Advertisement
  • کتاب” ابتدائی اردو” برائے پانچویں جماعت
  • سبق نمبر21: مضمون
  • سبق کا نام: ڈاکٹر مختار احمد انصاری

خلاصہ سبق:ڈاکٹر مختار احمد انصاری

سبق ڈاکٹر مختار احمد انصاری ڈاکٹر انصاری کے حالات زندگی کا بیان ملتا ہے۔آپ 25 دسمبر 1880ء کو غازی پور میں پیدا ہوئے۔بچپن سے ذہین اور محنتی تھے۔ ہندوستان میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ڈاکٹری کی تعلیم مکمل کرنے کے لیے آپ نے برطانیہ کا سفر کیا۔ہندوستان واپس آکر لوگوں کی خدمت کرنے لگے۔

ترکی کے پڑوسی ممالک نے اس پہ حملہ کردیا۔ جس سے ترکی حالات سن کر اپ بے چین ہو گئے اور دوستوں کے ساتھ مل کر ایک جماعت بنائی اور جنگ کے زخمیوں کا علاج کرنے کے لیے ترکی کا سفر کیا۔ شبلی نعمانی بھی اس جنگ سے رنجیدہ تھے۔ انھوں نے اس عمل پہ آپ کے قدم چوم لیے۔

ترکی پہنچ کر آپ نے زخمیوں کی خدمت کی۔آپ غریبوں غریبوں اور ضرورت مندوں کے کام آتے تھے۔ مریضوں کا علاج خندہ پیشانی سے کرتے۔ہونٹوں پہ ہمیشہ مسکراہٹ اور گفتگو میں مٹھاس تھی۔ آپ بہت مہمان نواز تھے۔ دوسروں کو کھانا کھلا کر ہمیشہ خوشی ملتی۔ہندو مسلم اتحاد کے زبردست حامی تھے۔

Advertisement

ترک موالات اور خلافت تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ آزادی کی جنگ کے دوران کئی بار انھیں جیل جانا پڑا۔ ان کے کارناموں کی وجہ سے انھیں 1927 میں کانگریس کا صدر چن لیا گیا۔آپ عظیم شخصیت کے مالک اور قوم کے سچے معمار تھے۔

حکیم اجمل خان اور محمد علی جوہر کے مشورے سے آپ کو جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے امیر جامعہ بنایا گیا۔ 15 اگست 1936 کو انتقال ہوا اور تدفین جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قبرستان میں ہوئی۔ ان کے نام سے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ایم۔اے انصاری آڈیٹوریم اور انصاری ہیلتھ سینٹر بنایا گیا۔

سوچیے بتائیے اور لکھیے:

ڈاکٹر مختار احمد انصاری کب اور کہاں پیدا ہوۓ؟

ڈاکٹر مختار احمد انصاری 25 دسمبر 1880ء کو غازی پور میں پیدا ہوئے۔

ڈاکٹری کی تعلیم مکمل کرنے کے لیے ڈاکٹر انصاری کہاں گئے تھے؟

ڈاکٹری کی تعلیم مکمل کرنے کے لیے آپ نے برطانیہ کا سفر کیا۔

ڈاکٹر انصاری نے ترکی کا سفر کس مقصد سے کیا تھا؟

ترکی کے پڑوسی ممالک نے اس پہ حملہ کردیا۔ جس سے ترکی حالات سن کر اپ بے چین ہو گئے اور دوستوں کے ساتھ مل کر ایک جماعت بنائی اور جنگ کے زخمیوں کا علاج کرنے کے لیے ترکی کا سفر کیا۔

ڈاکٹر انصاری نے قومی خدمت کے کون کون سے کام انجام دیے؟

آپ غریبوں غریبوں اور ضرورت مندوں کے کام آتے تھے۔ مریضوں کا علاج خندہ پیشانی سے کرتے۔ ترک موالات اور خلافت تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ آزادی کی جنگ کے دوران کئی بار انھیں جیل جانا پڑا۔

ڈاکٹر انصاری کن لوگوں کے مشورے سے امیر جامعہ بنائے گئے؟

حکیم اجمل خان اور محمد علی جوہر کے مشورے سے آپ کو جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے امیر جامعہ بنایا گیا۔

خالی جگہوں کو صحیح لفظوں سے پر کیجیے:

  • وہ خندہ پیشانی سے سب کا علاج کرتے۔
  • ڈاکٹر انصاری ہندومسلم اتحاد کے زبردست حامی تھے۔
  • انہوں نے ترک موالات اور خلافت تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
  • انھیں 1927 میں کانگریس کا صدر چن لیا گیا۔
  • ان کے نام سے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ایم۔اے انصاری آڈیٹوریم ہے۔

ان لفظوں کے واحد لکھیے۔

جذباتجذبہ
خدماتخدمت
شخصیاتشخصیت
تعلیماتتعلیم
حالاتحال
نقصاناتنقصان
طبقاتطبقہ
احساساتاحساس

ان لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے:

خاصمسلمان عید کے تہوار کے لیے خاص اہتمام کرتے ہیں۔
رنجیدهاحمد اپنے دوست کی ناراضی پہ رنجیده ہو گیا۔
جنگجنگ قوموں کو تباہی کے دہانے پر لا کر کھڑا کر دیتی ہے۔
دوستعلی میرا بہترین دوست ہے۔
آزادی15 اگست کو ہندوستان کو آزادی ملی۔
عواماپنے لیڈر کے لیے عوام کا جوش وخروش دیدنی تھا۔
انسانانسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا۔
نقصانکاروبار میں نفع نقصان دونوں اٹھانے پڑتے ہیں۔

ان لفظوں کے متضاد لکھیے۔

خاصعام
رنجیدہخوش
جنگامن
دوستدشمن
آزادیغلامی
عوامبے عوام
انسانجانور
نقصانفائدہ

نیچے دی ہوئی تصویروں کو ان کے نام کے ساتھ ملائے :

ٹیپو سلطان 3
بیگم حضرت محل 1
خاں عبدالغفار خاں 6
مولانا ابوالکلام آزاد 5
ڈاکٹر مختار احمد انصاری 2
ڈاکٹر ذاکر حسین 4

مجاہدین آزادی میں سے کسی ایک بارے میں چھوٹا سا مضمون لکھیے۔

بیگم حضرت محل پر ایک مضمون

بیگم حضرت محل کو ہندوستان کی جنگ آزادی میں پہلی سرگرم خاتون مجاہد آزادی کی شکل میں یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی پیدائش 1820 میں فیض آباد میں ہوئی تھی۔ بیگم حضرت محل اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کی دوسری بیوی تھیں۔

جب 1856 میں واجد علی شاہ کو انگریز حکومت نے جلاوطنی کی سزا دیتے ہوئے کولکاتا بھیج دیا تو انھوں نے اودھ کی باگ ڈور سنبھالی اور انگریز مخالف عوام کے لیے امید کی ایک شمع بن کر سامنے آئیں۔ انھوں نے انگریزوں کے ‘پھوٹ ڈالو اور راج کرو’ کی پالیسی کو سمجھتے ہوئے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد قائم کیا اور انگریزوں کو ہندوستان سے باہر نکالنے کے لیے جدوجہد میں سرگرداں ہو گئیں۔

انھوں نے اپنی بہترین پالیسی سازی اور ہمت سے جنگ کے میدان میں اپنے جوہر دکھائے اور انگریزی حکومت کو ناکوں چنے چبوا دیے۔ مورخین کا کہنا ہے کہ بیگم حضرت محل مہارانی لکشمی بائی اور رضیہ سلطانہ سے کہیں زیادہ عزم و حوصلہ اور تنظیمی صلاحیت کی ملکہ تھیں۔ 1857 کی جنگ کی اودھ میں جس طرح انھوں نے قیادت کی اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔

اگر انھیں کچھ اپنوں نے دغا نہیں دی ہوتی اور دوسری ریاستوں کے حاکموں کا تعاون حاصل ہوتا تو انگریزوں کو اسی وقت ہندوستان چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑتا۔ حضرت محل جب تک زندہ رہیں، انگریزوں کے خلاف مہم جو رہیں۔ ان کے آخری ایام نیپال میں گزرے جہاں 7 اپریل 1879 کو انھوں نے آخری سانس لی۔