اتفاق پر ایک مضمون

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عالمگیر پیغام بنی نوع انسان تک پہنچایا کیا اس نے تمام مسلمانوں کو محبت اخوت اور یگانگت کے ایک مظبوط رشتے میں پرو دیا تھا اور کسی عجمی کو کسی غیر عجمی کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فوقیت و فضیلت باقی نہ رہ گئی تھی۔آپ صلی اللہ وعلی وسلم نے تمام مسلمانوں کو بلاامتیاز قوم، ملک یا نسل بھائی بھائی قرار دیا۔

مسلمانوں میں یہی اتحاد اور یگانگت کا جذبہ تھا جس نے انھیں دنیا کی ایک ناقابل تسخیر قوت بنا دیا۔صلیبی جنگوں میں کفار کو شرمناک اور پے در پے شکستوں اور ہزیمتوں کا سامنا کرنا پڑا۔یوں یورپ کے بیشتر علاقے، جن میں سپین اور یوگو سلاویہ وغیرہ شامل تھے، مسلمانوں کے زیرنگیں آ گئے۔دوسری طرف اسلامی سلطنت کی حدود پھیل کر سندھ (ہندوستان) تک پھیل گئی اور آدھی سے زیادہ دنیا پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہو گئی۔

یہودونصاری کی سازش

یہودونصاری اپنی مسلسل شکستوں کے بعد یہ سمجھ چکے تھے کہ مسلمانوں کی اصل طاقت خلافت کا وجود ہے، جس کے تحت تمام مسلمان متحد ہیں اور ایک مضبوط رشتے سے منسلک ہیں۔اس دوران میں آخری تاجدار خلیفہ المسلمین سلطان عبد المجید کے عہد میں ترکی کی حالت کمزور تھی۔پہلی جنگ عظیم میں ترکی نے جرمنی کے ساتھ دیا اور جرمنوں کی شکست کے بعد اتحادیوں انگریز، فرانس اور امریکہ وغیرہ نے ترکی سے انتقام لینے کے لئے ایک انگریز کرنل لارنس آف عریبیا کے ذریعے عرب ممالک کو ابھارا پھر خود بھی ان کی آزادی کو تسلیم کرکے سعودی عرب, شام, عراق, فلسطین اور شرقی اردن وغیرہ نئی اور خود مختار سلطنتیں قائم کرکے سلطنت اسلامیہ ترکی کا شیرازہ بکھیر دیا۔

ہندوستان کے مسلمانوں نے خلافت کی برکت کو قائم رکھنے کے لیے دوسری جنگ عظیم کے بعد تحریک خلافت کی لیکن ماڈرن ترکی کے سربراہوں نے خلیفتہ المسلمین بننا پسند نہ کیا اور یہ تحریک دم توڑ گئی اور مسلمانوں کا مرکز جیسا بھی تھا، ختم ہوگیا۔اس طرح مسلمانوں میں موجود اتحاد و یگانگت مکمل طور پر دم توڑ گئی۔

اتحاد المسلمین کی کوششیں

فلور اور میں جمال الدین افغانی، شیخ محمد عبدہ اور امیر سنوسی وغیرہ نے المسلمین کے لیے اپنے طور پر کوششیں کی لیکن وہ اس سلسلے میں کوئی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔برصغیر میں علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ بھی مسلمانوں میں اتحاد کے لئے بڑے حامی تھے۔جس کا اظہار انہوں نے اپنے انقلابی شاعری میں جابجا کیا۔اسی طرح محمد علی جوہر اور قائد اعظم رحمہ اللہ علیہ کے مسلمانوں میں اتحاد کے خواہشمند رہے۔لیکن اس وقت کے سربراہان مملکت برطانیہ، روس، امریکہ اور فرانس سے خائف تھے اور وہ اس کے لیے بالکل تیار نہ تھے۔

اتحاد کی نئی کوشش

ستمبر 1969ء میاسا ممالک کی ایک نئی تنظیم کی بنیاد رکھی گئی اور 22 تا 25 ستمبر 1969ء کو مراکش کے صدر مقام رباط میں پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت مراکش کے بادشاہ شاہ حسن نےکی۔جس میں مندرجہ ذیل اقدامات کی منظوری دی گئی:

-مسلمان ممالک کا ایک اسلامی بلاک قائم کیا جائے۔

-تیل رکھنے والے دولتمندی ممالک سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے لئے اقدامات کریں-

-سود سے پاک شریعت کے مطابق بینکاری نظام قائم کیا جائے۔

-تمام اسلامی ممالک ملکر مشترکہ سلامی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری قائم کریں۔

-اسلامی ممالک مشترکہ صنعتی منصوبے قائم کریں۔

-ہر چار سال بعد اسلامی ممالک کے سربراہوں کی کانفرنس طلب کی جایا کرے۔

-مسلم ممالک کے تمام وزراء خارجہ کا ہر سال کم ازکم ایک اجلاس زرود بلایا جائے۔

عسائ ممالک میں موجود وسائل

اگر ہم بنظر غائر اسلامی ممالک میں موجود تمام تر وسائل کا جائزہ لیں تو اس میں شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ اگر آج بھی مسلمان حقیقی طور پر متحد ہوجائے تو یہ دنیا کی سب سے بڑی قوت بن کر ابھر سکتے ہیں۔

اسلامی ممالک کے صرف خلیجی ممالک سے تعلق رکھنے والی ریاستوں کے پاس دنیا کے تیل کے 70فیصد ذخائر موجود ہیں اور باقی ممالک کے پاس افرادی قوت اور ذہنی صلاحیت وافر مقدار میں موجود ہے۔خود پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو اللہ تعالی کے فضل وکرم سے مسلم ممالک کی اصلحہ کی ضروریات کو بطریق احسن پورا کرسکتا ہے اور انفرمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی ان کی مقدور بھر مدد کر سکتا ہے۔کسی طرح ایران بھی متعدد شعبوں میں عالم اسلام کے لیے ایک قیمتی سرمایہ بن سکتا ہے دوسرے مسلم ممالک بھی اپنے اپنے رنگ میں امت مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی اور مضبوطی کے لیے قابل قدر خدمات سرانجام دے سکتے ہیں

لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ آپس میں چھوٹے چھوٹے اختلافات کو طے کر کے اختتام پر اکٹھے ہوں اور ایک سیسہ پلائی دیوار بن جائیں۔اگر وہ اسی طرح آپس میں کٹے پھٹے رہے تو پھر اس سے زیادہ سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔اگر آج مسلم ممالک قرون وسطیٰ والے اتحاد کا مظاہرہ نہیں کریں گے تو پھر بقول اقبال:

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

Close