ابن نشاطی کی پیدائش 1040ھ کے آس پاس ہوئی۔ ان کا اصلی نام شیخ محمد مظہر الدین تھا- اور ان کے والد کا نام شیخ فخرالدین تھا- ابن نشاطی گولکنڈہ کے رہنے والے تھے- اور گولکنڈہ کے سلطان عبداللہ قطب شاہ کے دربار کے شاعر تھے- لوگ ان کے نام کے آگے شیخ المشائخ لگایا کرتے تھے-

ابن نشاطی اس دور کے بہت نامی اور مشہور شاعر تھے- ان کا نام گولکنڈہ کے مشہور شاعروں میں دوسرے نمبر پر آتا تھا-

ابن نشاطی صرف نظموں میں نہیں بلکہ نثر میں بھی اپنا درجہ کمال رکھتے ہیں-ابن نشاطی کی سب سے مشہور مثنوی "پھول بن” ہے- پھول بن مثنوی ایک عشق کی داستان بیان کرتی ہے- ابن نشاطی نے اس مثنوی کو سلطان عبداللہ قطب شاہ کے دور میں 1066ھ میں صرف تین مہینوں کے اندر لکھی تھی- 

ابن نشاطی فارسی٬ دکنی٬ اردو کے عالم اور ماہر عروض و بلاغت بھی تھے- انہیں شاعری میں بہت زیادہ مہارت حاصل تھی-

ان کی مثنوی کو پڑھنے سے ان کی قابلیت کمال فن کا اندازہ ہو جاتا ہے- ان کی مثنوی فارسی کی تصنیف "بساتین الانس” سے ماخوذ ہے- لیکن انہوں نے اس کے اصلی قصے میں تبدیلی کی ہے- اور انھوں نے ہر بند کا آغاز ایسے شعرسے کیا ہے جس سے ہر بند کا خلاصہ ہو جاتا ہے-

پھول بن مثنوی کی کہانی جیسے جیسے آگے بڑھتی جاتی ہے اور اس میں تین قصوں کے ساتھ ساتھ کچھ اور کہانیاں بھی شامل ہیں-

ابن نشاطی نے اپنی مثنوی میں جذبات نگاری٬ منظر نگاری کا بڑی خوبی سے بہتر کمال دکھایا ہے-

اس مثنوی میں 39 صنعتیں استعمال ہوئی ہیں-"پھول بن” میں پورے چھ قصے ہیں- اور اس کے علاوہ جو ہیں وہ دوسرے قصوں کو ایک دوسرے میں جوڑنے کا کام کرتے ہیں-اس مثنوی کا شمار کلاسیکی ادب میں ہوتا ہے- اسے ایک اہم مقام حاصل ہے-

"پھول بن” کی کہانی میں ایک شہر تھا جس کا نام کنچن پٹن تھا- اس شہر کی ہر ایک چیز سونے کی تھی- اس شہر کے سبھی لوگ بہت ہی خوش رہتے تھے- یہاں کوئی بھی غریب اور فقیر نہیں تھا- یہاں کا بادشاہ بھی بہت خوشحال تھا- اور رعایہ بھی خوشحال تھی- ایک رات بادشاہ اپنے خواب میں ایک درویش کو بہت ہی غمزدہ حالت میں دیکھتاہے- وہ درویش بادشاہ کے یہاں آنا چاہ رہا ہے لیکن نہیں آ پا رہا ہے- جب بادشاہ کی آنکھ کھلی تو دوسرے دن خادم کو بلاکر اس درویش کو بلانے کو کہا- بہت ڈھونڈنے سے آخر درویش مل جاتا ہے- اور وہ روز بادشاہ کو ایک حکایت سناتا تھا اور بادشاہ اس سے بہت خوش رہنے لگا-

اسی طرح "پھول بن” قصے کی شروعات ہوتی ہے- اور جیسے جیسے یہ کہانی آگے بڑھتی ہے لطف بڑھتا جاتا ہے-ابن نشاطی کی اس مشہور مثنوی نے بہت زیادہ نام کمایا اور کافی شہرت بھی حاصل کی- اور شاعری کی دنیا میں اپنا ایک اونچا مقام حاصل کر لیا-

Advertisements