Advertisement

جان عالم چائے کا کپ ہاتھ میں تھامے پہاڑی کے اس پار ڈوبتے سورج کو دیکھ رہا تھا۔ مطالعہ کی میز پر رکھی کھلی کتاب کے ورق تیز ہوا کے جھونکوں کے سامنے بے بس تھے ۔ ایش ٹرے میں رکھا سگریٹ بھی اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا۔ کچھ دھوئیں کی لائینیں سی اوپر کو اٹھ رہی تھیں۔ دھوئیں سے برآمد ہوئی کچھ دھندلی سی یادیں ہاتھ جوڑے میز پر جان عالم کے سامنے کھڑی تھیں، لجاجت بھری آواز سے گویا ہوئیں کہ ہم یونی ورسٹی کی یادیں ہیں ہمیں کاغذ پہ جگہ کیوں نہیں دیتے آپ؟ آپ نے کئی دفعہ ہمیں لکھنے کی کوشش بھی کی لیکن لکھا نہیں، حضور آج ہماری خواہش کا احترام کیجئے اور ہمیں کاغذ پہ اتار دیجئے۔
پہلے ہمیں لکھیں ،ہم فرسٹ سیمسٹر کی یادیں ہیں!
نہیں پہلے ہمیں لکھیں ہم یونی ورسٹی میں گزرے پہلے دن کی یادیں ہیں!

Advertisement

دیکھیں آپ فضول بحث سے باز رہیں، میرے لیے کچھ بھی مقدم نہیں ہے۔ آپ سب ایک جیسی ہیں۔آپ میں سے کوئی بھی بہتر نہیں ہے لہذا کوئی بھی کسی غلط فہمی میں نہ رہے۔
پہلی بات تو یہ کہ آپ اس قابل نہیں ہیں کہ آپ کو اپنے قلم سے لکھا جائے۔ جان عالم لٹریچر کا اسٹوڈنٹ تھا اور لٹریچر کے اسٹو ڈنٹس بلکہ لٹریچر کو سمجھنے والے اسٹو ڈنٹس بے حد حساس ہوتے ہیں۔جان عالم ان یادوں سے الجھ رہا تھا۔دیکھو میں ایک مائنڈ سیٹ کے ساتھ یونی ورسٹی میں آیا تھا۔ میرا اور آپ کا مائنڈ سیٹ ہی مختلف تھا۔ میں پڑھنے آیا تھا اور آپ سب تو بس منتر پڑھنے آئے تھے۔یونی ورسٹی کی ہر کلاس ،ہر ایونٹ میں آپ نے مجھے نیچا دکھانے کی کوشش کی۔ میرے خلاف مختلف پروپیگنڈے کیے۔ مجھے رسوا کیا۔میری عزت کو اچھالا۔ ہر قدم پر آپ سب نے روڑے اٹکائے۔جھوٹ بولے ، الزامات لگائے۔ لیکن میں اپنے آپ میں رہا۔ اپنے مقصد کے پیچھے بھاگتا رہا۔

Advertisement

ہم بتائیں ،ہم بتائیں کہ آپ کے خلاف یہ ساری پلاننگ کس کی تھی؟
نہیں ! میں سب کچھ جانتا ہوں۔ مجھے اس بحث میں نہیں پڑنا۔ وہ جو بھی ہے، اس نے جو بھی کیا، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ایک دن سارے حقائق خود بخود کھل کے سامنے آجائیں گے اور پھر انفرادی طور پر سب کو ادراک ہو جائے گا کہ ان سب کو بھی بلیک میل کیا گیا۔ بس میرے لیے یہی کافی ہے کہ سب کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے۔
حضور ہمیں معاف کر دیں، بہت بڑی بھول ہو گئی ہم سے!
نہیں معافی کا معاملہ ہے ہی نہیں، میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ آپ سب کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے ،اسی میں میری جیت ہے۔

Advertisement

کچھ یادیں شرمندہ ہو کر واپس پلٹنے ہی والی تھیں کہ جان عالم نے ان کو پکڑ کے اپنے ساتھ بٹھا لیا اور کہا کہ جائیں میں نے آپ کو بھی معاف کیا، کیوں کہ آپ کی غلطی نہیں تھی اور نہ ہی آپ غلط تھیں۔ بس آپ نے سنی سنائی باتوں پہ یقین کر لیا تھا۔

میں ہر روز ایک نئی بات سنتا تھا۔ ہر روز میرے خلاف ایک نیا محاذ کھلا ہوا ہوتا لیکن میں گھبرایا نہیں۔ صبر سے کام لیا اور اللہ نے اس صبر کا صلہ دیا اور میں کلاس کا ٹاپر ٹھہرا۔ میں آج بھی اپنے مقصد کے پیچھے بھاگ رہا ہوں لہذا مجھے بار بار ڈسٹرب کرنے مت آنا۔ مجھے کسی سے کوئی گلہ نہیں بس حق اور سچ کے ساتھ کھڑا ہونا سیکھ لیں۔
میں فی الوقت کچھ ذاتی الجھنوں میں جکڑا ہوا ہوں۔ کار زندگی کچھ دشوار سے ہوئے پڑے ہیں۔
حضور ہم اب جانا چاہیں گی ہمیں اجازت عنایت کیجئے!
نہیں !میں اپنے گھر آئے لوگوں کو چائے پانی کے بغیر واپس نہیں جانے دیتا۔ آپ بیٹھیں چائے پی کے جائیے گا۔

Advertisement

جان عالم نے چائے پلانے کے بعد یادوں کو بخوشی رخصت کیا اور ہاتھ جوڑ کے گزارش کی کہ آئندہ میری چوکھٹ پہ مت آئیے گا۔ میرے زخم تازہ ہو جاتے ہیں۔ اور ہاں! آپ کو بہر صورت ضبط تحریر میں لاؤں گا لیکن ابھی مناسب وقت کا انتظار کر رہا ہوں۔ ابھی کچھ لکھوں گا تو بھونچال سا آجائے گا۔ کوئی میری تحریر کا ایک جملہ بھی شاید برداشت نہ کر پائے گا۔
میرے لفظوں کی حرارت سے آپ جل جائیں گی، اور میں جلی ہوئی چیزوں کو مزید نہیں جلایا کرتا۔اس کے ساتھ ہی جان عالم نے سگریٹ کو بجھا دیا۔

تحریرامتیاز احمد، کالم نویس، افسانہ نگار
[email protected]
Advertisement

Advertisement

Advertisement