Advertisement
ابن مریم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی

ابن مریم سے مراد حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا کا بیٹا یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ حضرت عیسی علیہ السلام کو اللہ پاک نے یہ قوت عطا کی تھی کہ وہ مردوں کو زندہ کر دیتے تھے اور بیماروں کو اللہ کے حکم سے ٹھیک کر دیتے تھے۔ اب شاعر کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے اگر یہ قوت عطا کی تھی تو مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا میں تو جب جانوں کہ کوئی میرے دکھ دور کرے۔ اصل میں غالب مرضِ عشق میں مبتلا ہیں اور شاید عِشق کی بیماری کا علاج کسی کے پاس بھی نہیں ہے کیونکہ اصل میں یہ کوئی مرض ہے ہی نہیں بلکہ ایک قسم کا وہم ہے اور وہم کا علاج نہیں ہوتا۔

Advertisement
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

شاعر کہتا ہے کہ میں جنونِ عشق میں مبتلا ہوں اور اس جنون کی حالت میں نہ جانے کیا کیا بک رہا ہوں، خدا کرے کوئی میری ان باتوں کو نہ سمجھے۔ یعنی خدا کرے کہ گفتگو سے رازِ عشق فاش نہ ہو جائے۔

Advertisement
نہ سنو گر برا کہے کوئی
نہ کہو گر برا کرے کوئی

اس شعر میں غالب نصیحت آمیز انداز میں فرما رہے ہیں کہ اگر کوئی تمہیں برا کہے تو اس کی بات کی سُنی اَن سُنی کر دو اور اگر کوئی تمہارے ساتھ برا کرے تو اس کا ذکر نہ کرو۔ گویا دونوں صورتوں میں صبر سے کام لینے کے لیے کہتے ہیں۔

روک لو گر غلط چلے کوئی
بخش دو گر خطا کرے کوئی

غالب اس شعر میں بھی نصیحت آمیز لہجے میں فرماتے ہیں کہ اگر کوئی غلط راستے پر چلے تو اس کو روک لو، اور اگر کوئی خطا کرے تو اس کو فراخ دلی سے معاف کر دو‌۔

Advertisement
کون ہے جو نہیں ہے حاجت مند
کس کی حاجت روا کرے کوئی

غالب فرماتے ہیں کہ دنیا میں کون شخص ہے جو حاجت مند نہیں ہے کوئی کس کس کی حاجت روا کرے۔ اگر کوئی تمہاری حاجت روا نہ کرے تو شکایت زبان پر نہ لائیے کیونکہ ہر شخص کو اپنی اپنی پریشانیوں اور مجبوریوں نے گھیرا ہوا ہے۔

کیا کیا خضر نے سکندر سے
اب کسے رہنما کرے کوئی

اس شعر میں حضرت حضر اور سکندر اعظم کے حوالے سے صنعت تلمیح کا استعمال کیا گیا ہے۔شاعر فرماتے ہیں کہ مشہور بادشاہ سکندر اعظم حضرت خضر علیہ السلام کی رہنمائی میں چشمہِ آبِ حیات تک تو پہنچا لیکن جب حضرت حضر علیہ السلام نے سکندر اعظم کو چشمے کے پاس لیا تو اس نے دیکھا کہ چشمہ کے آس پاس کئی بوڑھے سسکتے بلکتے ہیں۔یہ دیکھ کر سکندر نے آبِ حیات پینے سے پرہیز کیا۔شاعر کہتے ہیں کہ خضر کے رہنما بننے کے باوجود سکندر آبِ حیات نہ پی سکا۔ظاہر ہے کہ حضر سے بڑھ کر تو کوئی دوسرا رہنما نہیں ہو سکتا۔اگر حضر سکندر کی رہنمائی نہ کر سکا تو کسی دوسرے سے کوئی کیا توقع کر سکتا ہے۔

Advertisement
جب توقع ہی اٹھ گئی غالبؔ
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی

شاعر نے اس مقطع میں ایک بڑی حقیقت بیان کی ہے کہ جب کسی سے کوئی توقع ہی نہیں رہی تو پھر کس بھروسے پر اس کا گلہ شکوہ کیا جائے۔گلہ تو وہاں کیا جاتا ہے جہاں اپنائیت ہو اور بات مان لینے کی امید ہو۔ظاہر ہے جب توقعات ہی ختم ہو جائیں تو گلہ کرنے سے الٹا نفرت اور دشمنی ہی بڑھتی ہے۔ اس لئے ایسے میں کوئی کیوں گلہ کرے۔

Advertisement