اسم فعل اور مفعول

اسم فاعل

وہ اسم مشتق ہے جو اس کام کے کرنے والے کو ظاہر کرے جو مصدر میں پایا جاتا ہے ۔یا جس کی ذات سے ہی کام کا کرنا ظاہر ہو۔

مثلاً:– لکھنے والا ،پڑھنے والا، پینے والا، دوڑنے والا، کھانے والا۔
ان کلموں میں لکھنے والا اس شخص کو ظاہر کرتا ہے جس سے لکھنے کا کام وجود میں آیا، یعنی جو لکھے،اسی طرح پڑھنے والا اس کو جو پڑھے،دوڑنے والا اس کو جو دوڑے۔کھانے والا جو کھائے،پینے والا جو پیے۔
اور یہ وہ کام ہیں جو ان مصدروں کے معنوں میں پائے جاتے ہیں۔ ایسے اسم ، اسم فاعل کہلاتے ہیں۔

اسم فاعل کی دو قسمیں ہیں

(١) اسم فاعل سماعی (٢) اسم فاعل قیاسی

(١) اسم فاعل سماعی

وہ اسم فعل ہے جوہر فعل سے نہیں بنایا جا سکتا۔جس طرح لوگ استعمال کرتے ہیں یا اہل زبان نے استعمال کیا ہے ویسے ہی استعمال کیا جا سکے۔سماعی اسم فاعل کے آخر میں والا، ہارا ، ایرا، یا او، اک، ڑی وغیرہ لگاتے ہیں۔ کیسے لکڑہارا، سنار، لوہار، سپیرا ، کھلاڑی وغیرہ۔

(٢) اسم فاعل قیاسی

وہ اسم فاعل ہے جس کو ایک مقررہ قاعدے سے بنایا جائے۔مصدر کا الیف ہٹا کر اس کے آگے یائے مجہول لگاتے ہیں اور پھر والا، والے ،والی، والیاں، میں سے ایک لفظ لگا کر بنایا جاتا ہے۔جسے کھانا سے کھانے والا، کھانے والے، کھانے والی،کھانے والیاں وغیرہ۔

اسم مفعول اور اسکی قسمیں

اسم مفعول

وہ اسم ہے جس سے وہ شخص یا چیز سمجھی جاتی ہے جس پر فاعل کا فعل واقع ہوتا ہے۔جیسے کھایا ہوا، کھائے ہوئے، کھائی ہوئی، وغیرہ۔اس کے علاوہ رنجیدہ دیدہ، مجروح، مرغوب ،محتاج وغیرہ بھی اسم مفہول کہلاتے ہیں۔

اسم مفعول کی دو قسمیں ہیں

(١) اسم مفعول ‏قیاسی ( ٢) اسم مفعول سماعی

(١) اسم مفعول قیاسی

وہ اسم ہیں جوہ اس قاعدے کے مطابق بنایا گیا ہو۔

(٢) اسم مفعول سماعی

وہ اسم ہے جس کو عام قاعدے سے بنانا گیا ہو۔

Close