تعارف

عصمت چغتائی ۲۱ اگست ۱۹۱۰ کو بدایوں کے ایک متوسط مسلم گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کا آبائی وطن بھوپال ہے جب کہ انھوں نے آگرہ میں پرورش پائی۔ عہد کے مطابق ابتدائی تعلیم گھر پر ہی ہوئی۔ پھر آگرے کے اسکول اور بعد ازاں مسلم گرلز اسکول علی گڑھ میں میڑک تک تعلیم حاصل کی۔ لکھنؤ سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔

ادبی آغاز

بیس بائیس برس کی عمر میں انھوں نے ایک کہانی  "فسادی” کے عنوان سے لکھی۔ یوں ان کے ادبی سفر کا آغاز ہو گیا تھا۔ ترقی پسند مصنفین میں عصمت چغتائی نے جنس کے موضوع کو بہت جرات اور بے تکلفی سے اس طرح پیش کیا ہے کہ جنس کا موضوع حد درجہ عریاں ہو جاتا ہے۔ دراصل عصمت فرائیڈ اور مارکس کے نظریات سے بہت زیادہ متاثر ہیں۔ وہ کرداروں کے ذریعے ناولوں میں جنسی ذہنی کشمکش کو بیان کرتی ہیں۔ عصمت پہلی خاتون ناول نگار ہیں جنھوں نے فرائیڈ کے اردو میں مشہور نظریہ تحلیل نفسی کا اثر سب سے زیادہ قبول کیا۔ عصمت کے جنسی ناولوں میں بے تکان زبان کسی کو نصیب نہیں۔ وہ الفاظ اور فقروں کو گویا طرارے بھرتی نظر آتی ہیں۔

ناول نگاری

عصمت چغتائی کا پہلا ناول "ضدی” پورن اور آشا کی ناکام محبت کی کہانی ہے جس میں عام روش سے ہٹ کر ایک مثالی محبت کو پیش کیا ہے۔ پورن کے کردار کے ذریعے عصمت نے سرمایہ دارانہ نظام کے عزت و وقار اور فرسودہ رسومات و روایات کے تصورات پر گہرا طنز کرتے ہوئے نئی قدروں کے پرور دہ پورن کے ترقی پسندانہ خیالات کی حقیقی ترجمانی کی ہے۔

عصمت کا دوسرا شاہکار "ٹیڑھی لکیر” ۱۹۴۷ء سوانحی انداز کا ناول ہے۔ جو خود عصمت چغتائی کی اپنی زندگی پر استوار ہے۔ اس ناول میں ایک کردار کا مطالعہ بچپن سے جوانی تک جس تفصیل سے کیا گیا ہے اس کی نظیر اردو ناول نگاری میں نہیں ملتی۔ سمن کے کردار کے ذریعے متوسط طبقہ کے معاشرتی، اخلاقی اور ذہنی پہلوؤں کو مختلف جہتوں سے پیش کیا گیا ہے۔ چھ سو صفحات پر محیط اس ناول میں پچاسوں کرداروں کے ذریعے زندگی کے بےشمار حقیقی پہلوؤں کی عکاسی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ان کا ناول "معصومہ” بھی ایک اچھا ناول ہے جس میں فلمی زندگی کی قلعی کھول گئی ہے کہ فلموں میں کس طرح بلیک کی کمائی لگائی جاتی ہے اور پروڈیوسر کی سیٹھ کے سامنے حیثیت کیا ہوتی ہے۔ یہ تمام باتیں عصمت نے معصومہ میں دانائے راز بن کر بیان کی ہیں۔

عصمت کا ناول "ایک قطرہ خون” واقعہ کربلا کو موضوع بنا کر انیس کے مرثیوں سے اکتساب کرتے ہوئے تحریر کیا گیا ہے۔ جس میں عصمت نے وہ رنگت اور حرکت پیدا کردی ہے کہ قاری سے خراج تحسین وصول کر لیتی ہے۔ ان کی انہیں گونا گوں خوبیوں کی بنا پر اردو فکشن کے ناقدوں نے انہیں جارج ایلیٹ کی بہن کا درجہ دیا ہے۔

ان کے ناول فن کا راز خلوص سے بھرپور اور اپنے مخصوص طنزیہ لب و لہجے اور منفرد انداز تحریر کی وجہ سے امتیازی اہمیت کے حامل ہیں۔عصمت کے ہاں طنزیہ پیرائے میں کسی کے دل شکنی یا تضحیک مقصود نہیں بلکہ اصلاح و درستی کا رجحان ملتا ہے۔

تصانیف

  • عصمت کی مشہور تصانیف میں
  • عجیب آدمی،
  • بدن کی خوشبو،
  • چوٹیں،
  • ایک قطرہ خون،
  • دو ہاتھ،
  • فسادی،
  • کاغذی ہے پیرہن،
  • لحاف،
  • ٹیڑھی لکیر،
  • ضدی اور
  • تین اناڑی قابلِ ذکر ہیں۔

آخری ایام

نصف صدی تک ادب کی دنیا میں روشنیاں بکھیرنے کے بعد ۲۴ اکتوبر ۱۹۹۱ کو وہ دارِ فانی سے کوچ کر گئیں اور ان کی وصیت کے مطابق ان کے جسد خاکی کو چندن واڑی برقی شمشان گھاٹ میں سپرد آتش کر دیا گیا۔

Advertisements