Advertisement

انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا کا خلاصہ:

انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا “محمد حسین آزاد” کا انشائیہ ہے۔اس کی کہانی کو مصنف نے تمثیلی انداز میں پیش کیا ہے۔مصنف نے لکھا ہے کہ بڑے بڑے داناؤں کے مطابق بھی انسان کسی حال خوش نہیں کہ اگر اس پر کوئی پریشانی آ جاتی ہے تو اسے وہ اپنی وہ مصیبت بہت بھاری اور زیادہ جبکہ دوسرے کی مصیبت کم معلوم ہوتی ہے۔

اسی طرح ایک دفعہ میری آنکھ لگی تو عجب خواب دیکھا کہ سلطان افلاک کے دربار سے اشتہار جاری ہوا کہ تمام دنیا کے لوگ اپنے اپنے رنج و الم اور مصائب و تکالیف لائیں اور جگہ پر ڈھیر کر دیں۔یہ سننا تھا کہ مختلف طرح کے لوگ آ آ کر یہاں اپنی پریشانیاں ڈھیر کرنے لگے اور دیکھتے دیکھتے یہ ڈھیر آسمان سے باتیں کرنے لگا۔

Advertisement

یہاں اس ڈھیر کے پاس ایک سوکھا،سہما اور دبلاپے کا شکار شخص تھا۔ جو انبوہ میں نہایت چالاکی اور پھرتی سے پھر رہا تھا۔اس کے ہاتھ میں ایک آئینہ تھا جس میں دیکھنے پر شکل بہت بڑی معلوم ہوتی تھی۔ وہ ایک ڈھیلی ڈھالی پوشاک پہنے ہوئے تھا۔ جس کا دامن دامنِ قیامت سے بندھا تھا۔اس پر دیو زادوں، جناتوں کی تصویریں کڑھی ہوئی تھیں۔اس کی آنکھیں وحشیانہ مگر نگاہ میں افسردگی تھی۔یہ وہم تھا جو لوگوں کو بہکانے کے لیے اس ڈھیر کے پاس موجود تھا۔ اس نے مجھے ایک آئینہ دکھایا جس نے میری صورت بہت بھدی دکھائی تو میں نے اپنے چہرے کو اس ڈھیر پر اتار پھینکا۔

Advertisement

یہاں پر لوگوں کی ایک بڑی بھیڑ آئی تھی جس کا شما ر بھی ممکن نہیں لوگ گھٹریاں باندھ یہاں اپنے غم پھینک رہے تھے۔اس انبار میں انواع و اقسام کے سقم اور امراض موجود تھے۔جن میں بعض اصلی جبکہ بعض غلط فہمیوں کی دین تھے۔ یہاں مجھے سب سے زیادہ جسمانی عیب دیکھنے کو ملے۔حیرت کی بات ہے کہ اس ڈھیر پر کوئی بے وقوفی یا بد اطواری نہ پائی گئی۔عورتیں بھی یہاں اپنی خامیوں کو چھوڑ کر نیا طور اپنا رہی تھیں۔

Advertisement

غرض جب سب لوگوں نے اپنی تکالیف سے چھٹکارا پا کر اس کا بدل حاصل کرلیا تو رفتہ رفتہ یہ نئی مصیبتیں ان کو بوجھ معلوم ہونے لگیں۔اپنی مصیبتوں کو بدلنے کے بعد لوگوں پر جو نئی مصیبتیں یا بوجھ لادے گئے وہ انھیں پہلے سے بھی زیادہ بھاری معلوم ہونے لگے۔ پہلی مصیبتوں کو چونکہ وہ سہہ چکے تھے اور ان کو سہنے کے عادی ہوچکے تھے اس لیے نئی پڑنے والی مصیبت سے ہر شخص ہی نا خوش تھا۔

آخر سلطان افلاک کو آدم کی اس حالت زار پر رحم آیا۔اس نے حکم جاری کیا کہ اپنے نئے بوجھ اتار پھینک کر پرانے حاصل کر لو۔یوں دھوکے میں رکھنے والے شیطان کی جگہ ایک فرشتہ رحمت انسان آسمان سے نازل ہوا۔جس کی حرکات وسکنات نہایت معقول اور باوقار تھیں۔چہرہ بھی سنجیدہ اور خوشنما تھا۔وہ بار بار اپنی آنکھوں کو آسمان کی طرف اٹھاتا تھا اور رحمت الہی پر توکل کرکے نگاہ کو اسی کی آس پر لگا دیا کرتا تھا۔ اسی کا نام صبر و تحمل تھا۔اس نے ہر شخص کو اس کا واجبی بوجھ اور ساتھ میں بردباری کی تلقین کی۔سب نے اس کا شکریہ ادا کیا۔ یوں مصنف نے تمثیلی انداز میں گویا بہت بڑی بات بیان کر دی کہ اپنی مصیبت کو کبھی بوجھ نہ جانو کہ تم اس سے بڑی آنے والی مصیبت سے واقف ہی نہیں۔

Advertisement

سوالات:

سوال نمبر01:سلطان افلاک کے دربار سے کیا اشتہار جاری ہوا؟

سلطان افلاک کے دربار سے اشتہار جاری ہوا کہ تمام دنیا کے لوگ اپنے اپنے رنج و الم اور مصائب و تکالیف لائیں اور ایک جگہ پر ڈھیر کر دیں۔

سوال نمبر02:وہم کا کیا حلیہ بتایا گیا ہے؟ تفصیل سے لکھیے۔

وہم ایک سوکھا،سہما اور دبلاپے کا شکار شخص تھا۔ جو انبوہ میں نہایت چالاکی اور پھرتی سے پھر رہا تھا۔اس کے ہاتھ میں ایک آئینہ تھا جس میں دیکھنے پر شکل بہت بڑی معلوم ہوتی تھی۔ وہ ایک ڈھیلی ڈھالی پوشاک پہنے ہوئے تھا۔ جس کا دامن دامنِ قیامت سے بندھا تھا۔اس پر دیو زادوں، جناتوں کی تصویریں کڑھی ہوئی تھیں۔اس کی آنکھیں وحشیانہ مگر نگاہ میں افسردگی تھی۔

Advertisement

سوال نمبر03:لوگ اپنی پہلی مصیبت سے چھٹکارا کیوں پانا چاہتے تھے؟

لوگ اپنی پہلی مصیبت سے اس لیے چھٹکارا پانا چاہتے تھے کہ ان کو اپنی وہ مصیبت بہت بڑی اور بھاری معلوم ہوتی تھی۔

سوال نمبر04:مصیبتوں کو بدلنے کے بعد لوگوں نے خود کو کیسا محسوس کیا؟

مصیبتوں کو بدلنے کے بعد لوگ خود میں واضح تبدیلی محسوس کرنے لگے۔ مگر رفتہ رفتہ یہ نئی مصیبت ان کے لیے بوجھ بننے لگی اور وہ اس سے تنگ آنے لگے۔

Advertisement

سوال نمبر05:اپنی اپنی مصیبتوں کو بدلنے کے بعد بھی لوگوں کی پریشانیاں کم کیوں نہیں ہوئیں؟

اپنی مصیبتوں کو بدلنے کے بعد لوگوں پر جو نئی مصیبتیں یا بوجھ لادے گئے وہ انھیں پہلے سے بھی زیادہ بھاری معلوم ہونے لگے۔ پہلی مصیبتوں کو چونکہ وہ سہہ چکے تھے اور ان کو سہنے کے عادی ہوچکے تھے اس لیے نئی پڑنے والی مصیبت سے ہر شخص ہی نا خوش تھا۔

سوال نمبر06:صبر و تحمل کا بیان کس طرح کیا گیا ہے؟

ایک فرشتہ رحمت انسان آسمان سے نازل ہوا۔جس کی حرکات وسکنات نہایت معقول اور باوقار تھیں۔چہرہ بھی سنجیدہ اور خوشنما تھا۔وہ بار بار اپنی آنکھوں کو آسمان کی طرف اٹھاتا تھا اور رحمت الہی پر توکل کرکے نگاہ کو اسی کی آس پر لگا دیا کرتا تھا۔ اسی کا نام صبر و تحمل تھا۔

Advertisement
Advertisement