Advertisement


بہتر سے بہترین کی خواہش انسان کا فطری جذبہ ہے۔ نچلے درجے کے ملازمین کے علاوہ ایسے لوگ جو عرصہ دراز سے بے روزگار ہیں، ان کی بھی خواہش انہیں بے چین رکھتی ہے کہ، وہ جلد از جلد پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے گورنمنٹ کالج میں لیکچرر منتخب ہو جائے۔

لیکچرر بننے کے لیے کم از کم تعلیمی قابلیت ایم-اے ہے۔ جبکہ طلباء کی اکثریت ایم-فل اور پی-ایچ-ڈی کرچکی ہوتی ہے۔ فیس بک اور واٹس ایپ کے مختلف گروپس کا مشاہدہ کیا تو ایک چیز سامنے آئی کہ بہت سارے لوگ جنہوں نے ایم-فل اور پی-ایچ-ڈی کر رکھی تھی، وہ منتخب نہیں ہو سکے۔ بہت سارے لوگ کامیاب ہونے والے امیدواران سے کسی ایسی جادوئی کتاب کے بارے میں سوالات کرتے ہوئے نظر آئے، کہ جس کو پڑھ کر وہ کامیاب ہو جائیں۔

کچھ عرصہ قبل تک تو یہ بات زیادہ حیران کن نہیں تھی، کہ ایک دو کتب معروضی کی پڑھ لینے سے تحریری امتحان پاس کیا جا سکتا تھا۔ لیکن اب حالات و واقعات کلی طور پر مختلف نظر آتے ہیں۔ تمام سوالات میں آخری آپشن None of these شامل کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 2017ء تک پیپر قدرے ایک ہی طرح کا ہوتا تھا اور اس میں سوالات پوچھنے کا انداز بھی روائتی اور آسان تھا۔ جبکہ اب معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔

Advertisement

معروضی کی کتب پر اکتفاء کرنے والوں کے لیے تحریری امتحان انتہائی مشکل امر بن چکا ہے۔ اب معروضی سوالات زیادہ تر آپ کے سیلیبس اور تاریخی کتب میں سے پوچھے جاتے ہیں۔ آپشنز بہت کلوز ہوتے ہیں۔ اس طریقہ کار میں محض وہی امیدواران کامیاب ہوں گے ، جن کا مطالعہ کافی وسیع ہو گا۔ بہت سارے لوگوں کے میسنجر، فیس بک گروپس اور واٹس ایپ گروپس میں میسجز آئے کہ تحریری امتحان پاس کرنے کے لیے ایک اچھی کتاب تفویض کریں۔

راقم الحروف انہی لوگوں سے مخاطب ہے کہ سب سے پہلے میٹرک، ایف-اے، بی-اے اور ایم-اے کے سیلیبس کو اچھی طرح پڑھیں۔ معروضی کی کسی ایک آدھ کتاب کا انتخاب کرنے کے بجائے زیادہ سے زیادہ کتب کو پڑھیں۔ معروضی یاد کرنے کے لیے رٹہ بازی سے پرہیز کریں۔ سیلیبس پر عبور ہونے سے معروضی آسانی سے یاد بھی ہو سکتی ہے اور اسے سمجھا بھی جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ معروضی یاد کرنے کے لیے “Law of association” کا استعمال کریں۔ یعنی مختلف چیزوں کا مخلتف چیزوں سے تعلق پیدا کر کے انہیں ذہن نشین کریں۔ اس کے علاوہ کسی ایک ادبی تاریخ پر اکتفا ہرگز مت کریں زیادہ سے زیادہ ادبی تواریخ کا مطالعہ کریں۔ تنقیدی و تحقیقی کتب سے بھی استفادہ کریں۔ شاعری اور نثر کی ابتداء اور ارتقاء کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات اکٹھی کریں۔ زیادہ سے زیادہ ناول اور افسانے پڑھنے کے ساتھ ساتھ ناول اور افسانے پر ہونے والی تنقیدوں کا بھی مطالعہ کریں۔

گرامر کی دو چار کتب بھی لازمی پڑھنی چاہئیں۔ اگر آپ ایم-فل اور پی-ایچ-ڈی اسکالر ہیں تو کورس ورک اور مقالے پر بھی توجہ دیں۔ اصناف نظم و نثر کا بھی آپ کو پتا ہونا چاہئے۔ ایک شاعر اور ایک نثر نگار جس کو آپ پسند کرتے ہوں۔ اس پر لکھے گئے مقالات کو سمجھ کر پڑھنا ضروری ہے۔ جس صنف کی طرف آپ کا رجحان ہے اس پر لکھنے کی کوشش بھی کریں۔ لکھنے کے لیے آپ کو زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرنا پڑے گا، اور یہی مطالعہ آپ کے علم میں اضافہ کرتا ہے۔

مستند جنرل نالج کی کتب سے بھی استفادہ کریں۔ بہرحال لیکچرر بننے کے لیے آپ کو زیادہ سے زیادہ خارجی مطالعہ کرنا چاہیے۔ آپ کا خارجی مطالعہ جس قدر وسیع ہو گا، انٹرویو میں آپ اسی قدر مطمئن نظر آئیں گے اور آپ کی شخصیت میں نکھار آئے گا۔

سب سے ضروری بات یہ ہے کہ آپ کو قربانی دینی پڑے گی۔ وہ قربانی وقت کی ہو سکتی ہے، نیند کی ہو سکتی ہے یا پھر دیگر ضروری معاملات کی ہو سکتی ہے۔ اس دفعہ اردو میں منتخب ہونے والے تمام لیکچررز کا مشاہدہ کرنے پر ایک بات سامنے آئی ہے کہ، تمام لیکچررز کے پاس کوئی نہ کوئی اضافی صلاحیت موجود ہے۔ کوئی ناول نویس ہے تو کوئی افسانہ نگار۔ کوئی کالم نگار ہے تو کوئی شاعر جبکہ اکثر لوگ مترجم ہیں۔ مطلب سبھی نے صرف مطالعہ پر ہی زور نہیں دیا بلکہ اپنی اپنی فیلڈ اور دلچسپی کے مطابق کچھ الگ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

راقم الحروف بھی پولیس ڈیپارٹمنٹ میں نوکری کر رہا ہے۔ گھر اور دوستوں کو بہت تھوڑا وقت دیا۔ بلکہ زیادہ تر آفس میں ڈیوٹی کے بعد مطالعہ میں مگن ہو جاتا۔ وقت کی قربانی دےکر محنت کا پھل پایا۔ اس کے علاوہ کالم اور افسانے لکھتا ہے۔ ایم-فل اردو آخری مراحل میں ہے۔ اس دفعہ جو امیدواران منتخب نہیں ہو سکے۔ انہیں آج سے ہی تیاری شروع کر دینی چاہیے۔ کسی ایک کتاب کو سہارا بنانے کے بجائے زیادہ سے زیادہ کتب سے دوستی کرنی چاہیے۔ خارجی مطالعہ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لینا چاہیے۔ وقت کی قدر کی جائے۔ اس کو ضائع مت کریں۔ فضول قسم کے مشاغل سےخود کو دور رکھیں۔ خدا پر مکمل بھروسہ رکھیں اور والدین بالخصوص والدہ کی دعائیں لیں۔ اللہ تعالیٰ ضرور کامیاب کرے گا۔ مطالعہ اور محنت میں تسلسل پیدا کریں۔

تحریرامتیازاحمد
لیکچرر اردو کیسے بنا جائے ؟ 1