تعارف

اردو ادب کو نظم ، غزل، کہانیوں، ناول، افسانوں، سفر ناموں، کالم نگاری ، تراجم ،بچوں کے عالمی ادب ، مکتوبات اور دیگر ادبی اصناف پر بےانتہاء مواد دینے والے ابن انشاء کا اصل نام شیر محمد تھا۔ شیر محمد ۱۵ جون ۱۹۲۷ کو بھارتی پنجاب کے شہر جالندھر میں پیدا ہوئے۔ اس زمانے میں دیہاتی زندگی میں تعلیم اتنی نہیں ہوا کرتی تھی اور انشاء جی کے گھرانے میں بھی تعلیم اتنی عام نہ تھی۔ ان کے والد صاحب نے چوتھی جماعت تک پڑھ رکھا تھا۔

ابن انشاء نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے اسکول سے حاصل کی۔ وہ اپنی والدہ کے بہت چہیتے تھے اور وہ بھی والدہ کو بے پناہ چاہتے تھے۔ انھیں اپنی والدہ سے ایسی محبت تھی کہ وہ زندگی بھر اس کے حصار سے آزاد نہ ہوسکے۔ آپ نے جامعہ پنجاب سے بی اے کیا اور کراچی سے ایم اے کیا۔

ادبی تعارف

ابن انشاءکا کمال یہ ہے کہ انھوں نے ہر صنف ادب میں اپنا لوہا منوایا ہے۔ اگرچہ اپنے اظہار کے لئے انہوں نے کئی میدانوں کا انتخاب کیا اور یہی وجہ ہے کہ ان کا دل شاعر ہے اور دماغ بہترین نثرنگار۔

ابن انشاء کو ادب سے بہت لگاؤ تھا اسی وجہ سے انھوں نے کتابیں پڑھنا اور ان پر تبصرہ کرنا ،ادبی ڈائری ، ادبی رپورٹس لکھنے سے ابتداء کی اور پھر دیکھتے دیکھتے وہ کالم نویسی کرنا شروع ہو گئے۔ اول اول تو آپ نے بابا اصفہانی ،درویش مشقی اور پہلا درویش جیسے قلمی ناموں سے کالم شائع کروایا۔ ان کے کالموں میں پہلے تبصرے بعد میں سفری کالم اور ادبی کالم شائع ہونے لگے۔

اسلوب

ابن انشاء ایک عظیم مزاح نگار بھی تھے۔ انھوں نے عظمت خیال اور حساس تخیل کا سہارا لے کر طنز و مزاح کو ایک نیا رنگ و روپ دے کر زندگی کے ہر پہلو سے انصاف کرنے کی پوری پوری کوشش کی ہے۔ ہمارے یہاں لبوں پر مسکراہٹ بکھیر دینا بہت مشکل ہے، ہمارے مزاح نگار انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں جن میں ابن انشاء سرفہرست ہیں۔ ان کے جیسی چلبلی نثر تو بالکل نایاب ہے، ان کی نثر میں خودفریبیاں،;قول و فعل میں تضاد، معاشرتی بےحسی ، نمود و نمائش کی خواہش غرض زندگی کے ہر شعبے کی ناہمواریاں موجود ہیں۔ وہ ایک مزاح نگار ضرور تھے مگر وہ معاشرے کو اپنے مشاہدے میں رکھتے تھے، معاشرے میں جو بدعنوانیاں اور بداخلاقیاں ہو رہی تھیں، بگڑتے ماحول، سب ان کے علم میں تھا۔

ان کی کہانیوں میں ہماری قومی کوتاہیوں کا ذکر بھی ہے اور انفرادی خود غرضیوں کا تذکرہ بھی، وقتی فائدے کے لئے ناجائز ذرائع پر ایمان کی داستان کا بیان بھی ہے اور اس دور کے حکمرانوں کی نااہلیاں اور حماقتیں بھی شامل ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ ایسے لطیف اور شگفتہ انداز میں ہے کہ قاری دیر تک اس سے لطف انداز ہوتا رہتا ہے۔

تصانیف

  • ابن انشا کی مشہور تصانیف میں
  • آپ سے کیا پردہ،
  • آوارہ گرد کی ڈائری،
  • بلو کا بستہ،
  • چلتے ہو تو چین چلو،
  • چاند نگر،
  • دل وحشی،
  • دنیا گول ہے،
  • ابن بطوطہ کے تعاقب میں،
  • اس بستی کے ایک کوچے میں،
  • خمار گندم،
  • نگری نگری پھرا مسافر،
  • سحر ہونے تک،
  • اردو کی آخری کتاب قابل ذکر ہیں۔

اعزاز

ان کی ادب خدمات کے اعراف میں حکومت پاکستان نے ان کو تمغائے برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا۔

آخری ایام

اردو کے یہ عظیم مصنف جس نے ہر لب ہنسایا، ہر دل گدگدایا، آخر ۱۱ جنوری ۱۹۷۸ کے دن سب کو رلا کر وہ اس در فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کی تدفین کراچی میں ہوئی، انھوں نے ۵۰ برس کی عمر گزاری۔

Advertisements