تعارف:☜

آپؒ بحر شریعت و طریقت کے تیراک اور رموز حقیقت کے شناسا تھے۔فرست وذکات میں ممتاز اور تفقہ فی الدین میں یکتاۓ روزگار اور پورا عالم آپؒ کے محاسن اوصاف سے بخوبی واقف ہے۔آپؒ کی ریاضت و کرامت کا احاطہ ممکن نہیں۔

علمی مرتبہ:☜

آپؒ نے تیرہ سال کی عمر ہی میں بیت اللہ میں فرما دیا تھا، جو کچھ پوچھنا چاہو مجھ سے پوچھ لو، اور پندرہ سال کی عمر میں فتویٰ دینا شروع کر دیا تھا۔حضرت امام احمد ابن حنبلؒ کی آپؒ بہت خدمت و احترام کیا کرتے تھے۔اور جب کسی نے یہ اعتراز کیا کہ آپؒ جیسے اہل علم کے لیے ایک کم عمر شخص کا مدارت کرنا مناسب نہیں۔ آپؒ نے جواب دیا کہ میرے پاس جس قدر علم ہے اسکے معانی اور مطالب سے وہ مجھ سے زیادہ باخبر ہیں۔ اور اسی کی خدمت سے مجھے احادیث کے حقائق معلوم ہوتے ہیں۔اور اگر وہ پیدا نہ ہوتا تو ہم علم کے دروازے پر ہی کھڑے رہ جاتے۔اور فقہ کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند رہ جاتا۔اور اس دور میں وہ اسلام کا سب سے بڑا محسن ہے۔وہ فقہ، معانی، اور علوم لغت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔حضورﷺ کے اس قول کے مطابق کہ ہر صدی میں ایک ایسا شخص پیداء ہوگا کہ اہل علم اس سے علم حاصل کریں گے اور اس صدی کی ابتداء امام شافعیؒ سے ہوئی۔حضرت سفیان ثوریؒ کا قول ہے کہ امام شافعیؒ کے دور میں ان سے زیادہ دانشور کوئی نہیں تھا۔

حاضر دماغی:☜

آپؒ کی والدہ بہت بزرگ تھیں۔ لوگ اپنی امانتیں آپؒ کے پاس رکھواتے تھے۔ایک مرتبہ دو آدمیوں نے کپڑوں سے بھرا صندوق آپؒ کے پاس  بطور امانت رکھوایا۔کچھ وقت بعد ان میں کا ایک آدمی آ کر وہ صندوق لے گیا۔پھر کچھ عرصہ بعد دوسرا آدمی آکر صندوق طلب کرتا ہے۔ آپؒ کی والدہ نے کہا کہ میں آپکے ساتھی کو صندوق دے چکی ہوں۔اس نے کہا کہ جب  ہم دونوں نے ساتھ رکھوایا تھا تو آپ نے میری موجودگی کےبغیر اس کو صندوق کیوں دے دیا؟ اس جملے سے آپؒ کی والدہ کو بہت ندامت ہوئی۔

لیکن اس وقت امام شافعیؒ بھی گھر پر تشریف لے آئے اور والدہ سے کیفیت معلوم کرکے اس شخص سے امام شافعیؒ نے کہا کہ تمہارا صندوق موجود ہے تم تنہا کیسے آ گئے۔اپنے ساتھی کو ہمراہ کیوں نہیں لائے ہو؟ پہلے اپنے ساتھی کو لے کر آؤ۔یہ سن کر وہ شخص ششدر(حیران) رہ گیا۔

خلیفہ ہارون رشید اور اسکی بیوی میں کسی بات پر تکرار ہو گئی تو زبیدہ نے کہا کہ تم جہنمی ہو۔تو ہارون رشید نے کہا کہ اگر میں جہنمی ہوں تو تیرے اوپر طلاق ہے۔یہ کہہ کر بیوی سے کنارہ کشی اختیار کر لی لیکن محبت کی شدت کی وجہ سے جدائی کی تکلیف برداشت نہ ہو سکی۔تو تمام علماء کو بلا کر پوچھا کہ  کیا میں جہنمی ہوں کہ جنتی؟؟؟

لیکن کسی کے پاس اسکا جواب نہ تھا لیکن امام شافعیؒ بھی کم سنی کی وجہ سے ان علماء کے ساتھ ہی تھے۔چناچہ آپؒ نے فرمایا کہ اگر اجازت ہو تو اسکا جواب دوں۔اور اجازت بعد خلیفہ نے پوچھا کہ مجھے آپکی ضرورت ہے یا میری آپکو؟خلیفہ نے کہا کہ مجھے آپؒ کی ضرورت ہے۔یہ سن آپؒ نے کہا کہ تم تخت سے نیچے آ جاؤ کیونکہ علماء کا مرتبہ تم سے بلند ہے۔چناچہ اس نے نیچے آکر آپؒ کو تخت پر بیٹھایا پھر آپؒ سے سوال کیا۔کہ کبھی تمہیں ایسا موقعہ بھی ملا ہے کہ گناہ پر قادر ہونے کے باوجود خوف الہی سے گناہ سے باز رہے ہو؟ اس نے قسمیہ عرض کیا کہ ہاں ایسے موقع بھی آۓ ہیں۔آپؒ نے فرمایا کہ تم جنتی ہو۔اور جب علماء اکرام نے اسکی حجت طلب کی تو فرمایا کہ اللہﷻ کا ارشاد ہے کہ قصد کے بعد جو خوف خدا سے گناہ سے رک گیا اسکا ٹھکانہ جنت ہے۔یہ سن کر تمام علماء نے داد دیتے ہوۓ کہا کہ جسکا کم سنی میں یہ عالم ہو تو خدا جانے جوانی میں اس کے کیا مراتب ہوں۔

ادب و احترام:☜

آپؒ سادات کی بہت تعظیم کرتے تھے۔ایک مرتبہ دوران سبق  سیدوں کے کم سن بچے کھیل کود رہے تھے۔اور جب وہ نزدیک آتے تو تعظیمًا کھڑے ہو جاتے۔ اور دس بارہ مرتبہ یہی صورت پیش آئی۔

ایک مرتبہ کسی ریئس نے کچھ رقم اہل تقوٰی لوگوں میں تقسیم کرنے کے لئے مکہ معظمہ ارسال کی اور اس میں سے کچھ رقم لوگوں نے پیش کی۔لیکن آپؒ نے سوال کیا کہ یہ رقم کس کی ہے اور کن لوگوں میں تقسیم کرنے کے لئے بھیجی گئی ہے؟؟؟ جواب ملا کہ اہل تقوٰی اور غریب لوگوں میں تقسیم ہونے کے لئے آئی ہے۔آپؒ نے فرمایا کہ میں تو اہل تقوٰی نہیں ہوں۔

کرامت:☜

حاکم روم کچھ رقم سالانہ ہارون رشید کے پاس بھیجا کرتا تھا۔لیکن ایک مرتبہ چند راہبوں کو بھی بھیج کر یہ شرط لگا دی کہ اگر آپکے دینی علماء مناظرہ میں ان راہبوں سے جیت گئے تو جب  تک تو میں اپنی  رقم جاری رکھونگا ورنہ بند کر دونگا۔چناچہ خلیفہ نے تمام علماء کو مجتبع کرکے امام شافعیؒ کو مناظرہ پر آمادہ کر دیا۔اور آپؒ نے پانی کے اوپر مصلٰی بچھا کر فرمایا کہ یہاں آ کر مناظرہ کرو۔یہ صورت حال دیکھ کر سب ایمان لے آۓ اور جب اسکی اطلاع حاکم روم کو پہنچی تو حاکم روم نے کہا کہ اچھا ہوا اگر وہ شخص آ جاتا تو پورا روم مسلمان ہو جاتا۔

آپؒ بیت اللہ کے اندر چاند کی روشنی میں  مصروف مطالعہ تھے۔تو لوگوں نے کہا کہ اندر شمع کی روشنی میں مطالع کیجیے۔لیکن آپؒ نے جواب دیا کہ وہ روشنی بیت اللہ کے لئے مخصوص ہے۔اس میں مطالع کرنا میرے لیے جائز نہیں۔

آپؒ حافظ نہیں تھے اور کچھ لوگوں نے خلیفہ سے شکایت کر دی کہ امام شافعیؒ حافظ نہیں ہیں۔تو اس نے بطور آزمائش آپؒ کو رمضان میں امام بنا دیا۔چناچہ آپؒ دن بھر میں ایک پارہ حفظ کرکے رات کو  تراویح میں سنا دیا کرتے تھے۔اس طرح پورے ایک ماہ میں مکمل قرآن کریم حفظ کر لیا۔

ایک حسینہ آپؒ پر فریفتہ ہو گئی اس سے نکاح کرکے صرف صورت دیکھنے کے بعد اسکا مہر اداء کرکے طلاق دے دی۔ جب امام شافعیؒ نے امام احمد ابن حنبلؒ سے دریافت کیا کہ آپؒ کے نزدیک عمدًا نماز ترک کر دینے والا کافر ہے۔تو اسکے مسلمان ہونے کی کیا شکل ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نماز اداء کرے۔امام شافعیؒ نے جواب دیا کہ کافر کی نماز ہی درست نہیں ہے۔یہ سن کر آپؒ ساکت رہ گئے۔

وفات:☜

عالم نزع میں آپؒ نے وصیت نامہ تحریر فرما دیا تھا اور زبانی بھی لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ فلاں شخص سے کہہ دینا کہ مجھے غسل دے۔لیکن وفات کے بہت عرصہ بعد وہ شخص مصر سے واپس آیا تو لوگوں نے وصیت نامہ اور زبانی وصیت اس تک پہنچا دی۔چناچہ وصیت نامہ میں تحریر تھا کہ میں ستر ہزار کا مقروض ہوں۔یہ پڑھ کر اس شخص نے قرض اداء کر دیا۔اور لوگوں سے کہا کہ غسل سے آپؒ کی یہی مراد تھی۔

انتقال کے بعد آپؒ کی بشارت:☜

انتقال کے بعد رفع بن سلیمان نے آپؒ کو خواب میں دیکھ کر پوچھا کہ خدا کا آپؒ کے ساتھ کیا معاملہ رہا۔فرمایا کہ سونے کی کرسی پر بیٹھا کر موتی نچھاور کیے گئے اور اپنی رحمت بے کراں سے مجھے نواز دیا۔

Advertisements