>
  • نرم جھونکے سے یہ اک زخم سا کیا لگتا ہے
  • اے ہوا! کچھ تیرے دامن میں چھپا لگتا ہے
  • ہٹ کے دیکھیں گے اسے رونق محفل سے کبھی
  • سبز موسم میں تو ہر پیڑ ہرا لگتا ہے
  • وہ کوئی اور ہے جو پیاس بجھاتا ہے مری
  • ابر پھیلا ہوا دامان دعا لگتا ہے
  • اے لہو میں تجھے مقتل سے کہاں لے جاؤں
  • اپنے منظر ہی میں ہر رنگ بھلا لگتا ہے
  • ایسی بے رنگ بھی شاید نہ ہو کل کی دنیا
  • پھول سے بچوں کے چہروں سے پتہ لگتا ہے
  • دیکھنے والو ، مجھے اس سے الگ مت جانو
  • یوں تو ہر سایہ ہی پیکر سے جدا لگتا ہے
  • زرد دھرتی سے ہری گھاس کی کونپل پھوٹی
  • جیسے اک خیمہ سر دشت بلا لگتا ہے
Close Menu