Advertisement

تعارفِ نظم:

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”برسات“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام اختر شیرانی ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر:

اختر شیرانی کو زیادہ شہرت نہ مل سکی۔ ان کا قصور یہ تھا کہ وہ ترقی پسند نہیں تھے جبکہ ان کے عہد میں، اور اس کے بعد بھی طویل عرصہ تک ، تخلیق و تنقید پر ترقی پسندوں کی حکمرانی رہی۔ لہٰذا زمانہ نے بڑی فراخدلی کا ثبوت دیتے ہوئے ان کو شاعر رومان کی سند دے کر ان کا اعمال نامہ بند کر دیا۔ اختر شیرانی نے صرف 43 برس کی عمر پائی اور اس عمر میں انہوں نے نظم و نثر میں اتنا کچھ لکھا کہ بہت کم لوگ اپنی طویل عمر میں اتنا لکھ پاتے ہیں۔ اردو تنقید پر اختر شیرانی کا جو قرض ہے وہ اسے ابھی تک پوری طرح ادا نہیں کر پائی ہے۔

Advertisement

شعر نمبر ۱:

گھٹاؤں کی نیل فام پریاں، افق پہ دھومیں مچا رہی ہیں
ہواؤں میں تھرتھرا رہی ہیں، فضاؤں کو گُدگُدا رہی ہیں

اس نظم میں شاعر بیان کرتے ہیں کہ برسات کے موسم میں آسمان کے کنارے پر ہوا گھٹائیں اڑاتی ہیں۔ یہ ہوائیں ہرے بھرے پتوں، کھیتوں اور پودوں کو لہلہاتی ہوئی گزر جاتی ہیں۔ ہر سو بہار کا سا سماں بن جاتا ہے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ آسمانوں پر موجود نیلی پریاں یعنی پانی بھرے بادل افق پر دھوم مچا رہے ہیں اور برسنے کو بے تاب ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ یہ بادل ہوا میں تھرتھرا رہے ہیں اور فضاؤں کو گدگددا رہے ہیں۔ اس شعر میں دراصل شاعر یہ بتا رہے ہیں کہ بارش ہونے سے پہلے آسمان پر کیسا سماں ہوتا ہے۔

Advertisement

شعر نمبر ۲:

چمن شگفتہ، دمن شگفتہ، گلاب خنداں، سمن شگفتہ
بنفشہ و نسترن شگفتہ ہیں، پتّیاں مسکرا رہی ہیں

تشریح:

اس نظم میں شاعر بیان کرتے ہیں کہ برسات کے موسم میں آسمان کے کنارے پر ہوا گھٹائیں اڑاتی ہیں۔ یہ ہوائیں ہرے بھرے پتوں، کھیتوں اور پودوں کو لہلہاتی ہوئی گزر جاتی ہیں۔ ہر سو بہار کا سا سماں بن جاتا ہے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ جب بارش ہوتی ہے تو چمن، دمن اور ہر چیز شگفتہ اور شاداب ہو جاتی ہے اس کے علاوہ گلاب کے پھول اور پتیاں بھی مسکرانے لگتی ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ بارش سے صرف انسان ہی نہیں بلکہ پیڑ پودے اور تمام جاندار لطف اندوز ہوتے ہیں۔

شعر نمبر ۳:

یہ مینہ کے قطرے مچل رہے ہیں، کہ ننھے سیّارے ڈھل رہے ہیں
اُفق سے موتی اُبل رہے ہیں، گھٹائیں موتی لُٹا رہی ہیں

تشریح:

اس نظم میں شاعر بیان کرتے ہیں کہ برسات کے موسم میں آسمان کے کنارے پر ہوا گھٹائیں اڑاتی ہیں۔ یہ ہوائیں ہرے بھرے پتوں، کھیتوں اور پودوں کو لہلہاتی ہوئی گزر جاتی ہیں۔ ہر سو بہار کا سا سماں بن جاتا ہے۔ اس شعر میں شاعر نے بارش کے قطروں کو ننھے سیاروں اور موتیوں سے تشبیہ دی ہے اور شاعر کہتے ہیں کہ بارش کے قطرے زمین پر آنے کے لئے مچل رہے ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کہ آسمان سے موتی ابل رہے ہو اور گھٹائیں موتیوں کو لٹا رہی ہوں۔

Advertisement

شعر نمبر ۴:

نہیں ہے کچھ فرق بحر و بر میں، کھنچا ہے نقشہ یہی نظر میں
کہ ساری دنیا ہے اِک سمندر، بہاریں جس میں نہا رہی ہیں

تشریح:

اس نظم میں شاعر بیان کرتے ہیں کہ برسات کے موسم میں آسمان کے کنارے پر ہوا گھٹائیں اڑاتی ہیں۔ یہ ہوائیں ہرے بھرے پتوں، کھیتوں اور پودوں کو لہلہاتی ہوئی گزر جاتی ہیں۔ ہر سو بہار کا سا سماں بن جاتا ہے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ بحر و بر میں کوئی فرق نہیں ہے اور پوری دنیا ہی ایک سمندر ہے جس کے اندر بہاریں آتی ہیں اور نہاتی ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ میں نے یہیں سے پوری دنیا کا نقشہ کھینچ لیا ہے کہ جب اس دنیا کے کسی بھی حصے میں بارش ہوتی ہے تو وہاں پر ایسا ہی منظر پایا جاتا ہے۔

شعر نمبر ۵:

چمن ہے رنگیں، بہار رنگیں، مناظرِ سبزہ زار رنگیں
ہیں وادی و کوہسار رنگیں، کہ بجلیاں رنگ لا رہی ہیں

تشریح:

اس نظم میں شاعر بیان کرتے ہیں کہ برسات کے موسم میں آسمان کے کنارے پر ہوا گھٹائیں اڑاتی ہیں۔ یہ ہوائیں ہرے بھرے پتوں، کھیتوں اور پودوں کو لہلہاتی ہوئی گزر جاتی ہیں۔ ہر سو بہار کا سا سماں بن جاتا ہے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ بارش ہو جانے کے بعد باغات، چمن اور تمام مناظر رنگین ہو جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ بارش ہونے کے بعد سبزہ بھی صاف ستھرا اور نکھرا نکھرا محسوس ہوتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ بارش ہونے کے بعد وادیاں بھی رنگین ہو جاتی ہیں کیونکہ جب بارش ہوتی ہے تو وہ گرج چمک کے ساتھ ہوتی ہے اور ہر جگہ کو صاف ستھرا کر دیتی ہے۔

Advertisement

شعر نمبر ۶:

چمن میں اختر بہار آئی، لہک کے صوت ہزار آئی
صبا گُلوں میں پکار آئی، اُٹھو گھٹائیں پھر آ رہی ہیں

تشریح:

اس نظم میں شاعر بیان کرتے ہیں کہ برسات کے موسم میں آسمان کے کنارے پر ہوا گھٹائیں اڑاتی ہیں۔ یہ ہوائیں ہرے بھرے پتوں، کھیتوں اور پودوں کو لہلہاتی ہوئی گزر جاتی ہیں۔ ہر سو بہار کا سا سماں بن جاتا ہے۔ اس شعر میں شاعر اپنے آپ کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ اختر دیکھو چمن میں باہر آ گئی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ دیکھو ہوا بھی پھولوں کو پکار رہی ہے کہ تیار ہوجاؤ بارش دوبارہ ہونے والی ہے اور تم سب دوبارہ سے صاف ستھرے ہو کر نکھر جاؤ گے۔ اس نظم کے آخری شعر میں شاعر یہ بتا رہے ہیں کہ جب بارش ہونے والی ہوتی ہے اس وقت ہوا میں بھی بارش کی خوشبو محسوس کی جا سکتی ہے اور پھر تمام جاندار ایک مرتبہ پھر بارش سے لطف اندوز ہونے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔

سوال 1: "برسات ” کے متن کو پیش نظر رکھ کر ہر درست جواب کے شروع میں (✓) کا نشان لگائیں۔

۱: ”نیل فام“ سے کیا مراد ہے؟

Advertisement
  • ٭سرخ رنگ کی
  • ٭نیلے رنگ کی (✓)
  • ٭سفید رنگ کی
  • ٭سیاہ رنگ کی

۲: ”اُفق“ کسے کہتے ہیں؟

  • ٭اس جگہ کو جہاں زمین اور آسمان ملتے ہیں (✓)
  • ٭آسمان کو
  • ٭آسمان پر پھیلنے والی سرخی کو
  • ٭فضا کو

۳: بقول شاعر ساری دنیا کیا ہے؟

Advertisement
  • ٭ایک چمن
  • ٭ایک دریا
  • ٭ایک سمندر (✓)
  • ٭ایک ننھا سیارہ

سوا ل2: مندرجہ ذیل الفاظ و تراکیب کی تشریح کریں۔

بحر و بر:سمندر و خشکی۔
مناظرِ سبزہ زار:سر سبز میدانوں کےحسین مناظر جو آنکھوں کو بھلے لگتے ہیں۔
وادی و کوہسار:پہاڑوں کا دامن۔
نیل فام:آسمان۔
چمن:گلستان

سوال 3: اس نظم میں”ردیف” کی نشان دہی کریں۔

جواب: اس نظم میں ردیف لفظ "رہی ہیں” کے ہے۔

سوال 4: ان اشعار کی تشریح کریں۔

گھٹاؤں کی نیل فام پریاں، افق پہ دھومیں مچا رہی ہیں
ہواؤں میں تھرتھرا رہی ہیں، فضاؤں کو گُدگُدا رہی ہیں

تشریح:

اس نظم میں شاعر بیان کرتے ہیں کہ برسات کے موسم میں آسمان کے کنارے پر ہوا گھٹائیں اڑاتی ہیں۔ یہ ہوائیں ہرے بھرے پتوں، کھیتوں اور پودوں کو لہلہاتی ہوئی گزر جاتی ہیں۔ ہر سو بہار کا سا سماں بن جاتا ہے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ آسمانوں پر موجود نیلی پریاں یعنی پانی بھرے بادل افق پر دھوم مچا رہے ہیں اور برسنے کو بے تاب ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ یہ بادل ہوا میں تھرتھرا رہے ہیں اور فضاؤں کو گدگددا رہے ہیں۔ اس شعر میں دراصل شاعر یہ بتا رہے ہیں کہ بارش ہونے سے پہلے آسمان پر کیسا سماں ہوتا ہے۔

Advertisement
چمن شگفتہ، دمن شگفتہ، گلاب خنداں، سمن شگفتہ
بنفشہ و نسترن شگفتہ ہیں، پتّیاں مسکرا رہی ہیں

تشریح:

اس نظم میں شاعر بیان کرتے ہیں کہ برسات کے موسم میں آسمان کے کنارے پر ہوا گھٹائیں اڑاتی ہیں۔ یہ ہوائیں ہرے بھرے پتوں، کھیتوں اور پودوں کو لہلہاتی ہوئی گزر جاتی ہیں۔ ہر سو بہار کا سا سماں بن جاتا ہے۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ جب بارش ہوتی ہے تو چمن، دمن اور ہر چیز شگفتہ اور شاداب ہو جاتی ہے اس کے علاوہ گلاب کے پھول اور پتیاں بھی مسکرانے لگتی ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ بارش سے صرف انسان ہی نہیں بلکہ پیڑ پودے اور تمام جاندار لطف اندوز ہوتے ہیں۔

سوال 5: جب کسی لفظ کو اس کے اصل معنی کی بجائے مجازی معنی میں اس طرح استعمال کیا جائے کہ اصل اور مجازی معنی میں تشبیہ کا تعلق ہو تو اسے استعارہ کہتے ہیں۔ اس شعر میں استعارے کی نشان دہی کریں۔

یہ مینہ کے قطرے مچل رہے ہیں، کہ ننھے سیّارے ڈھل رہے ہیں
اُفق سے موتی اُبل رہے ہیں، گھٹائیں موتی لُٹا رہی ہیں

جواب: اس شعر میں قطروں کے لیے لفظ ” سیارے” اور "موتی” استعارہ کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔

Advertisement

سوال 6: نظم "برسات” کا خلاصہ لکھیے جو زیادہ سے زیادہ دس جملوں پر محیط ہو۔

جواب: اس نظم میں شاعر بیان کرتے ہیں کہ برسات کے موسم میں آسمان کے کنارے پر ہوا گھٹائیں اڑاتی ہیں۔ یہ ہوائیں ہرے بھرے پتوں، کھیتوں اور پودوں کو لہلہاتی ہوئی گزر جاتی ہیں۔برسات میں قسم قسم کے رنگا رنگ پھولوں کی کلیاں کھل کر پھول بن جاتی ہیں۔ ابر برسنے کے منظر کو دیکھ کر انسان یوں تصور کر سکتا ہے کہ ایسے آسمان سے موتی برس رہے ہوں۔ بادلوں سے گرتے یہ موتی پھولوں اور پتوں پر سجے بہت انمول معلوم ہوتے ہیں۔ ہر سو پانی جمع ہوجاتا ہے اور سارا جہاں ہرے بھرے، لال گلابی رنگوں سے بھر جاتا ہے۔ ہر سو بہار کا سا سماں بن جاتا ہے۔

سوال 7: باغ کی سیر کا آنکھوں دیکھا حال لکھیں۔

جواب: عصر کی نماز کے وقت افق پر بادل چھانے لگے۔ دن بھر کی شدید گرمی جو آدمی کو جھلسا دے اب ماند پڑنے لگی۔ موسم زرا خوش نما ہوا تو سیر کا من چاہنے لگا۔ ٹہلتے ٹہلتے غیر ارادی طور پر میں باغ کی جانب چلا گیا۔ باغ میں مختلف رنگوں کے پھول اور ہرے ہرے پتوں نے مجھے اپنی جانب متوجہ کیا۔ اتنے میں بارش شروع ہو گئی اور ایک تناور درخت کے سائے میں میں نے زرا دم بھرا۔ میں نے غور کیا وہاں بارش کی وجہ سے ہر جانب خوشی کا سماں تھا۔ پرندے چہچہانے لگے اور بلبل اپنی میٹھی آواز میں سب کو برسات کی نوید سنانے لگی تھی۔

Advertisement

باغ میں کچھ لوگوں نے بارش میں اچھل کود کرنا شروع کر دی جن میں کثیر تعداد بچوں کی تھی۔ والدین اپنے بچوں کو بارش میں نہاتے دیکھ کر لطف اندوز ہو رہے تھے۔ پھولوں نے اپنے شباب کا رنگ نکھار کر دکھایا جس پر ننھی ننھی بوندیں موتیوں کے ایسے ظاہر ہو رہی تھیں۔ باغ میں گھاس، مٹی اور دھول سے پاک ہو گئی تھی۔ چند دیر تک سب کو یوں دیکھنے کے بعد جب بارش نے تھمنے کا نام نہ لیا تو میں گھر کی جانب کھلے نیلے آسمان تلے اکیلے ہی چلنے لگا اور برسات کی اس حسین نعمت سے لطف اندوز ہونے لگا۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement