امتیاز علی خان عرشی

اردو تحقیق کے چند اہم ناموں میں سے ایک نام امتیاز علی خان عرشی کا بھی ہے۔ ان کی ساری زندگی تحقیق اور تصنیف و تالیف میں بسر ہوئی۔ اس میدان میں ان کے کارنامے اہم ہیں، انہیں ماہر غالبیات کی حیثیت سے بھی جانا جاتا ہے۔

امتیاز علی عرشی 8 دسمبر 1904ء کو رام پور میں پیدا ہوئے۔ ان کے آباؤ اجداد حاجی خلیل قبائل (سوات) کے سردار تھے. جب ہجرت کرکے ہندوستان آئے تو رامپور کے آس پاس کے علاقوں پر قابض ہو گئے جو بعد میں نواب فیض اللہ خان کو سونپ دیے۔ مولانا ارشد کے والد وٹنری ڈاکٹر تھے جو ریاست رام پور کے ہسپتال کے انچارج تھے۔

امتیاز علی عرشی کی شادی 1933ء میں ہاجرہ بیگم سے ہوئی۔ ان سے سات بیٹے اور دو بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ امتیاز کی عمر ایک سال چھ ماہ کی تھی کہ ان کی والدہ کی وفات ہوگئی اور ان کی پرورش ان کی سوتیلی والدہ نے کی۔ امتیاز علی خان عرشی نے پانچ سال کی عمر میں حصولِ تعلیم کا آغاز کیا جو 1924ء تک جاری رہا۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد طرح طرح کی ملازمتیں کی۔آخر سب سے سبکدوش ہوکر رامپور کے ایک عظیم ادارے رضا لائبریری سے وابستہ رہے جہاں نادر و نایاب کتابوں کا ایک ذخیرہ اب بھی موجود ہے۔ اسی ذخیرے سے وہ خود فیض یاب ہوئے اور علمی دنیا کو اس سے فیض پہنچایا۔ ان کا اصل میدان عربی ادب تھا لیکن اردو میں بھی ان کے کارنامہ نہایت اہم ہیں۔

عرشی صاحب نے دوسروں کی تصانیف اور تحریروں کو مرتب و مدون کرنے میں بڑی محنت کی۔ ان کے مرتبہ، خواہشی اور مقدمات کا زیادہ تر حصہ اردو فارسی اور عربی ادب ولغت سے ہے۔ انہوں نے عربی زبان میں بھی تحریریں یادگار چھوڑی ہیں۔

عرشی صاحب کے تحقیقی کارناموں کا عام اعتراف کیا گیا۔ ان کا تحقیقی کام دوسرے محققین کے مقابلہ میں معیار و مقدار دونوں حیثیتوں سے ممتاز و منفرد ہے۔ عرشی صاحب کی ایک اہم تحقیقی کاوش مکاتیب غالب کی تصیح تدوین ہے۔ انہوں نے انتخاب غالب کا تنقیدی آڈیشن بھی تیار کیا۔ نادرات شاہی بھی ان کے قابل قدر کارناموں میں سے ایک ہے۔

غالب ان کا خاص موضوع رہا ہے۔ انہوں نے دیوان غالب کو زمانی اعتبار سے مرتب کیا جس سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ ان کا کون سا کلام کس زمانے کا ہے۔ اس سے غالب کے ذہنی ارتقاءکو سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ یہ تدوین کا اچھا نمونہ ہے۔ یہ "دیوان غالب نسخۂ عرشی” کے نام سے مشہور ہے۔

متنی تحقیق میں عرشی صاحب کو بڑی مہارت حاصل تھی۔ چناچہ انہوں نے متعدد متنی تحقیقی کاوشیں پیش کیں جو ہمارے ادب کا گراں مایہ حصہ ہیں۔ اس کی سب سے عمدہ مثال دیوان غالب ہے جس کی وجہ سے اردو ادب اور خاص طور سے غالبیات کے باب میں ان کا نام ہمیشہ روشن رہے گا۔ ڈاکٹر صابر سمبلی لکھتے ہیں:

"تحقیق کے میدان میں انہوں نے کارہائے نمایاں انجام دیے۔ تحقیق میں سب سے اہم مقام دریافت ہوتا ہے یہ کام بھی ان سے اچھوتا نہ رہا۔ مکاتیب غالب میں شائع شدہ خطوط اور امام سفیان ثوری کی تفسیر قرآن ان کی وقیع دریافتیں ہیں۔تحقیق کے وہ مردِ میدان ہے جاتے ہیں۔تحشیہ نگاری نے ان کی تدوین میں چار چاند لگا دیے ہیں۔ حاشیہ نگاری میں ان کی قابلیت اور مہارت کا یہ عالم تھا کہ زیر تدوین کتابوں کو تحشی نگاری تو خیر جانے دیجیے مضامین اور مقالات بھی حاشیوں سے خال خال ہی خالی رہتے تھے۔ تحقیقی مضامین و مقالات کا ایک دفتر وہ اپنے پیچھے چھوڑ گئے ہیں جس نے اہل علم سے ان کی خداداد اہلیت کا لوہا منوایا”

عرشی صاحب کے تحقیقی کارناموں میں دیوان غالب نسخہ عرشی، مکاتیب غالب، رانی کیتکی کی کہانی، سلک گوہر، باغ اردو، نادرات شاہی، تاریخ اکبری، فرہنگ غالب، انتخاب غالب، تاریخ محمدی، اور تذکرہ دستور الفصاحت از احمد علی خان یکتا وغیرہ بہت مشہور ہیں۔ عرشی صاحب 1981ء میں اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔ اپنے علمی و تحقیقی کاوشوں کی وجہ سے تحقیق کی دنیا میں ان کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Close