• کتاب” دور پاس”برائے ساتویں جماعت
  • سبق نمبر20: مضمون
  • مصنف کا نام: یوسف ناظم
  • سبق کا نام: کرکٹ کا شوق

خلاصہ سبق:

اس سبق میں عشرت بھائی نامی شخص کی کرکٹ سے محبت بلکہ جنون کو پیش کیا گیا ہے۔عشرت بھائی مصنف کے ماموں زاد بھائی تھے۔انھیں دیوانگی کی حد تک کرکٹ کا شوق تھا۔ جس طرح وہ کرکٹ کھیلا کرتے تھے اس سے تو بہتر ہے کہ وہ گلی ڈنڈا کھیلا کریں۔انھیں کرکٹ کا اتنا شوق ہے کہ توبہ بھلی۔

ان کی عمر لگ بھگ پندرہ سولہ سال تھی۔لیکن ہم پراتنا رعب ڈالتے ہیں جیسے برسوں سےکرکٹ کھیل رہے ہیں۔ان کے ساتھ کرکٹ کھیلنا اپنی شامت بلانا ہے۔عشرت بھائی اپنے آپ کو نواب آف پٹودی سے کم نہیں سمجھتے تھے۔ہمیشہ یہ اصرارکہ بیٹنگ وہی کر یں گے۔ وہ سال بھر صبح شام کھلینے کی دھن میں رہتے۔

Advertisement

گرمیوں کی چھٹیوں میں یہ دھن شدت اختیار کر جاتی۔عشرت بھائی کرکٹ کے اس قدر شوقین تھے کہ صبح سویرے پینٹ پہن کر تیار ہو جاتے یوں شام تک نہ ان کی پینٹ اترتی اور نہ بلا ہاتھ سے رکھتے تھے۔ یوں کون دن بھر دھوپ میں ان کے ساتھ کرکٹ کھیلتا ۔ان کا ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ وہ کسی کے ہاتھ میں بلا نہیں دیتے تھے ہمیشہ یہ اصرار کرتے کہ بیٹنگ وہی کریں گے۔دس مرتبہ بھی آوٹ ہو جاتے لیکن وکٹ کے سامنے سے نہ ہٹتے تھے۔

عشرت بھائی سب کو مشورہ دیتے کہ تم باؤلنگ کی مشق کرو۔بہترین باؤلر بن جاؤ گے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی ان کے ساتھ کھیلنے کو تیار نہ ہوتا تھا۔اگر کوئی ان کے ساتھ کھیلنے کو رضا مند نہ ہوتا تو اکیلے دیوار پہ گیندیں پھینک کر کھیلتے رہتے۔

ایک روز کا قصہ ہے کہ وہ اپنے گھر کے ملازم لڑکے کو زبردستی ساتھ کھیلا رہے تھا۔ عشرت بھائی نے شارٹ ماری گیند اندر گیا تو امی نے ملازم لڑکے عبدل کو ڈپٹ کر دہی لینے بھگا دیا جب وہ دہی لے کر لوٹا تو عشرت بھائی متواتر بھاگ رہے تھے۔ انھوں نے اکیلے ہی بھاگ کر تیراسی رن بنا لیے تھے۔ ان کے بارے میں لطیفے کچھ کم نہیں۔ایک روز وہ قریبی پارک گئے۔ وہاں بینچ پر تختی لگا کر اس پہ لگا تھا کہ یہاں مت بیٹھیں پینٹ لگ جائے گا وہ تختی ہٹا کر یہ سوچ کر بیٹھ گئے کہ اب تو تختی موجود نہیں ہے اب پینٹ کیسے لگ سکتا ہے۔یہ وہی اکیلے تراسی رن بنانے والے عشرت بھائی تھے۔

ان سوالوں کے جواب دیجیے۔

عشرت بھائی کو کیا شوق تھا؟

عشرت بھائی کو کرکٹ کا شوق تھا۔

عشرت بھائی اپنے آپ کو کیا سمجھتے تھے؟

عشرت بھائی اپنے آپ کو نواب آف پٹودی سے کم نہیں سمجھتے تھے۔

عشرت بھائی ہر کسی کو کیا مشورہ دیتے تھے؟

عشرت بھائی سب کو مشورہ دیتے کہ تم باؤلنگ کی مشق کرو۔بہترین باؤلر بن جاؤ گے۔

عشرت بھائی کے ساتھ کھیلنے کے لیے کوئی تیار کیوں نہیں ہوتا تھا ؟

عشرت بھائی کرکٹ کے اس قدر شوقین تھے کہ صبح سویرے پینٹ پہن کر تیار ہو جاتے یوں شام تک نہ ان کی پینٹ اترتی اور نہ بلا ہاتھ سے رکھتے تھے۔ یوں کون دن بھر دھوپ میں ان کے ساتھ کرکٹ کھیلتا ۔ان کا ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ وہ کسی کے ہاتھ میں بلا نہیں دیتے تھے ہمیشہ یہ اصرار کرتے کہ بیٹنگ وہی کریں گے۔دس مرتبہ بھی آوٹ ہو جاتے لیکن وکٹ کے سامنے سے نہ ہٹتے تھے یہی وجہ ہے کہ کوئی ان کے ساتھ کھیلنے کو تیار نہ ہوتا تھا۔

عشرت بھائی نے بینچ سے تختی کیوں ہٹائی ؟

بینچ پر تختی لگا کر اس پہ لگا تھا کہ یہاں مت بیٹھیں پینٹ لگ جائے گا وہ تختی ہٹا کر یہ سوچ کر بیٹھ گئے کہ اب تو تختی موجود نہیں ہے اب پینٹ کیسے لگ سکتا ہے۔

نیچے دیے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کروائیے۔

شوقمجھے گھڑ سواری کا شوق ہے۔
لطفکشتی کی سواری میں ہمیں بہت لطف آیا۔
دھنعلی اپنی دھن کا پکا ہے جو ٹھان لے کر کے رہتا ہے۔
خوشامدخوشامد کرنا بری عادت ہے۔
ملازماحمد فوج میں ملازم بھرتی ہو گیا۔

واحد کی جمع بنائیے۔

موقعمواقع
خیالخیالات
چھٹیچھٹیاں
گیندگیندوں
باتباتیں
گھنٹہگھنٹوں
تختیتختیاں

ان لفظوں کے متضاد لکھوائیں۔

مشکلآسان
بھائیبہن
ترخشک
بہتربرا
شامصبح

خالی جگہوں کو بھروائیے۔

  • میں اس سے تو بہتر ہے کہ وہ گلی ڈنڈا کھیلا کریں۔
  • انھیں کرکٹ کا اتنا شوق ہے کہ توبہ بھلی۔
  • لیکن ہم پراتنا رعب ڈالتے ہیں جیسے برسوں سےکرکٹ کھیل رہے ہیں۔
  • ان کے ساتھ کرکٹ کھیلنا اپنی شامت بلانا ہے۔
  • ہمیشہ یہ اصرارکہ بیٹنگ وہی کر یں گے۔

عملی کام: اپنی کتاب میں سے دس ایسے الفاظ تلاش کرکے لکھیے جن میں "ع” کا استعمال کیا گیا ہو۔

عبادت ، عبارت ، عابد ، عمارت ، عینی شاہد ، قراۃ العین ، رعب ،عاجز ، عزت ، عینک۔