اس نے ماضی کی تلخ یادوں کو روندنے کے لیے ایک بہت بڑا کش لگایا۔ اس آخری کش نے اس کے گلے کو فوری پکڑ لیا۔ وہ مسلسل کھانسے جا رہی تھی۔ وہ جس فٹ پاتھ پر بیٹھی تھی وہ بارش کی وجہ سے بہت گیلا ہو چکا تھا۔ سڑک کے دونوں طرف تیز رفتار گاڑیاں اپنی دھن میں بھاگ رہی تھیں اور اتنے شور میں بھی اس کے کانوں میں سناٹا تھا۔ اسے چرس پیتے ہوئے لگ بھگ آٹھواں سال تھا۔ اس کی چمڑی مسلسل سوکھ رہی تھی اور نشے کی وجہ سے اسے بے شمار بیماریوں نے آن لیا تھا۔ کچھ بیماریاں اس کی خود خریدی ہوئی تھیں اور کچھ اسے دوسروں سے ملیں۔

اس نے کئی بار نشہ چھوڑنے کی کوشش کی لیکن نشہ ا سے نہیں چھوڑتا تھا۔ وہ جب بھی زیادہ درد میں ہوتی تو زور زور سے چیختی چلاتی۔ وہ اب بھی مسلسل چیخ رہی تھی۔ اچانک اس کی آواز بند ہوئی اور وہ اس عالم میں چلی گئی کہ جس میں ہوش و حواس برقرار نہیں رہتے۔ اس عالم میں البتہ ذہن اور خیال کا رشتہ قائم رہتا ہے۔ اسے اچانک محسوس ہوا کہ وہ بچپن کی یادوں میں ٹہل رہی ہے۔ یہ تمام یادیں گویا وہ ایک بہت بڑی سکرین پر دیکھ رہی ہو۔ وہ دیکھ رہی ہے کہ اس کی ماں سامنے کمرے میں بیٹھی ہے۔ وہ یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ اس کے چاروں بھائی صحن میں کھیل رہے ہیں۔

وہ بالکل ایک طرف بیٹھی اپنے ابا کا انتظار کر رہی ہے۔ اسے پتا ہے کہ اس کے ابا پھل لے کر آئیں گے۔ وہ بھاگ کر ان سے لپک جائے گی اور وہ ا سے اٹھا لیں گے۔ وہ ہمیشہ کی طرح چاروں بیٹوں کو نظر انداز کرکے سب سے پہلے اپنی چندہ کوپھل کھلائیں گے۔ اسی دوران درد کی ایک ٹیس اٹھتی ہے اور اس کے ذہن اور خیال کا تعلق منقطع کر دیتی ہے۔ اب اسے نہیں معلوم کہ وہ ایمبولینس میں ہے اور مسلسل اس کی سانس بحال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

Advertisement

ایمبولینس اسے ہسپتال چھوڑ کر واپس چلی گئی۔ وہ ایک سرکاری ہسپتال کے پرانے بیڈ پر بے سدھ پڑی تھی۔ اسے وہی ڈرپ لگی ہوئی ہے جو ہر نئے آنے والے مریض کو سب سے پہلے لگائی جاتی ہے۔ یہ ڈرپ لگانے سے پہلے مرض کی تشخیص ضروری نہیں سمجھی جاتی ۔ اس کے بیڈ کی چادر بھی پھٹی ہوئی ہے اور اس کےحلیے اور شکل و شباہت کے خوف کے سبب سبھی ڈاکٹر اسے ہاتھ لگانے سے کترا رہے ہیں۔ بہرحال رفتہ رفتہ اس کے جسم میں زندگی پیدا ہو رہی ہے۔

اس کی آنکھیں ابھی بند ہی سہی مگر اس کی چھاتی اور پیٹ کے اتار چڑھاؤ سے اس کی سانس لوٹ آنے کا شبہ پیدا ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر اور نرسیں بے حد خوش ہیں کہ انہیں اسے بچانے کے لیے زیادہ تگ و دو نہیں کرنی پڑی۔ وہ کچھ ہی گھنٹوں بعد ہسپتال سے باہر نکل آئی اور لاہور کی کسی ویران سڑک پر پیدل چل رہی تھی۔ وہ تھک ہار کرایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گئی۔ اس کی آنتیں قل ہو اللہ پڑھ رہی تھیں۔ اس کے پاس کچھ ریزگاری موجود تھی۔ وہ قریب ہی ایک ہوٹل پر گئی، ایک روٹی پر تھوڑا سالن رکھ کر اس کے ہاتھ میں تھما دیا گیا۔

وہ مسلسل چلے جا رہی تھی اور چھوٹے چھوٹے لقمے منہ میں ڈال رہی تھی۔وقت اچھا گزرا ہو یا برا، ماضی انسان کا کبھی پیچھا نہیں چھوڑتا۔ وہ پھر ماضی کی پگڈنڈیوں پر بھٹکنے لگ گئی۔ وہ ڈیفینس کے علاقے میں ایک بہت مالدار گھرانے میں پیدا ہوئی تھی۔ ان کا ایک بہت بڑا بنگلہ تھا اور اس بنگلے میں چار سے پانچ گاڑیاں ہمہ وقت موجود ہوتیں۔ وہ چار بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی۔

اس کی ماں اسے سب سے زیادہ پیار کرتی اور اس کے ناز نخرے اٹھاتی۔ بچپن میں اس کی ہر خواہش پوری کی گئی۔ اسے اچھے سکول میں بھیجا گیا۔ اچھا کھانا اور عمدہ کپڑے اس کی دسترس میں رہے ہیں۔ گھر کے کام نوکروں کے ذمہ تھے اسی لیے اسے پڑھائی اور آرام کے علاوہ کچھ بھی نہ کرناپڑتا۔ اس کے ابا کا ٹرانسپورٹ کا کاروبار تھا اور پورے ملک میں ان کا نام تھا۔ چندہ نے سکول ختم ہونے کے بعد ابھی کالج جانا شروع کیا ہی تھا کہ اس کے ابا کی روڈ ایکسیڈنٹ میں موت واقع ہوگئی، اس موت نے پورے گھر کو سوگوار کر دیا۔

اسی صدمے کے سبب چندہ کی والدہ کو فالج ہوگیا اور وہ صاحب فراش ہو کر رہ گئیں۔ اس کے ابا کی موت کو ابھی کچھ ہی دن گزر رہے تھے کہ اس کے بھائیوں نے اس کا کالج جانا بند کر دیا۔ چندہ پڑھنے میں اچھی تھی اور مزید پڑھنا چاہتی تھی۔ اس کے ناز نخرے اٹھانے والا اس دنیا سے جاچکا تھا۔ اب لاڈ پیار اور ناز نخروں کی بجائےاحساس محرومی، لاچارگی، بے بسی اور بے یقینی تھی۔اس نے کالج چھوڑ دینے میں ہی عافیت سمجھی۔ باپ کی موت نے اسے گہرے صدمے میں پہنچا دیا۔

وہ اکثر خاموش رہتی اور سارا دن ایک بند کمرے میں گزار دیتی۔ اس کے ابا وراثت میں چار سو ایکڑ زمین چھوڑ کر گئے تھے۔ اس کے بھائی اسے وراثت سے محروم رکھنا چاہتے تھے۔ اس نے بخوشی وراثت سے دستبرداری ظاہر کر دی تھی کہ اگر اس نے ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کی کوشش کی بھی، تو اس کے بھائی قا نون کو خرید لیں گے اور وہ اس کی جان کے دشمن بن جائیں گے۔ اب اس کی گھر میں وہ حیثیت نہیں تھی جوابا کی موجودگی میں ہوا کرتی تھی۔ اب گھر کے سارے کام وہ کرتی، جس کے عوض اسے دو وقت پیٹ کی آگ بجھانے کا موقع مل جاتا ۔اس کے ساتھ ساتھ وہ فالج زدہ ماں کی دیکھ بھال کرتی۔

بچپن کی ساری عیش و عشرت اس سے چھین لی گئی تھی۔ دو وقت کی روٹی کے لیے اسے سارا دن گھر کے کام کرنا پڑتے۔ اس کی بھابیاں بھی اس کے ساتھ نوکروں جیسا سلوک کرتیں۔ بخار غیرہ کی صورت میں اسے دوائی بھی نہ لے کر دی جاتی ۔ ایک وقت ایسا آیا کہ اس کے بھائیوں نے ماں کی دوائیوں کے لیےبھی پیسے دینے بند کر دیے۔ وہ خود تو بیماری میں صبر کر لیتی۔ روکھی سوکھی کھا کر گزارا کر لیتی۔ لیکن اس کی ماں پر ہونے والا ظلم وہ برداشت نہیں کر پا رہی تھی۔ بیمار ماں کی بے بسی اور بے توقیری ایک بیٹی سے کیوں کر برداشت ہو سکتی تھی۔

ماں کی حالت زیادہ خراب ہوتی تو چندہ گھر سے نکلتی اور مانگ تانگ کے دوائی کے لیے پیسے لے آتی۔ ایک لمبا وقت ایسے ہی گزرا۔ اس کے اس طرح پیسے مانگنے اور دوائی لانے میں کسی کو کوئی اعتراض نہ تھا۔ اسے اکثر سڑک کنارے وہ سب کچھ برداشت کرنا پڑتا جو ایک خوبرو لڑکی کرتی ہے۔ اس کے جسم کی قیمت لگائی جاتی۔ اس پر آوازیں کسی جاتیں۔ وہ دنیا ومافیہا سے بے خبر سب کچھ سن لیتی۔ وہ اس بات پر خوش تھی کہ اب اسے ماں کی دوائیوں کے لیے اپنے بھائیوں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑتے۔ وہ عزت کی روٹی کھانا چاہتی تھی۔

بھیک مانگ کر اس کے پاس اتنے پیسے ہوجاتے کہ وہ دوائی کے ساتھ ساتھ دو وقت کی روٹی بھی خرید سکے۔ ایک رات ماں کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی۔ وہ بے ہوش تھیں یہ بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ اس کے ذہن اور خیال میں کسی طرح کا کوئی رابطہ تھا یا نہیں۔ وہ کبھی ایک بھائی کے کمرے میں جاتی تو کبھی دوسرے کے۔ اس نے بہت منتیں کیں کہ کوئی تو اٹھ جائے اور اس کی ماں کو بچا لے، لیکن وہ رات بہت بھاری اور طویل تھی۔ وہ پوری رات دوہائیاں دیتی رہی اور اس کی ماں تڑپتی رہی۔ وہ بار بار اپنی ماں کو ہاتھ لگاتی، ان کی نبض دیکھتی اور خدا کے سامنے گڑگڑاتی۔ اسے خبر ہی نہ تھی کہ اس کی ماں بے جان اور ساکت پڑی ہے۔ اس کا جسم ٹھنڈا ہو چکا ہے۔ اس کے جسم میں روح باقی نہیں رہی۔ حیران کن بات تو یہ تھی کہ اس کی ماں کے جنازے میں چند ہمسایوں کے علاوہ کوئی بھی شامل نہ ہوا، اس کے بھائی بھی جنازے میں موجود نہیں تھے۔ اب چندہ کا اس گھر سے کوئی تعلق باقی نہیں تھا۔

اس نے گھر چھوڑنے کا ارادہ کر لیا۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں جائے گی۔ وہ بے سہارا تھی، اس کے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہا تھا۔ لاہور کی سڑکوں پر اس نے کچھ دن گزارے۔ ہر آتی جاتی نظر اس پر ٹھہر جاتی۔ وہ جوان تھی اور کافی خوبرو بھی۔ اس کا گندھا ہوا بدن اپنے اندر قدرتی مہک لیے ہوئے تھا۔ اس کی لمبی گردن کسی شفاف صراحی کی طرح معلوم ہوتی۔

اس کے چھلوں والے بال ہر طرف خوشبو بکھیرتے۔ وہ چلتی تو اس کے پورےپاؤں زمین پر پھیل جاتے۔ وہ ٹھہر ٹھہر کر پاؤں رکھتی اور اٹھاتی۔ اس کی بھاری پنڈلیاں دیکھ کر گمان ہوتا کہ وہ کسی کھاتے پیتے گھر کی سوغات ہے۔ اس کی آنکھیں دور سے سیاہ جبکہ نزدیک سے بھوری معلوم ہوتیں۔ اس کی چھاتیوں کے ابھار سے اس کی کم عمری ٹپکتی۔ ہاتھوں کی پوروں سے اندازہ ہوتا کہ کسی ماہر لکھاری نے اپنے ہاتھوں کی نفاست اور فن ان پر صرف کیا ہے۔ اس کے جسم کی خوبصورتی نے اس کے میلے کچیلے لباس کو بھی رنگین بنا رکھا تھا۔

بھیک مانگتے اسے احساس ہوتا کہ وہ ایک پڑھے لکھے خاندان سے ہے۔ اس نے سوچا کہ وہ پڑھی لکھی ہے اسے کوئی چھوٹی موٹی ملازمت کر لینی چاہیے۔ اس نے پرائیوٹ سکولوں کے چکر لگائے۔ اسے بہت جلد اس بات کا احساس ہوا کہ ملازمت کے عوض اس کی عزت باقی نہیں رہے گی۔ ہر جگہ اس سے رنگین مطالبات کیے جاتے۔ وہ کئی ایک فیکٹریوں میں بھی گئی۔ وہاں بھی اسےادراک ہوا کہ اس کا جسم نوچ لیا جائے گا۔ ایک پرائیویٹ ٹیلی فون آپریٹر کی نوکری اسے ملی۔ وہ ابھی چند ہی دن وہاں گئی تھی کہ مینیجر نے اسے ایک دن اکیلے دیکھ کر کمرے میں بند کر لیا۔ اس نے اتنی مزاحمت کی جتنی اس کی عزت کا دفاع کرنے کے لیے ضروری تھی۔ وہ وہاں سے بھاگنے میں بہرحال کامیاب ہوگئی۔

وہ چاہتی تھی کہ وہ بے حس ہو جائے۔ اس میں اچھے برے، صحیح اور غلط کی پہچان نہ رہے۔ وہ بھول جائے کہ وہ ایک خوبصورت جسم کی مالک ہے۔ وہ بھول جائے کہ وہ جاذب نظر ہے۔ بس اس کا پیٹ بھرتا رہے۔ وہ سوکھی روٹی اور پانی سے گزارا کر لے گی مگر بدن بیچ کر پیٹ میں ڈالے گئےتر نوالے اس کا معدہ باہر پھینک دے گا۔ اسے ہر مرد میں ایک وحشی بھیڑیا نظر آنے لگ گیا۔ اس کا تمام مردوں سے اعتماد اٹھنا شروع ہوگیا۔ سفید داڑھی والے بزرگ بھی اسے ناسور لگنے لگ گئے۔

اس نے بھیک سے جمع کیے ہوئے پیسوں سے سڑک کنارے کراکری کا سامان خرید کر رکھ لیا۔ اسے لگا کہ اب اس کی عزت محفوظ ہے۔ وہ اپنا کمائے گی اور بغیر کسی خوف کے کھائے گی۔ اس سے بھی اسے بھیک جتنی ہی آمدنی ہوتی۔ ہر آتا جاتا آوارہ مرد اسے خاص اشارے کرتا اور برائی کی دعوت دیتا۔ اسے بہت جلد اس بات کا اندازہ ہوگیا کہ بیٹیاں اپنے والد اور بھائیوں کی سرپرستی میں ہی محفوظ رہ سکتی ہیں۔ ان کے طاقتور بازو ہی ان کا دفاع کر سکتے ہیں۔ لیکن اب اس کے پاس کوئی رشتہ باقی نہیں رہا تھا۔ وہ سب رشتوں سے آزاد ہو چکی تھی۔

اس نے دارالامان جانے کا تہیہ کر لیا۔ اس نے سن رکھا تھا کہ وہاں مجبور اور لاچار لڑکیوں کو کھانا اور چھت فراہم کی جاتی ہے۔ بالآخر وہ خود ہی دارالامان چلی گئی۔ وہاں کی انچارج میڈم رخسانہ کسی خانم سے کم نہ تھی۔ اس نے بہت جلد کوششیں شروع کر دیں کہ چندہ کو آوارگی کی راحت بنایا جائے۔ وہ جانتی تھی کہ اس کے دام اچھے ملیں گے ، اسے یہ بھی اندازہ ہو گیا کہ وہ اس کے جال میں نہیں آئے گی۔ اس نے اسے ایک رات بے ہوش کر کے اک ادھیڑ عمر آوارہ کے سامنے پھینک دیا۔ چندہ نے صبح اٹھ کر دیکھا تو اس کے پورے بدن پر دانتوں کے نیلے نشان تھے۔

اس کے پورے جسم کو سگریٹ سےجلایا گیا تھا۔ اسے ٹھنڈا میٹھا بخار محسوس ہو رہا تھا۔ ایسا بخار اسے زندگی میں کبھی نہیں ہوا تھا۔ اس کے پورے جسم سے درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔ کچھ دنوں میں طبیعت کی بحالی کے بعد وہ وہاں سے بھاگ نکلی۔ وہ اپنے ایک کزن مرزا عابد کے پاس چلی گئی۔ اس سے اس کی اچھی شناسائی تھی۔ اسے پورا یقین تھا کہ وہ اسے پناہ ضرور دے گا۔ بہرحال اس نے چندہ کو اپنے پاس رکھ لیا۔ چند خوبصورت اور جوان تھی۔

وہ ہر ایک کو اپنی طرف کھینچ لینے کی صلاحیت سے مالامال تھی۔ مرزا عابدبھی اس کی طرف کھنچا چلا آیا۔ اس نے ایک رات اپنے تین دوستوں کے ہمراہ چندہ کو نوچ ڈالا۔ ایسا مسلسل ایک سے دو ماہ تک چلتا رہا۔ چندہ اب حاملہ ہوچکی تھی۔ وہ کسی طرح وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئی۔ وہ متعلقہ پولیس اسٹیشن میں شکایت لے کر پہنچی لیکن چھوٹے تھانے دار نے اس کے حاملہ ہونے کے باوجود، شراب کے نشے میں دھت ہو کر اس سے لذت حاصل کی ۔ اس نے عدالت جانے کا ارادہ باندھا لیکن عدالت کے باہر پہنچ کر اسے معلوم ہوا کہ اس روز چھٹی تھی۔

بچے کی پیدائش کے بعد اس نے اسے یتیم خانے میں چھوڑ دیا۔ اس کی خواہش تھی کہ اس کا بچہ بھی پڑھ لکھ کر کسی بڑے ادارے میں نوکری حاصل کرئے ۔ وہ وہاں سے نکلی اور اب اس میں بے باکی پیدا ہو چکی تھی۔ اس کی شرم و حیا کی دیواریں گر چکی تھیں۔ اس نے بلندو بالا عمارتوں کے بالکل عقب میں ایک شاندار کوٹھا کھول لیا۔ اسے پیٹ بھرنے کے لیے عزت کی روٹی چاہیے تھی۔ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا اب وہ اپنے شایان شان نہیں سمجھتی تھی۔ عالی شان عمارتوں کے بالکل قریب ہونے کی وجہ سے اس کے کوٹھے کی قدر میں بہت اضافہ ہوا۔

وہ بہت جلد اپنا نام بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ یاد ماضی سے جان چھڑانے کے لیے اس نے مختلف قسم کےمہنگے نشے کرنے شروع کر دیے تھے۔ اس کی صحت مسلسل بگڑتی جا رہی تھی۔ اس کی خوبصورتی بھی ختم ہوتی جارہی تھی۔ لہذا اس سے پھیلنے والی بیماریوں کے پیش نظر حفظ ماتقدم کے طور پر ، اس کے کوٹھے کو بااختیار لوگوں نے اپنی تحویل میں لے لیا ۔ اب وہ ایسے ہی سڑکوں پر نشے کی حالت میں ایک چلتی پھرتی لاش کی مانند نظر آتی ۔ وہ انہی یادوں میں گم سڑک پر لڑکھڑاتی ہوئی چل رہی تھی کہ پیچھے سے آنے والے ایک ٹرک کی زد میں آگئی۔ ٹرک نے اسے بری طرح کچل دیا تھا۔ اس کے اردگرد لوگ جمع ہو چکے تھے۔ کوئی آگے بڑھ کر اسے سمیٹنے کی کوشش نہیں کر رہا تھا۔ سب افسردہ تھے کہ آج ایک حسین طوائف انہیں چھوڑ کر جا چکی ہے۔

تحریر امتیاز احمد
ڈیفینس کی طوائف 1