Advertisement

اس آباد خرابے میں کا خلاصہ

اس آباد خرابے میں اختر الایمان کی آپ بیتی ہے۔ سبق میں موجود حصہ میں مصنف نے اپنی گیارہ سالہ عمر میں پیش آنے والے زندگی کے واقعات کو اس طرح بیان کیا ہے کہ جب میں اپنے ابا کے ساتھ عبداللہ پور جمنا نگر اسٹیشن پر آیا تو ابا نے میرے سر پر ایک صندوق رکھا تھا جبکہ باقی سامان خود اٹھایا ہوا تھا۔ اسٹیشن سے ہم بغیر سواری کے نکلے اور منزل کے بارے میں ہمیں کچھ معلوم نہ تھا۔

پچھلا گاؤں جو ہم چھوڑ کر آئے اس کا نام کمباسی تھا۔ اس گاؤں کے متعلق دلچسپ یاد یہی تھی کہ وہاں کا گھر آسیب زدہ تھا اور وہاں میرا ایک بھائی پیدا ہوا جو قریب ایک ہفتہ یا پندرہ دن زندہ رہ کر مر گیا۔میرے والد کا پیشہ امامت کا تھا انہوں نے مذہبی تعلیم سہارن پور سے حاصل کی تھی۔اسی وجہ سے انہیں مختلف دیہاتوں میں جانا پڑتا تھا۔ جہاں وہ مسجد میں بچوں کو قرآن پڑھانے یا امامت کے فرائض انجام دیتے تھے۔میری تعلیم کا ہرچ نہ ہو اس وجہ سے میری والدہ میکے جاتے وقت مجھے ساتھ نہ لے کر جاتی تھیں۔

میری تعلیم کو لے کر میرے والد کا نقطۂ نظر یہی تھا کہ میں ان کے نقشِ قدم پر چلوں گا مگر جو خانہ بدوشی میرے والد نے اختیار کر رکھی تھی اس نے کبھی مجھے ایک طرح کی تعلیم پر جمنے نہ دیا۔بچپن کے حوالے سے ایک تصویر جو میرے ذہن میں واضح طور پر نقش ہے وہ میرے گاؤں چھوڑنے کا منظر ہے۔اس گاؤں کا نام رگڑی تھا ، جس میں بہت سے جوہڑ تھے جن میں کنول اور نیلو فر کھلتے تھے۔ ہر طرف آموں کے باغات تھے جن میں کھلیان پڑتے تھے۔کیکر اور کھجور پر بہیں جھولتی اور گیت گاتی تھیں۔ سرسبز جنگلات میں ہرنوں کی ڈاریں کلیلیں کرتی دکھائی دیتی تھیں۔

Advertisement

غرض یہاں پر وہ سب کچھ تھا جو مجھے پسند تھا۔رگڑی سے ہم کمباسی اور جمنا نگر سے ہوتے ہوئے جگا دھری پہنچے۔جہاں پر چوکیدار سے والد کی تکرار ہو جانے کے باعث ہم نے یہ رات جنگل سے ملحق قبرستان میں گزاری۔کمباسی سے ہم سگھ مدرسے کے لئے روانہ ہوئے تھے۔جو کہ اس جنگل کے قریب تھا جہاں ہم نے رات بھر قیام کیا تھا۔اس مدرسے کا نام سگھ میں واقع ہونے کی وجہ سے سگھ مدرسہ تھا جو کہ جنگل کے درمیان میں واقع تھا۔اس کے ایک جانب جنگل ،دوسری طرف کھیت اور ایک جانب آموں کا باغ تھا۔یہاں کچھ روز والد نے میرے ساتھ قیام کیا مگر کچھ روز بعد انہوں نے امامت کا پیشہ ترک کر کے مدرسے کے لئے چندہ اکھٹا کرنے کا م ذمہ لے لیا۔یہ مدرسہ چندے دعاؤں کے زور پر چلتا تھا۔یہاں پر موجود بچے کھانے کا انتظار زیادہ کرتے تھے جبکہ کھاتے کم تھے۔کھانا میسر نہ ہونے پر صبح سویرے اٹھا کر لڑکوں کو دعاؤں پر لگایا جاتا۔سردیوں کی راتوں میں اٹھنا مشکل امر تھا مگر قہر درویش بر جان درویش۔

یہاں پر قیام کی دو باتیں مجھے ہمیشہ یاد رہیں جس میں ایک لالی کی کھوپڑی تھی جسے لکڑ بگھا اٹھا کر لے گیا تھا اور جنگل سے اس کی خون آلودہ کھوپڑی ملی تھی۔دوسرا یہاں کے برسات کے کیڑے تھے جو کھانے میں گر جاتے تھے اور ان کی بو اتنی تیز تھی کہ ابھی تک ناک میں بسی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ ابا اور حافظ کے اختلاف کے باعث سگھ مدرسہ سے ہمارا تعلق قطع ہو گیا اور ہم سگھ بستی میں رہنے لگے۔ یہاں رحمت اللہ نامی شخص نے رہنے کے لئے اپنی حویلی کا ایک حصہ دیا۔یہاں سے میں سگھ سے ڈیڑھ میل فاصلے پر واقع بوڑیہ نامی قصبے کے سکول میں جانے لگا۔یہاں کا کانس کا جنگل، ندی کی ریت اور تلوں کو جلاتی دھوپ اور سردی ایسی یادیں ہیں کہ جیسے اس بستی میں کئی جنم گزارے ہوں۔

سوالات:

سوال نمبر:1 خودنوشت یا آپ بیتی کی تعریف بیان کیجئے۔

خودنوشت یا آپ بیتی سے مراد ہے اپنی زندگی کا حال بیان کرنا۔ اس بیان میں پوری زندگی بھی آ سکتی ہے اور زندگی کا کوئی خاص دور یا واقعہ بھی۔ایک اچھی آپ بیتی میں صرف گزری ہوئی باتوں کا بیان ہی نہیں بلکہ اس بیان کو حقیقت پر بھی مبنی ہونا چاہیے۔ خودنوشت اس لیے بھی لکھی جاتی ہے کہ لکھنے والا اپنی یادوں کو مرتب اور محفوظ کرنا چاہتا ہے۔ یا یہ کہ لکھنے والا اپنے قاری کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ اس دنیا اور اس کے لوگوں کو کس نظر سے دیکھا ہے۔

سوال نمبر:2: اختر الایمان کسی ایک طرح کی تعلیم پر کیوں نہ جم سکے؟

اختر الایمان کی ابتدائی تعلیم مختلف گاؤں اور قصبوں کے مدرسوں اور اسکولوں میں ہوئی جس کی اہم وجہ ان کے والد کے امامت کا پیشہ تھا۔ جس کی وجہ سے وہ خانہ بدو شانہ زندگی میں رہے۔ اس نے کبھی انہیں ایک طرح کی تعلیم پر جمنے نہ دیا۔ کبھی سرکاری سکول میں داخل کروادیا جاتا تو کبھی قرآن حفظ کرنے پر لگا دیا جاتا۔

سوال نمبر:3 اپنے گاؤں رکڑی کی کیا چیزیں اختر الایمان کو پسند تھیں؟

اختر الایمان کے گاؤں میں بہت سے جوہڑ تھے۔ جوہڑوں میں کنول اور نیلوفر کھلتے تھے۔ سب طرف آموں کے گھنے باغ تھے۔ با غوں میں کھلیان پڑتے تھے۔کیکر اور کھجور کے پیڑوں میں بیوں کے گھونسلے تھے۔جن میں وہ بیٹھے گیت گا تے اور جھولتے رہتے تھے۔ہرے ہرے جنگلوں اور کھیتوں میں ہرنوں کی ڈاریں کلیلیں کرتی دیکھائی دیتی تھیں۔کویلیں کوکتی تھیں۔ پہپیے بولتے تھے۔ پدے تھے۔ شامائیں تھیں لال تھے۔ منائیں تھیں۔ غرض کہ وہ سب کچھ تھا جو اختر الایمان کو مرغوب اور پسند تھے۔

سوال نمبر:4 اختر الایمان جب اپنے والد کے ساتھ جگادھری پہنچے تو وہاں کیا منظر تھا؟

اختر الایمان جب اپنے والد کے ساتھ جگادھری پہنچے تو وہاں انہیں جو منظر دیکھنے کو ملا وہ یہ تھا کہ وہاں شہر کے باہر سڑک کنارے ایک چوکی تھی۔ وہاں چوکیدار موجود تھا۔ چوکیدار سے ان کے والد کی تکرار ہو گئی۔ جس کی وجہ انہیں معلوم نہ ہوئی جھگڑا شاید اس بات پر ہوا کہ ان کے والد وہاں رات گزارنے کا ارادہ رکھتے تھے۔لیکن جھگڑے کے بعد وہاں رات گزارنے کا ارادہ ترک کر دیا۔

سوال نمبر 5:مدرسے میں رہنے والی بچی لالی کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا؟

مدرسے والے جب ایک روز سوکر اٹھے تو لالی غائب تھی۔سب کو بڑا تعجب ہوا کہ وہ کہاں جا سکتی ہے۔مدرسے میں ہر جگہ ڈھونڈا مگر نہیں ملی۔سب جنگل کی طرف دوڑے اسے پکارتے ہوئے کچھ لڑکے جنگل میں گئے تو وہاں ایک بھٹ کے باہر کچھ خون، خون میں لت پت لالی کے کپڑے اور اس کی کھوپڑی پڑی تھی۔لالی کو لکڑبگھا اٹھا لے گیا تھا۔