کھیلوں کی اہمیت پر مضمون

بزرگوں نے کہا ہے کہ ایک صحت مند دماغ کے لئے ایک صحت مند جسم کا ھونا بہت ہی ضروری ہے کیونکہ صحت مند جسم کے اوپر ہی صحت مند دماغ ملک سکتا ہے۔ یہ بات بالکل ٹھیک ہے۔ اگر آدمی کی صحت اچھی نہ ہوگی، جسم بیمار بیماریوں کا گھر ہوگا تو قدرتی بات ہے کہ وہ آدمی بے چین ہو گا اسے دماغی سکون حاصل نہ ہوگا۔ جب دماغی سکون حاصل نہ ہو گا تو ظاہر ہے کہ وہ آرام سے کچھ سوچ بھی نہیں سکے گا۔ اسی وجہ سے بزرگوں کا قول ہے کہ ہر انسان کو اپنی جسمانی اور دماغی صحت برقرار رکھنے کے لئے کوئی نہ کوئی کھیل ضرور کھیلنا چاہیے۔

بچپن میں کھیل کود کے ذریعے بچے کا فی کسرت یعنی ورزش کر لیتے ہیں۔ پڑھائی کے دنوں میں جہاں پڑھائی ضروری ہے وہاں کھیل کود بھی از حد ضروری ہے۔ ان دونوں کا توازن قائم رکھنا چاہیے اس سے نہ صرف بچے اچھی طرح مطالعہ کر سکتے ہیں بلکہ اپنی صحت کو برقرار بھی رکھ سکتے ہیں۔

زندگی کی جدوجہد میں وہ لوگ ہی کامیاب ہوتے ہیں جن کی صحت اچھی ہوتی ہے۔ بعض طلباء ہر وقت کتاب کے کیڑے بنے رہتے ہیں اور کھیل کود کی طرف دھیان نہیں دیتے ان کی صحت کمزور ہو جاتی ہے اور بعض کی تو نظر بھی کمزور ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے بچپن میں ہی انہیں عینک لگ جاتی ہے۔

یہ طلبہ اگرچہ امتحان میں اچھی پوزیشن حاصل کر لیتے ہیں مگر بڑے ہو کر ترقی نہیں کرسکتے۔ وہ محنت سے جی چرانے رکھتے ہیں کیونکہ صحت انہیں سخت محنت کی اجازت نہیں دیتی۔ اس کے برعکس جو طلبہ اور طالبات اپنی سکولی پڑھائی کے دوران کسرت یعنی ورزش کرتے ہیں یا کھیل کود میں حصہ لیتے ہیں وہ زندگی کی جدوجہد میں آسانی سے کود سکتے ہیں اور آنے والے دنوں میں سخت محنت کر کے ترقی کرسکتے ہیں۔

کھیل کود کا پہلا فائدہ

ورزش کے مقابلہ میں کھیل کود زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس سے سارے جسم کی ورزش ہو جاتی ہے اور ساتھ ہی دوستوں کے ساتھ مل کر کھیلنے کی وجہ سے ایک حد تک دل بہلاوا بھی ہو جاتا ہے۔ لہذا اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ کھیل کود کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انسان کی صحت بچپن میں اچھی ہو جاتی ہے اور وہ زندگی میں محنت مشقت کے قابل ہوجاتا ہے۔


کھیل کود کا دوسرا فائدہ



کھیل کود کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ یہ ہمیں ڈسپلین میں رہنا سکھاتا ہے اور کھیل کے کچھ اصول اور قواعد ہوتے ہیں۔ کھلاڑی ان اصولوں پر چلنے چلتے ہیں۔ جہاں کسی نے اصول توڑا ریفری نے اسی وقت سیٹی بجا کر اسے بتا دیا کہ فلاں ٹیم کے ایک ممبر نے اصول کے خلاف ورزی کی ہے۔ جو قوم ڈسپلن چھوڑ دیتی ہے وہ تباہ ہو جاتی ہے اور اس کی ترقی رک جاتی ہے۔

زندگی کو شروع میں ہی اگر لڑکے اور لڑکیاں کھیل کود کے ذریعے ڈسپلن یعنی نظم و ضبط کے پابند ہونا سیکھ جائیں تو یہ عادت زندگی بھر قائم رہتی ہے اور انسان کھیل کود کے بعد زندگی کے میدان میں بھی ڈسپلن کا پابند ہو جاتا ہے۔ اس لیے سکولوں میں کھیل کود کے پیرڈ کا ہونا بہت ضروری قرار دیا گیا ہے تاکہ طلباء تعلیم کے ساتھ ساتھ ڈسپلن بھی سیکھ سکیں۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ ڈسپلن تعلیم کا ایک اہم جز ہے تو غلط نہیں ہوگا۔

کھیل کود کا تیسرا فائدہ

کھیل کود کا تیسرا فائدہ باہمی تعاون ہے۔ کسی بھی ٹیم کا کوئی ممبر اکیلا کوئی کھیل نہیں کھیلتا بلکہ وہ اپنے ساتھی کھلاڑیوں کی مدد سے دوسری ٹیم کو ہرانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کوشش میں ٹیم کے سارے ممبر ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور باہمی تعاون کی وجہ سے ہی فتح حاصل کرتے ہیں۔

اگر بچپن میں ہم باہمی تعاون کا جذبہ اپنے اندر پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ بات ہمیں زندگی میں فائدہ دیتی ہے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ کوئی بھی انسان زندگی کی جدوجہد میں اکیلا حصہ نہیں لے سکتا۔ اس سلسلے میں اسے اپنے دوستوں کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔انسان کو زندگی میں مدد تب ہی ملتی ہے جب وہ دوسروں کے کام آئے۔ یہ اصول بھی ہے اگر ہم دوسروں کے کام آئیں گے تو ظاہر ہے کہ دوسرے بھی ہمارے کام آئیں گے۔ کھیل کود کے دوران ہمارے اندر یہ جذبہ آہستہ آہستہ پیدا ہوتا ہے اور پختہ ہوتا جاتا ہے۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ کھیل کود ہمیں جسمانی طور پر ہی مضبوط نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے آگے بڑھنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔

کھیل کود کا چوتھا فائدہ

کھیل کود کا چوتھا فائدہ یہ ہے کہ ہم زندگی کی جدوجہد کے وقت کامیابیوں کے ساتھ ساتھ ناکامیوں کو بھی برداشت کرنا سیکھ جاتے ہیں۔ جب دو ٹیمیں آپس میں مقابلہ کرتی ہیں تو ظاہر ہے کہ ایک وقت میں دونوں فتح یاب نہیں ہوتیں۔ ایک ٹیم جیت جاتی ہے اور دوسری ٹیم ہار جاتی ہے۔ اس کے باوجود دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کو مبارکباد دیتی ہیں۔ ہارنے والی ٹیم کے ممبر خندہ پیشانی سے اپنی ہار کو تسلیم کرتے ہوئے دوسری ٹیم کے ممبران کی تعریف کرتے ہیں انہیں مبارکباد دیتے ہیں اور پھر واپس لوٹ کر دوبارہ پریکٹس کرتے ہیں تاکہ آنے والے مقابلہ میں جیت حاصل کر سکیں۔

یہ بات آہستہ آہستہ ہماری عادت بن جاتی ہے اور جب ہم بڑے ہوتے ہیں تو اس وقت زندگی میں اگر مشکلات بھی آتی ہیں تو اسے خندہ پیشانی سے تسلیم کرتے ہیں اور وہ ان مشکلات پر حاوی ہونے کے لیے دوبارہ کوشش کرتے ہیں۔ ناکام ہوجائیں تو حوصلہ نہیں ہارتے بلکہ دوبارہ تیاری کر کے جیت حاصل کرنے کے لئے میدان عمل میں کود پڑتے ہیں۔

زندگی میں اپنی ناکامی کو خندہ پیشانی سے قبول کرنا اور اپنی منزل پر پہنچنے کے لئے دوبارہ کوشش کرنا ایک بہت ہی اچھی اور قابل تعریف عادت ہے اور یہ عادت کھیل کود کے ذریعے ہم آسانی سے پیدا کر سکتے ہیں۔

کھیل کود کا پانچواں فائدہ

جب انسان مطالعہ کرتا ہے یا جسمانی یا دماغی محنت کرتا ہے تو اس کا جسم تھک جاتا ہے۔ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دل بہلاوا اس تھکاوٹ کا بہترین علاج ہے۔ بعض لوگوں کا تو یہ خیال ہے کہ دماغی یا جسمانی محنت کے بعد ہمارے جسم میں ایک قسم کا زہر پیدا ہو جاتا ہے اور جب ہم دل بہلاوا کرتے ہیں تو اس کی وجہ سے ہمیں ایک خوشی حاصل ہوتی ہے اور یہی خوشیاں ہمارے جسم کے اندر پیدا ہوئے زہر کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

بچپن میں دل بہلاوے کا سب سے اچھا ڈھنگ کھیل کود میں حصہ لینا ہے۔ اس سے خوشی حاصل ہوتی ہے، ورزش بھی ہو جاتی ہے اور دل بہلاوا بھی ہو جاتا ہے۔ اس سے خون کی گردش تیز ہو کر ہر حصہ تک آکسیجن کو پہنچاتی ہے جس سے جسم سڈول، خوبصورت اور صحت مند ہو جاتا ہے۔ انسانی چہرہ پر رونق آجاتی ہے، اداسی دور ہو جاتی ہے اور انسان ہنس مکھ ہوجاتا ہے۔ اس لیے عام دیکھا گیا ہے کہ کھلاڑی ہنس مکھ اور حاضر جواب ہوتے ہیں اور یہ محض کھیل کود کی وجہ سے ہوتا ہے۔



کھیل کود کا چھٹا فائدہ

کھیل کود کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ انسان قدرت کے اصول کے مطابق چلنا سیکھ جاتا ہے۔ موسم کا حال دیکھیں تو باری باری گرمی، سردی، بہار اور برسات کا موسم آتا ہے۔ دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن آتا ہے۔ کھیتوں میں گندم کے بعد کوئی دوسری فصل اور پھر اس فصل کے بعد کھیت میں گندم بوئی جاتی ہے۔ ایک ہی فصل کاٹ کر اس میں وہی فصل دوبارہ بو دی جائے تو پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ قدرت حالات کو ایک جیسا نہیں رکھتی بلکہ اس میں تبدیلی لاتی ہے۔

کھیل کود کا سکولوں میں ضروری ہونے سے ہم قدرت کے اصول پر چلتے ہیں۔ پڑھائی کر لیتے ہیں اس کے بعد کھیل کود کی باری آتی ہے اور پھر مطالعہ کی باری آتی ہے۔ اس طرح بدل بدل کر کام کرنے سے کام کی رفتار بڑھتی ہے۔ اسکول میں کھیل کود ضروری ہونے اور اس پر عمل ہونے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طلباء میں پڑھائی کی رفتار بڑھتی ہے اور اس کے ساتھ ہی کھیل کود کا شوق بڑھنے سے لوگوں کی صحت پر خوشگوار اثر ہوتا ہے۔

اس لیے ہماری رائے میں سارے طلباء کو اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیل کود میں بھی حصہ لینا چاہیے اور باقاعدہ طور پر ہر روز کچھ نہ کچھ وقت نکال کر کسی نہ کسی کھیل میں حصہ لینا چاہیے۔ امتحان کے دنوں میں بھی کوئی معمولی سی ورزش کرنی چاہیے یا ایک آدھ گھنٹہ کھیل کے میدان میں جا کر اپنا دل بہلانا چاہیے۔ اس سے وہ دوبارہ تازہ دم ہوکر صحتمند ڈھنگ سے دہرائی کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

Close