نام و نسب:☜

امام  بخاریؒ کا نام محمد ہے۔ کنیت ابو عبد اللہ لقب امیر المؤمنین فی الحدیث ہے۔ نیز محدثین اکرام و علماء اسلام سے یہ القاب بھی منقول ہیں۔
١۔ امیر المؤمنین فی الحدیث
٢۔ ناشر الحدیث نبویہ
٣۔ناشر المواریث المحمدیہ
لیکن مشہور امیر المؤمنین فی الحدیث ہی ہے۔

سلسلہ نسب:☜

امیر المؤمنین فی الحدیث ابو عبد اللہ محمد بن اسمعیل بن ابراھیم بن المغیرہ بن بردزبة الجعفی البخاریؒ ہے۔ یاء نسبتی ہے۔جعف عرب کے ایک قبیلہ کا نام ہے۔امام بخاریؒ کے پردادا مغیرہ نے یمان جعفی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا جو اس وقت بخارا کے حاکم تھے اور پھر بخارا ہی میں سکونت پذیر ہو گئے۔ چونکہ عرب کا یہ دستور تھا کہ جو کسی خاص شخص کے ہاتھوں اسلام قبول کرتا تھا اسی سے نسبت ولاء متعلق ہو جاتی تھی۔

امام بخاریؒ  کی ولادت:☜

امام بخاریؒ ١٩٤؁ میں ١٣ شوال المکرم بعد نماز جمعہ شہر بخارا جلوہ فرماۓ عالم ہوۓ۔ایک طرف شوال المکرم ہے جو اشہرحرم  کا پہلا مہینہ اور دوسری طرف جمعہ ہے جو دوسرے دنوں پر فضیلت رکھتا ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاریؒ کی  تاریخ پیدائش بھی ممتاز خصوصیت رکھتی ہے۔

آپؒ لاغرجسم  اور میانہ قدوقامت تھے۔طبعًا صفائی پسند اور انتہائی سادہ؛ اور ڈاڑھی مبارک گنجان تھی۔چہرا انور کو دیکھتے ہی انسانی نگاہ عقیدت و محبت سے جھک جاتی تھی۔سخاوت خاندانی ورثہ میں ملی تھی۔

امامؒ کمسن ہی تھے کہ آپکے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور آپکیؒ تعلیم و تربیت کی ساری ذمہ داری والدہ محترمہ پر آ گئی۔ امامؒ کی والدہ ماجدہ بڑی عبادت گزار خدا رسیدہ خاتون تھیں۔امام بخاریؒ بچپن ہی میں کسی عارضہ کی وجہ سے نابینا ہو گئے تھے۔جس سے والدہ کو غیر معمولی صدمہ ہوا۔شوہر یعنی حضرت اسمعیلؒ کی وفات کا سانحہ ہی کچھ کم نہ تھا کہ ادھر نورچشم لخت جگر کی بینائی چلی گئی۔بہت علاج کرایا لیکن بینائی سے محرومی رہی۔

امامؒ کی والدہ نے رو رو کر بارگاہ الہی میں بیٹے کی بینایئ کے لئے دعاء کی۔ اور ایک رات حضرت ابراھیم خلیل اللہ علیہ وعلی نبینا علیہ الصلوة والسلام کو خواب میں دیکھا فرما رہے ہیں کہ تمہاری دعائیں قبول ہوگئی ہیں۔اور تیرے لخت جگر کو پھر سے نور بصارت سے نواز دیا گیا ہے۔چناچہ صبح کو دیکھا تو امامؒ کی آنکھیں درست تھیں۔بینائی واپس آگئی اور قوت بینائی ایسی ہوئی، کہ تاریخ الکبیر کا مسودہ آپ امامؒ نے چاندنی رات میں لکھا۔

آپؒ کا تعلیمی سلسلہ:☜

امامؒ پانچ سال کی عمر میں مکتب کے سپرد کر دیے گئے اور عمر کے دسویں سال میں مکتب کی تعلیم سے فارغ ہو گئے۔ امام بخاریؒ کے شاگرد فربریؒ کا بیان ہے کہ میں نے ابو جعفر بن محمد بن حاتم وراق سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے خود امامؒ سے سوال کیا ( کیف کان بدء امرک؟  )یعنی آپؒ اس مقام تک کیسے پہنچے؟ جواب میں فرمایا: کہ میں ابھی مکتب ہی میں تھا کہ میرے دل میں حفظ حدیث کے اہتمام کا القاء کیا گیا۔حالانکہ میری عمر اس وقت دس برس یا اس سے کم تھی۔چناچہ مکتب کے زمانے میں متفرق طور پر جہاں کہیں کوئی حدیث ملتی تھی تو فوراً حفظ کر لیتا تھا۔ کمسنی ہی سے حدیث نبویﷺ کا بے حد شوق تھا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ امام بخاریؒ کی تخلیق ہی علم حدیث، کے لئے کی گئی تھی۔چناچہ دس سال کی عمر میں مکتب کی تعلیم سے فارغ ہوکر درس حدیث، کے مختلف حلقوں میں شامل ہونے لگے۔

٢٠٥؁ میں یعنی گیارہ سال کی عمر میں ایک روز محدث داخلیؒ کے درس میں گئے۔جنکا حلقہ اس وقت سب سے بڑا تھا۔ محدث داخلیؒ نے کسی سے حدیث کی سند اس طرح بیان کی۔ ” حدثنا سفیان عن ابی الزبیر عن ابراھیم”  امام بخاریؒ نے ایک کونے سے عرض کیا۔ کہ سند اس طرح نہیں ہے۔کیونکہ ابو زبیر کی ملاقات ابراھیم سے ثابت نہیں‌ ہے۔

محدّث داخلی نے امام بخاریؒ کو ایک طفل مکتب سمجھ کر ڈانٹ دیا۔لیکن امام بخاریؒ نے نہایت ادب سے عرض کیا کہ اگر آپکے پاس بیاض موجود ہو تو مراجعت فرما لیں۔بات معقول تھی۔ محدث داخلیؒ اٹھے اور بیاض دیکھنے پر معلوم ہوا کہ امامؒ کی بات درست ہے۔ پھر محدث داخلیؒ نے فرمایا کہ لڑکے اصل سند کیا ہے؟؟؟ امام بخاریؒ نے کہا کہ : الزبیر ھو ابن عدی عن ابراھیم ؛ محدث داخلیؒ نے تصدیق کی۔ پھر تو امام بخاریؒ مقبول نظر ہو گئے۔ یہ امام بخاریؒ کی شہرت کا پہلا دن تھا۔اسی دن سے امام بخاریؒ کا چرچہ شروع ہو گیا۔

آپؒ کے حافظہ کے چند واقعات:☜

‌علامہ عسقلانی نے نقل کیا ہے کہ آپؒ کو بچپن ہی سے ٧٠٠٠٠  حدثیں یاد تھیں۔حاشد بن اسمعیل کا بیان ہے کہ امام بخاریؒ ہمارے ساتھ بصرہ کے مشائخ کے پاس جایا کرتے تھے۔ہم لوگ تو لکھتے تھے لیکن امام بخاریؒ کچھ نہ لکھتے تھے۔ہم لوگ طعن کے طور پر کہا کرتے تھے کل اگر تم کچھ نہیں لکھتے تو خواہ مخواہ تضیع الوقات کیوں کرتے ہیں؟

ایک دن امام بخاریؒ کو جوش آگیا اور کہا کہ تم نے بہت کہہ لیا، لاؤ دیکھو تم نے کیا لکھا ہے ؟ ہم نے ضبط کردہ تحریرات دیکھیں جو پندرہ ہزار سے کچھ زائد تھی۔امام بخاریؒ نے تمام حدیثوں کو اپنے حفظ سے فرفر سنانا شروع کر دیا، یہاں تک کہ ہم نے اپنی نوشتہ تحریروں کی ان کے حفظ سے اصلاح کی۔

بغداد شریف علوم اسلامیہ کا مرکز تھا۔حدیث کے بکثرت شیوخ وہاں موجود تھے۔جب امام بخاریؒ بغداد پہنچے تو انکا امتحان لیا گیا۔وہاں کے علماء نے سو حدیثوں کو منتخب کیا اور پہلے ہی دس آدمیوں کو دس دس حدیثیں یاد کرا دی۔اس طرح سے یاد کرائی کہ متن اور سند منقلب کر دیا۔ یعنی ایک حدیث، کی سند دوسری حدیث، کے متن کے ساتھ جوڑ دیا۔ امام صاحبؒ جب تشریف لاۓ اور مجلس منعقد ہوئی تو ان دس آدمیوں نے غلط سلط حدیثیں باری باری ہڑھنا شروع کیں۔ ہر حدیث، پر امام بخاریؒ فرماتے گئے  :۔ ” لا اعرفہ”

عوام میں تو مختلف چہ میگویئاں شروع ہو گئیں لیکن علماء اور محقیقین نے اندازہ کر لیا کہ کامل فن ہے۔ جب ہر ایک نے تمام حدیثوں کو سنا دیا تو امام بخاریؒ نے ہر ایک کو نمبر وار بلایا اور فرمایا کہ :” تم نے پہلی راویت اس طرح پڑھی یہ غلط ہے اور صحیح اس طرح ہے۔اس سے طرح ترتیب وار دسوں کی اصلاح کی،  اب سب پر واضح ہو گیا کہ یہ ماہر فن ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں کہ تعجب اس بات پر نہیں کہ انہوں نے غلطی کی اصلاح کی ؛ وہ تو حافظ حدیث، تھے انکا تو کام ہی یہی تھا۔تعجب تو حقیقیت میں اس بات پر ہے کہ غلط احادیث کو ایک مرتبہ میں سن کر ترتیب وار محفوظ رکھا۔

آپؒ کا صبر و استقلال:☜

ایک مرتبہ امام بخاریؒ کو طلب علمی کے دوران فاقہ بھی کرنا پڑا اور درخت کے پتے اور گھاس بھی کھانی پڑی، فاقہ کے وقت کپڑے بھی بیچنے پڑے مگر ان کے پایہ استقلال میں ذرا بھی تذبذب نہیں پیدا ہوا۔اور سالن تو زندگی کے اکثر حصہ میں استعمال ہی نہ کیا۔

ایک مرتبہ امام مبخاریؒ بیمار ہو گئے تو انکا قاردرہ اطباء کو دیکھایا گیا۔ تو انہوں نے کہا کہ یہ قاردرہ ان پادریوں کا معلوم ہوتا ہے ، جو کبھی سالن نہیں کھاتے۔امام بخاریؒ نے تصدیق کی اور فرمایا کہ میں نے  ٤٠ برس سے سالن نہیں کھایا ہے۔اطباء نے سالن تجویز کیا لیکن امام بخاریؒ نے اس آرام طلبی کو منظور نہیں کیا۔صرف اتنا منظور کیا کہ روٹی شکر کے ساتھ رکھ کر کھالوں گا۔ حقیقت یہ ہیکہ لا ینال العلم براحة الجسم :… یعنی عیش و آرام اور راحت طلبی میں علم نہیں ملتا۔ علم کی دولت تو نہایت ہی جدو جہد اور مشقت سے ملتی ہے”۔

احتیاط و تقوٰی :  ☜

امام بخاریؒ جس طرح علم و فضل اور کمال میں اعلی و ارفع تھے۔اسی طرح پرہیزگار واحتیاط بھی فرماتے تھے۔اور یہ بھی فرماتے تھے کہ ان شاءاللہ قیامت کے دن غیبت کے معاملہ میں کسی کا ہاتھ میرے دامن پر نہیں ہوگا۔ یا میرا دامن کسی کے ہاتھ میں نہ ہوگا۔اس سے ہم طالب علموں کو نصیحت و عبرت حاصل کرنا چاہیئے کہ جس فاضل اجل کی عظیم کتاب ہم پڑھتے ہیں ان سے تو کسی کی ایک مرتبہ بھی غیبت نہ ہوئی، اور ہم رات دن غیبت میں منہمک رہتے ہیں۔تو بھلا ہمیں کیا فائدہ ہوگا؟؟؟

علمی وقار کی حفاظت:☜

ایک مرتبہ امام بخاریؒ کو دریا کا سفر پیش آیا۔امامؒ ایک ہزار اشرفیاں لیکر بحری جہاز میں سوار ہوۓ۔ایک شخص نے عقیدت مندی کا اظہار کیا اور اتنی نیاز مندی ظاہر کی کہ امامؒ کو اس پر اعتماد ہو گیا۔اپنے پورے حالات اسکو بتا دیے اور یہ بھی بتا دیا کہ میرے پاس ایک ہزار اشرفیاں ہیں۔ایک صبح جب وہ مکار اٹھا تو اسنے رونا چلانا شروع کر دیا اور کہنے لگا کہ میری ایک ہزار اشرفیوں کی تھیلی غائب ہو گئی۔اسکے حال زار پر کشتی والوں کو رحم آ گیا۔ جہاز والوں کی تلاشی شروع کر دی۔ امامؒ  نے موقعہ دیکھکر چپکے سے وہ تھیلی سمندر میں ڈال دی۔ لیکن جب کسی کے پاس بھی تھیلی نہ نکلی تو کشتی والوں نے اسے بہت ملامت کیا۔جہاز سے اترنے کے بعد وہ امامؒ کے پاس آتا ہے اور پوچھتا ہے ” کہ حضرت وہ اشرفیاں  کیا ہوئیں؟؟؟ امامؒ نے فرمایا کہ سمندر میں گرادی ، اس نے کہا کہ اتنی بڑی رقم کا ضائع؟ امامؒ نے فرمایا کہ جس دولت ثقاوت پر میں نے اپنی پوری زندگی ختم کر دی وہی میری اصل کمائی ہے۔اسکو چند اشرفیوں کے عوض برباد نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس واقعہ سے ہمیں سبق لینا چاہیئے کہ ہم اپنے برسہاءبرس علمی وقار کو روپے پیسوں کے عوض برباد نہ کریں۔

امام بخاریؒ کا امتحان اور وفات حسرت آیات:☜

امامؒ جب نیشاپور سے وطن سے روانہ ہوئے اور بخارا والوں کو معلوم ہوا تو مسرت کی لہر دوڑ گئی۔اور کئی میل تک شامیانے اور خیمے نصب کئے گئے۔پورے شہر والے استقبال کے لئے نکلے اور بڑے تزک و احتشام اور شان و شوکت سے امام کو لیکر شہر آۓ۔

امامؒ نے بخارا میں درس حدیث شروع کیا۔تشنگان علم حدیث جوق در جوق شریک درس ہونے لگے۔مگر حاسدوں نے یہاں بھی امامؒ کا پیچھا نہ چھوڑا۔جن کے مشورے سے خالد بن احمد ذہلی والیئ بخارا نے امامؒ کے پاس درخواست بھیجی؛ کہ آپ امام بخاریؒ  کے دربار شاہی میں آ کر مجھے اور میرے صاحبزادوں کو درس بخاری شریف اور تاریخ کا درس دیں۔لیکن امامؒ نے اسی قاصد کی زبانی کہلا بھیجا کہ میں علم کو سلاطین کے دروازوں پر لے جاکر ذلیل نہیں کرونگا۔جسے پڑھنا ہو میرے پاس آکر بیٹھے۔

والئی بخارا نے دوبارہ کہلا بھیجا اگر تشریف نہیں لا سکتے تو شہزادوں کے لیے کوئی مخصوص  وقت متعین  کر دے تاکہ انکے ساتھ دوسرے لوگ شریک نہ ہوں۔ امامؒ نے اس  بات کو بھی پسند نہیں فرمایا اور فرمایا کہ احادیث رسولﷺ پوری امت کے لیے یکساں ہیں۔اسکی سماعت سے کسی کو محروم نہیں کر سکتا۔اگر میرا یہ جواب ناگوار ہو تو حکمًا میرا درس روک دیا جائے۔تاکہ میں خدا کے دربار میں عذر پیش کر سکوں۔

اس جواب سے حاکم بخارا سخت ناراض ہو گیا۔حاسدوں نے حاکم وقت کے اشارے پر امامؒ کو دین و عقائد کے بارے میں متہم کیا۔بدعتی ہونے کا لزام لگایا۔پھر حاکم نے بخارا سے نکلنے کا حکم دے دیا۔امامؒ نے تنہائی کبیدہ ہو کر اپنے مخالفین کے لیے بد دعا کی۔ "اے اللہﷻ جس طرح اس امیر نے مجھے ذلیل کیا ہے۔اسی طرح انکو اپنی ذات اور اولاد اور اپنی اہل کی بے عزتی و ذلت دکھا۔”

چناچہ ایک ماہ بھی نہیں گزرا کہ خلیفة المسلمین اس امیر کی وجہ سے سخت ناراض ہو کر اسکو معزول کر دیا اسکی جگہ دوسرا حاکم بھیجا اور حکم دیا کہ معزول حاکم کا منھ کالا کرکے گدھے پر سوار کرکے پورے شہر میں اسکی تذلیل کرو۔ پھر قید کر دیا گیا جہاں وہ انتہائی ذلت و رسوائی سے چند دن گزار کر مر گیا۔ نیز حاکم  بخارا کے معاونین حریث بن ورقاء وغیرہ مختلف بلاؤں میں مبتلاء ہو کر ہلاک ہو گئے۔

بہر حال امام بخاریؒ وہاں سے نکل کربیلند پہنچے۔ لیکن امامؒ کے متعلق وہاں بھی اختلاف ہوا۔اس لیے وہاں قیام مناسب نہیں سمجھا۔اتنے میں اہل سمر قند نے آپؒ کو دعوت دی، آپؒ نے قبول فرما لی۔اور سمرقند کا بھی ارادہ فرما لیا۔لیکن راستہ میں خرتنگ تھا جہاں کچھ اعزاء و اقرباء تھے۔ ماہ مبارک کی وجہ سے وہیں قیام کیا اسی دوران سمرقند سے اطلاع آئی کہ یہاں فضاء سازگار نہیں ہے یہاں بھی لوگوں میں اختلاف ہوگیا ہے۔اس لئے امامؒ نے عشرۀ آخیر میں تہجد کی نماز میں دعاء کی۔ "خدایا میرے اوپر زمین باوجود وسعت کے تنگ ہوگئی ہے۔اس لیے مجھے اپنے پاس بلا لے”

اہل سمدمرقند نے تحقیق کیا تو معلوم ہوا کہ الزام غلط ہے۔پھر متفقہ طور سے دعوت پیش کی۔امامؒ نے سواری طلب کی دو آدمی کے سہارے چند قدم چلے تھے فرمایا کہ ضعف بڑھتا جا رہا ہے۔پھر کچھ دعا کی اور لیٹ گئے۔جسم اقدس سے پسینہ نکلنا شروع ہو گیا اور آپؒ نے جان۔۔۔۔جان آفریں کے سپرد کر دی۔ اس طرح تیرہ دن کم باسٹھ سال کی زندگی گزار کر شب عید الفطر یکم شوال کی رات میں علم و فضل کا عظیم آفتاب غروب ہو گیا۔ جسکے علم و فضل کی روشنی سے بخارا،سمرقند ، بغداد، اور نیشاء پور کے بے شمار عوام و خواص اپنے دل و دماغ کو منور کر رہے تھے۔ عیدالفطر کے دن شنبہ کے روز بعد نماز ظہر مقام خرتنگ میں  اس مجسمہ نورانی گنجینہ  کرامت کو سپر خاک کیا۔

کرامت:☜

دفن کے بعد آپؒ کی قبر مبارک سے ایک مدت تک خوشبو آتی رہی۔ لوگ دور ، دور سے آکر مٹی اٹھاکر لے جاتے جس سے گڑھا ہو گیا تھا۔اس لیت قبر کی حفاظت  کے لیے احاطہ کیا گیا۔ مگر پھر بھی یہ سلسلہ جاری رہا اور لوگ احاطہ کے باہر سے مٹی لے جانے لگے۔بالآخر متعلقین میں ایک بزرگ کی دعاء سے یہ خوشبو بند ہو گئی۔

Advertisements