس میں نظم و نثر دونوں ملتے ہیں۔

۵.پیشاچی

سنسکرت میں پیشاچی” بھوت” کو کہتے ہیں۔پیشاچی کے معنی "کچا گوشت کھانے والے”کے بھی بتائے جاتے ہیں۔ یہ سنسکرت کی ایک ہم عصر بولی ہے۔ یہ زبان بول چال میں زیادہ استعمال ہوتی رہی ہے جس کی وجہ سے اس میں کئی بولیوں کی ملاوٹ عمل میں آئی ۔اس لیے سنسکرت کے علماء اسے بڑی حقارت سے دیکھتے تھے۔

تیسرا دور

یہ دور ۵۰۰ء تا ۱۰۰۰ء پر محیط ہے۔ یہ دور اپ بھرنش کا دور کہلاتا ہے۔اپ بھرنش کے معنی بگڑی زبان کے ہیں۔اپ بھرنش کا لفظ پہلی بار بھرت کے "ناٹیہ شاستر” میں ملتا ہے۔ اس کے بعد کالی داس کے” وکرم اردشی” میں نظر آتا ہے۔

پڑھے لکھے لوگ ان پڑھوں کی زبان کو اپ بھرنش یا اپ بھاشا کہتے تھے۔ہندوستان کی جدید زبانوں کی پیدائش پراکرتوں سے نہیں بلکہ اسی اپ بھرنش سے ہوتی ہے جس کا سلسلہ:

  • ۱.شور سینی اپ بھرنش
  • ۲.مگدھی اپ بھرنش
  • ۳.اردھ مگدھی اپ بھرنش
  • ۴.اور مہاراشٹری اپ بھرنش

۱.شور سینی اپ بھرنش

شور سینی اپ بھرنش کو ممتاز حیثیت حاصل ہے۔شور سینی اپ بھرنش میں مندرجہ ذیل چار بولیاں شامل ہیں:

  • 1.کھڑی بولی یا ہندوستانی (موجودہ اردو ہندی)
  • 2. راجستھانی
  • 3. پنجابی
  • 4. گجراتی

۲.مگدھی اپ بھرنش

مگدھی اپ بھرنش کا علاقہ وسیع تھا۔ اس لئے مختلف مقامات پر اس کے مختلف نام پڑ گئے۔بہار کی تمام بولیاں اس کے تحت آتی ہیں۔ بہار کی بولی کا نام مکھی ہے جو مگدھی کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔

۳.اردھ مگدھی اپ بھرنش

اردھ مگدھی اپ ھرنش میں پوربی ہندی (اودھی) آتی ہے۔

۴.مہاراشٹری اپ بھرنش

مہاراشٹری اپ بھرنش کا خاص مرکز موجودہ برار تھا۔ سنسکرت میں اس صوبے کو مہاراشٹر کے نام سے پکارا گیا ہے۔

اپ بھرنش میں سنسکرت کے تدبھو الفاظ کثرت سے ملتے ہیں۔کہیں کہیں عربی الفاظ تلفظ کی تبدیلی کے ساتھ آگئے ہیں۔ شورسینی اپ بھرنش کو لسانی اعتبار سے بڑی اہمیت حاصل ہے۔کیونکہ اس کی کھڑی بولی ایک وسیع علاقے میں بولی جاتی تھی۔اس لئے خیال کیا جاتا ہے کہ اس علاقے کی تمام بولیاں ضرور اسی سے نکلی ہوں گی۔کھڑی بولی کا خاص علاقہ دوآبہ تھا۔کھڑی بولی ہندوستان کی مانی ہوئی ادبی زبان بن گئی۔

Mock Test Dec. 2011 Paper

وسطی ہند آریائی 1
Close