Advertisement

کتاب”نوائے اردو”برائے نویں جماعت

تعارف شاعر:

اسرارحسن خاں مجروح سلطان پوری ، سلطان پور، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ان کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ پھر انھوں نے لکھنؤ سے طب کی سند حاصل کی اور طبابت کا پیشہ اختیار کیا لیکن بچپن سے ہی انھیں شاعری سے لگاؤ تھا اور بہت جلد وہ طبابت چھوڑ کر صرف شاعری کرنے لگے۔ بعد میں دوبئی چلے گئے اور انھوں نے فلم کے لیے بہت سے مقبول اور مشہور گیت لکھے۔

ان کا شعر پڑھنے کا انداز ادبی حلقوں میں بہت مقبول ہوا۔ ان کا شمار ترقی پسند نغ غزل کے نمائندہ شاعروں میں ہوتا ہے ۔ ان کے کلام کے مجموعے ‘غزل’ اور ‘مشعل جان’ کے نام سے شائع ہو چکے ہیں۔ مجروح کو اقبال اعزاز ( جسے عام طور پر اقبال سمان کہتے ہیں اور دادا صاحب پھالکے ایوارڈ کے علاوہ بھی دیگر کئی انعامات و اعزازات سے نوازا گیا۔

Advertisement

غزل کی تشریح:

ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح
اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح

یہ شعر مجروح سلطان پوری کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ میری مثال ایسی ہے کہ جیسے بازار میں پڑا ہوا کوئی سامان ہو۔ایسا سامان جس پر سب کی نظر پڑتی ہے اور ہر ایک اس کو خریدار کی نگاہ سے دیکھتا ہو۔

وہ تو کہیں ہے اور مگر دل کے آس پاس
پھرتی ہے کوئی شے نگہ یار کی طرح

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ میں اپنا دل پوری طرح محبوب پہ ہار چکا ہوں۔ میرا محبوب اس وقت مجھ سے دور کہیں اور بس رہا ہے مگر میرا دل مسلسل اس کے پاس اور اس کے اردگرد ہی موجود رہتا ہے۔ اس کا وجود ہر وقت میری نگاہوں کے سامنے یوں پھرتا رہتا ہے کہ جیسے کوئی قیمتی شے ہو۔ ایسے ہی میری نگاہ میرے محبوب کے تعاقب میں رہتی ہے۔

سیدھی ہے راہ شوق پہ یوں ہی کہیں کہیں
خم ہو گئی ہے گیسوئے دلدار کی طرح

اس شعر میں شاعر نے عشق کے راستے کو محبوب کی خم دار یعنی ٹیڑھی زلفوں سے تشبیہ دی ہے۔شاعر کہتا ہے کہ ویسے تو عشق کی منزل سیدھی ہے مگر کہیں کہیں پر یہ راستہ یا منزل محبوب کی خم دار زلفوں کی طرح ٹیڑھی ہو جاتی ہے۔یعنی عشق کے راستے پر کہیں کہیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بے تیشہ نظر نہ چلو راہ رفتگاں
ہر نقش پا بلند ہے دیوار کی طرح

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ گزرے ہوئے لوگوں کی طرح بے دھیانی میں نہ چلو بلکہ یہاں غور وفکر کرنے کی تلقین کی جارہی ہے کہ جو بھی تمھارا راستہ یا منزل ہو اس پر غور وفکر کرتے ہوئے چلو۔ تم پرانے خیالات کی دیوار کو توڑ کر وہاں پر بھی اپنے قدموں کے نشانات ثبت کرنا۔

اب جا کے کچھ کھلا ہنر ناخن جنوں
زخم جگر ہوئے لب و رخسار کی طرح

اس شعر میں شاعر عشق کی صورت میں طاری ہونے ہونے والے جنون کی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ عشق میں جب انسان پر جنون کی کیفیت طاری ہوتی ہے تو وہ دیوانہ وار خود کو نوچنے لگ جاتا ہے۔ مجھ پر اب یہ بھید کھلا ہے کہ جب اس کیفیت میں لوگ خود کو نوچتے ہیں تو ان کے زخمی لب اور رخسار کی طرح سے ان کا جگر بھی زخموں سے چور چور ہوا ہوتا ہے۔

مجروحؔ لکھ رہے ہیں وہ اہل وفا کا نام
ہم بھی کھڑے ہوئے ہیں گنہ گار کی طرح

اس شعر میں شاعر خود کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ جب وفا کرنے والوں کے نام مرتب کیے جائیں گے تو میرا نام شاید ہی وفا کرنے والوں کی فہرست میں شامل ہو گا بلکہ میں تو وہاں کہیں مجرموں کی طرح سے گناہ گاروں کی قطار میں کھڑا ہوں۔

سوالوں کے جواب لکھیے:

راہ شوق سے کیا مراد ہے؟ ایک جملے میں لکھیے۔

راہ شوق سے مراد محبت کا راستہ یا منزل ہے۔

دوسرے شعر میں”وہ تو کہیں ہے اور” کس کی طرف اشارہ ہے؟

وہ تو کہیں اور ہے سے مراد محبوب کی غیر موجودگی کی کیفیت ہے۔

غزل کے مقطعے میں شاعر نے کیا بات کہی ہے؟

غزل کے مقطعے میں شاعر خود کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ جب وفا کرنے والوں کے نام مرتب کیے جائیں گے تو میرا نام شاید ہی وفا کرنے والوں کی فہرست میں شامل ہو گا بلکہ میں تو وہاں کہیں مجرموں کی طرح سے گناہ گاروں کی قطار میں کھڑا ہوں۔

عملی کام:-

غزل میں استعمال کی گئی تشبیہات اور استعارات کی نشاندہی کیجیے۔

غزل کےتیسرے شعرمیں شاعر نے عشق کی منزل کو محبوب کی خم دار زلفوں سے تشبیہ دی ہے۔
خون جگر کو لب اور رخسار کی سرخی سے تشبیہ دی ہے۔

مطلب لکھیے:

ہم ہیں متاع کو چہ و بازار کی طرح
اٹھتی ہے ہر نگا ہ خریدار کی طرح

یہ شعر مجروح سلطان پوری کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ میری مثال ایسی ہے کہ جیسے بازار میں پڑا ہوا کوئی سامان ہو۔ایسا سامان جس پر سب کی نظر پڑتی ہے اور ہر ایک اس کو خریدار کی نگاہ سے دیکھتا ہو۔

سیدھی ہے راہ شوق پہ یوں ہی کہیں کہیں
خم ہوگئی ہے گیسوئے دلدار کی طرح

اس شعر میں شاعر نے عشق کے راستے کو محبوب کی خم دار یعنی ٹیڑھی زلفوں سے تشبیہ دی ہے۔شاعر کہتا ہے کہ ویسے تو عشق کی منزل سیدھی ہے مگر کہیں کہیں پر یہ راستہ یا منزل محبوب کی خم دار زلفوں کی طرح ٹیڑھی ہو جاتی ہے۔یعنی عشق کے راستے پر کہیں کہیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔