حضرت امام حسن کے اقوال

  • میں خود کو بالکل اللہ تعالی پر چھوڑتا ہوں میں کسی ایسی بات کی تمنا ہی نہیں کرتا جو اس حالت کے خلاف ہو جو اللہ تعالی میرے لئے اختیار کرتا ہو۔
  • میں ایسی جگہ جا رہا ہوں جہاں اب سے پہلے کبھی نہیں گیا تھا اور میں ایسی مخلوق کو دیکھ رہا ہوں جسے میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
  • تمہیں اپنے اندرونی اسرار کا محفوظ رکھنا لازمی ہے اس لئے کہ اللہ تعالی ضمیروں کے راز کا جاننے والا ہے۔
  • جوشخص قدر خیر و شر من اللہ پر ایمان نہ لائے وہ کافر ہے اور جو اپنے افعال مصیبت کو خدائے تعالی کی مشیت کی طرف منتسب کرے وہ فاجر ہے۔
  • اپنی تعریف زیادہ کرنا ہلاکت کا باعث ہے۔
  • تمہاری عمر برابر گھٹتی جا رہی ہے جو کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے اس سے کسی کی مدد کر جاو۔
  • مومن وہ ہے جو زاد آخرت مہیا کرے اور کافر وہ ہے جو دنیا کے مزے اڑانے میں مشغول ہو۔
  • اچھے اخلاق دس ہیں۔ زبان کی سچائی، حقوق العباد، احسان کا بدلہ، سائل کو دینا، صلہ رحم، مہمان نوازی، باطل سے جنگ کے وقت حملہ میں شدت، پڑوسی کی حفاظت اور سب سے بڑھ کر شرم و حیا۔
  • جو لوگ تمہارے دوست بننا چاہتے ہیں ان کے دوست بنو، عامل کہلاو گے۔
  • عادل بننا چاہتے ہو تو جو شخص تمہارا دوست بننا چاہے اس کے دوست بن جاؤ۔
  • عیب کا چھپانا اور آبرو کی زینت برقرار رکھنا خاموشی سے ممکن ہے۔
  • آخرت کا بہترین توشہ تقویٰ اور پرہیز گاری ہے۔
  • تین باتیں آدمی کو ہلاک کرتی ہیں۔حسد، حرص اور تکبر۔
  • عابد وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی ہو۔
  • حرص سے آدمی مصیبتوں میں پھنس جاتا ہے۔
  • مسلمان وہ ہے جو پڑوسی پر احسان کرے۔
  • تکبر سے دین اور ایمان جاتا ہے چنانچہ شیطان تکبر کی وجہ سے مردود اور ملعون ہوا۔
  • حسد ایک آگ ہے جو انسان کو جلاتی ہے اور دوسروں کو عداوت پر ابھارتی ہے۔
  • ایماندار وہی ہے جو آخرت کے لئے توشہ جمع کرے۔
  • چپ رہنے والا آرام سے رہتا ہے اور سلامتی اس کا ساتھ دیتی ہے۔
  • جس کے پاس عقل نہیں اس کے پاس ادب نہیں، جس کے پاس ہمت نہیں اس کے پاس کامیابی نہیں اور جس کے پاس دین نہیں اس کے پاس حیا نہیں۔



Close