شعر نمبر 1

ابن مریم یعنی حضرت عیسیٰ مردوں کو زندہ اور بیماروں کے دکھ دور کرتے تھے۔شاعر فرماتے ہیں کہ اگر کوئی عیسٰی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو میری بلا سے۔میں تو جب جانوں کہ کوئی میرے دکھ دور کرے۔ غالب مرضِ عشق میں مبتلا ہیں اور شاید بیماری عِشق کا علاج اس کے پاس بھی نہیں ہے کیونکہ اصل میں یہ کوئی مرض نہیں بلکہ ایک قسم کا وہم ہے اور وہم کا علاج نہیں ہوتا۔

شعر نمبر 2

شاعر فرماتے ہیں کہ میں جوش وخشت میں نہ جانے کیا کیا بک رہا ہوں، خدا کرے کوئی میری باتوں کو نہ سمجھے۔ یعنی خدا کرے کہ گفتگو سے رازِ عشق فاش نہ ہو جائے۔

شعر نمبر 3

غالب نصیحت کے انداز میں فرماتے ہیں کہ اگر کوئی تمہیں برا کہے تو اس کی بات کی سُنی اَن سُنی کرو اور اگر کوئی تمہارے ساتھ برا کرے تو اس کا ذکر نہ کرو۔ گویا دونوں صورتوں میں صبر سے کام لینے کے لیے کہتے ہیں۔

شعر نمبر 4

فرماتے ہیں کہ اگر کوئی غلط راستے پر چلے تو اس کو روک لو، اور اگر کوئی خطا کرے تو اس کو فراخ دلی سے معاف کر دو‌۔

شعر نمبر 5

غالب فرماتے ہیں کہ دنیا میں کون شخص ہے جو حاجتمند نہیں ہے کوئی کس کس کی حاجت روا کرے اگر کوئی تمہاری حاجت روا نہ کرے تو شکایت زبان پر نہ لائیے کیونکہ ہر شخص کی اپنی اپنی صورتیں اور مجبوریاں ہوتی ہیں۔

شعر نمبر 6

اس شعر میں حضر اور سکندر کے حوالے سے صنعت تلمیح کا استعمال کیا گیا ہے۔شاعر فرماتے ہیں کہ مشہور بادشاہ سکندر اعظم حضرت خضر کی رہنمائی میں چشمہِ آبِ حیات تو پہنچا لیکن جب حضرت نے سکندر کو چشمے کے پاس لیا تو اس نے دیکھا کہ چشمہ کے آس پاس کئی بوڑھے سسکتے بلکتے ہیں۔یہ دیکھ کر سکندر نے آبِ حیات پینے سے پرہیز کیا۔شاعر کہتے ہیں کہ خضر رہنما بننے کے باوجود سکندر آبِ حیات نہ پی سکا۔ظاہر ہے کہ حضر سے بڑھ کر تو کوئی دوسرا رہنما نہیں ہو سکتا۔اگر حضر سکندر کی رہنمائی نہ کر سکا تو کسی دوسرے سے کوئی کیا توقع کر سکتا ہے۔

شعر نمبر 7

شاعر نے اس مقطع میں ایک بڑی حقیقت بیان کی ہے کہ جب کسی سے کوئی توقع ہی نہیں رہی تو پھر کس بھروسے پر اس کا گلہ شکوہ کیا جائے۔گلہ تو وہاں کیا جاتا ہے جہاں اپنائیت ہو اور بات مان لے جانے کی امید ہو۔ظاہر ہے جب توقعات ہی ختم ہو جائیں تو گلہ کرنی سے الٹا نفرت اور دشمنی ہی بڑھتی ہے۔لئے ایسے میں کوئی کیوں گلہ کرے۔

Advertisements