تعارف

عمران احمد خان نیازی وزیر اعظم پاکستان  ۵ اکتوبر ۱۹۵۲ کو پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کا پٹھانوں کے ایک قبیلے نیازی سے تعلق ہے۔ ان کے والد کا نام اکرام اللہ خان نیازی اور ماں کا نام شوکت خانم تھا۔ وہ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے ہیں۔

تعلیم و کرئیر

لڑکپن میں عمران خان خود میں گم رہنے والے شرمیلے انسان تھے۔ ابتدائی تعلیم لاہور سے ہی حاصل کی اور بڑا خاندان ہونے کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم کے لیے انھیں برطانیہ بھیج دیا گیا۔ وہاں سے انھوں نے سیاسیات ، فلسفہ اور معاشیات میں مہارت حاصل کی۔ ۱۹۷۴ میں انھوں نے کرکٹ جوائن کی اور اوکسفورڈ یونی ورسٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان مقرر ہوئے۔

عمران خان نے پھر قومی ٹیم کو جوائن کیا۔ وہ اپنی بہترین پرفارمنس دیتے رہے، مگر بعد ازیں انھوں نے ریٹائر مینٹ کا اعلان کیا مگر صدر ضیاء الحق کے اصرار پر انھوں نے دوبارہ ٹیم کی کپتانی سنبھال لی اور جی توڑ محنت کی جس کا ثمر ہمیں ۱۹۹۲ کے ورلڈ کپ کی صورت میں ملتا ہے۔۱۹۸۵ میں ان کی والدہ کینسر کی بیماری میں مبتلا ہو گئیں اور اسی میں دم توڑ گئیں۔ عمران خان پر اس کا بہت گہرا اثر ہوا اور انھوں نے اسی لئے پاکستان میں مہم چلائی اور ملکی اور غیر ملکی سطح پر چندہ اپیل کیا۔ لوگوں نے عمران خان پر بھر پور بھروسہ کیا اور ۱۹۹۴ میں بالاخر شوکت خانم میموریل کنسر ہسپتال لاہور کا افتتاح ہوا۔

سیاست

عمران خان اپنے ارد گرد ہونے والے بگاڑ کا بہت اثر لیتے ہیں جس کی ایک مثال شوکت خانم اور دوسری مثال ان کی سیاست میں آنا ہے۔ عمران خان نے اپنی غریب عوام کی بدحالی دیکھی، وہ پاکستان کے ہر شہر میں گھومے ہیں، انھوں نے پاکستان کے دو نظام دیکھے ایک امیر کا اور ایک غرب کا، انھوں نے انصاف کا نعرہ بلند کیا اور  پاکستان تحریک انصاف کے نام سے سیاسی پارٹی بنا ڈالی۔ جس نے اس وقت کے نوجوان کو ایک تیسرا آپشن دیا تھا۔

عمران خان اپنی پارٹی کے پہلے  انتخابات میں ایک نشست بھی نہ جیت سکے۔ دوسرے انتخابات میں صرف ایک اپنی نشست جیتنے میں کامیاب ہوئے۔تیسرے انتخابات میں عمران خان نے اپنی پارٹی کو انتخابات میں حصہ نہ لینے کا کہا۔ چوتھے انتخابات میں ان کو  معمولی سی اکثریت اور جوڑ توڑ کے ساتھ چھوٹے صوبے خیبر پختون خواہ میں حکومت ملی۔ عمران خان نے خصوصی توجہ دی جس سے پختون خواہ جو کہ دہشت گری کے خلاف جنگ میں بہت متاثر ہوا تھا وہاں کا نظام ٹھیک کیا ، لوگوں کو سہولیات کی فراہمی کی۔عمران خان کی مسلسل جدوجہد سے انہوں نے ۲۰۱۸ کے انتخابات میں خیبر پختون خواہ میں دوتہائی اکثریت کے ساتھ اور ملک کے بڑے صوبے پنجاب  اور وفاق میں معمولی برتری سے حکومت بنائی۔ عمران خان نے اپنے دو سال مکمل کر لیے ہیں ملک کو ایک اچھی سمت کی جانب ڈال دیا ہے مگر غریب ابھی تک خستہ حال ہے۔

کتاب

میں اور میرا پاکستان کتاب میں عمران خان نے تاریخ پاکستان، اپنی ذاتی اور سیاسی زندگی پر لکھا ہے۔ عمران نے اپنی جماعت تحریک انصاف کے بارے میں بھی تفصیل سے لکھا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک کھلاڑی سے لے کر قومی سیاست تک پہنچنے تک کے تمام اہم واقعات کا ذکر کیا ہے۔

کتاب کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مصنف کا اندازِ فکر کتنا بلند اور روایت سے ہٹ کر ہے۔ مصنف نے تقریباً تمام معاملات کو ایک الگ زاویے سے دیکھا اور سمجھا ہے۔ تقسیم ہندمیں جس طرح خون ریزی ہوئی اور انسانیت پامال ہوئی اس کا احساس ہر ذی شعور انسان کو ہے۔اسلام کی بلندی ، روحانیت ، بہتر معاشرہ، ساسیات اور دیگر مسائل پر بھی سیر حاصل کفتگو کی ہے۔

انہوں نے اقبال کے کلام کو مشعل راہ قرار دیا ہے۔ عمران خان نے لکھا ہے کہ نوجوانوں کو اسلام کی اصل روح سے روشناس کرانے کے لئے اقبال کی شاعری سمجھنا ناگزیر ہے، لیکن اقبال کی شاعری سمجھنے کے لئے ایمان کی طاقت کا ہونا ضروری ہے۔

اعزاز

عمران خان کو اعزاز برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا جاچکا ہے۔

حرفِ آخر

عمران خان ٦۷ کی عمر میں بقید حیات ہیں۔ عمران خان کی  زندگی نوجوانوں کے لیے امید کا نمونہ ہے انھوں نے جو چاہا پھر اس کے لیے محنت کر ڈالی جس کا صلہ انھیں ملا۔