Advertisement

اردو میں ایک شعرکےمصرعوں کی لمبائی کے لیے دو الفاظ استعمال ہوتے ہیں ، وزن یا بحر دونوں کا مطلب ایک ہی ہے۔ شعر کے دونوں مصرعوں کا وزن ایک ہی ہونا چاہیے۔ ہر زبان میں شاعری کی بحروں کے اصول ہوتے ہیں۔ مثلاً ہندی ، فارسی اور انگریزی کی شاعری میں ان زبانوں کی اپنی بحریں ہیں۔ انگریزی میں بحر کو میٹر کہتے ہیں۔

Advertisement

زیر، زبر اور پیش کی علامتوں کو ‘ اعراب ‘ کہتے ہیں۔ وہ حروف جن پر اعراب ہوں یعنی حرکت یا جنبش ہوں اُن کو ‘ متحرک ‘ حروف کہتے ہیں۔ وہ حروف جن میں کوئی جنبش نہ ہو اُن کو ‘ ساکن ‘ کہتے ہیں۔

Advertisement

ہر لفظ متحرک اور ساکن کے دہرانے سے بنتا ہے۔ مثلاً لفظ ۔ ” پر” میں ” پَ ” متحرک ہے اور ” ر” ساکن۔ لفظ ” کَار میں "ک ” محترک اور” ر ” ساکن ہے۔ ایک لفظ میں چھوٹے یا بڑے حرکات یا تہجی کے ارکان ہوتے ہیں۔ حروف صحیح کےدرمیان حروف علت ‘ و ، ا ، ی ‘ کی گنتی سے ہم بتا سکتے ہیں کے ایک لفظ میں کتنے چھوٹے یا بڑے حرکات ہیں۔ لفظ کا وزن متحرک اور ساکن کی ملاوٹ ہے۔ دو الفاظ ہم وزن کہلاتے ہیں اگر ان میں متحرک اور ساکن ایک جیسے ہوں۔

Advertisement

لفظ وزن کے لیے تین شرائط ہیں:

ایک: حرف کی تعداد برابر ہو۔
دو: دونوں لفظوں میں حرکات اور ساکنات ہوبہو ہوں۔
تین: حرف صحیح پر ” کون سا اعراب استعمال ہوا ہے اس سے وزن پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

اردو میں بحریں عربی اور فارسی سے آئیں ہیں۔ عربی میں انکی تعداد سولہ ہے۔ اردو نے تین بحریں فارسی زبان سے لی ہیں۔ اسطرح اردو میں اُنیس بحریں ہیں جس میں سے عام طور پرگیارہ استعمال ہوتی ہیں۔ بحروں کو سمجھنے کیلئے عربی کے ارکان کو جاننا ضروری ہے۔ ارکان تعداد میں دس ہیں۔

Advertisement

علم عروض میں ایک رکن اور بحر کا نام سالِم ہے۔ سالم کے لغوی معانی ثابت اور مکمل ہیں۔ مثلاً اگر ایک رکن کو ایک مصرعہ میں دہرائیں ( فاعلن ، فاعلن ، فاعلن ، فاعلن ) تو یہ مصرعہ سا لِم کہلائے گا۔ بحرسالم کو بحر مکرر بھی کہتے ہیں۔ عروض کے ارکان کا تغّیر(تبدیلیاں) زحاف کہلاتا ہے۔اگر ایک مصرعہ میں رکنوں کو تبدیل کریں (فاعِلاتن ، مُستفلن ، فاعلن) تو یہ مصرعہ زحاف یا شِکستہ کہلاتا ہے۔

استعمال کے لحاظ سے بحر کی دو قسمیں ہیں :
1۔ مفرد بحر :
بحریں جس میں ایک ہی رکن کی تکرار ہوتی ہے۔
مولانا حالی کا مصرعہ؀

Advertisement

”مرادیں غریبوں کی برلانے والا“ مفرد بحر کی ایک مثال ہے۔
اس قسم میں ایک ہی رکن کی تکرار ہے۔
فَعَولن فَعَولن فَعَولن فَعَولن

2 – مرکب بحر:
بحریں جو ایک سے زیادہ ارکان سے بنتی ہیں۔ انکی مثال ہم بعد میں دیکھیں گے۔

Advertisement

لمبائی کے لحاظ سے بحر کی دو قسمیں ہیں:

1۔مُثمن
( یعنی آٹھ ارکان والی) ۔وہ بحریں جن کے ہر مصرعے میں چار ارکان ہوتے ہیں۔شعر کے دونوں مصرعوں کو ملا کر اس میں آٹھ ارکان ہوتے ہیں۔
مولانا حالی کا مصرعہ؀
” مرادیں غریبوں کی برلانے والا“ مثمن بحر کی ایک مثال ہے

Advertisement

2۔ مسدّس
( یعنی چھ ارکان والی) ۔وہ بحریں جن کے ہر مصرعے میں تین ارکان ہوتے ہیں۔شعر کے دونوں مصرعوں کو ملا کر اس میں چھ ارکان ہوتے ہیں۔ میں مسدس کی مثال بعد میں دوں گا۔
اگر کسی بحر کے ہر مصرعے میں تین( 3 ) کے بجائے چھ ( 6 ) ہوں تو بحر کو پھر بھی مسدس کہا جاتا ہے اور اگر چار کے بجائے آٹھ ( 8 ) ارکان ہوں تو بحر کو پھر بھی مثمن ہی کہتے ہیں لیکن ان کے بعد بیان میں مدائف (یعنی دوگنا) لکھتے ہیں۔

بعض ایسی بحریں ہیں جن کے ہر مصرعے میں چار (4) ارکان اسطرح سے ہوتے ہیں کہ پہلے دو ( 2 ) ارکان کی تکرار سے ان کی تشکیل ہوتی ہے۔ مثلاً

Advertisement

فاعیلاتون فاعلو ن فاعیلاتو ن فاعلو ن
ایسی بحر کو بحرِ شکستہ یا بحرِمکرر کہتے ہیں۔
یہ بحریں اردو میں مستعمل ہیں۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement