Advertisement
  • کتاب “جان پہچان”برائے نویں جماعت
  • سبق نمبر04: انشائیہ
  • مصنف کا نام: خواجہ حسن نظامی
  • سبق کا نام:اوس

تعارف مصنف:

خواجہ حسن نظامی دہلی کے ایک معزز خاندان کے فرد تھے۔ ان کا بچپن تنگ دستی میں گزرا لیکن اپنی ذاتی کوششوں سے انھوں نے بہت جلد ترقی کی۔ وہ خواجہ حضرت نظام الدین اولیا کے عاشقوں میں سے تھے۔عشق و محبت کے اثرات ان کی تحریروں میں سے نمایاں نظر آتے ہیں۔

Advertisement

اردو زبان و ادب میں ان کا مرتبہ بلند ہے۔ انھیں مصور فطرت کے لقب سے یاد کیا جا تا ہے۔ انھوں نے کئی کتابیں لکھیں جن میں ‘غدر’،’ دہلی کے افسانے’ اور’ سی پارۂ دل’ کافی مشہور ہیں۔

Advertisement

ان کے مضامین کی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر نہایت ہی معمولی چیزوں پر لکھے گئے ہیں۔ لیکن خواجہ صاحب نے بات میں سے بات پیدا کر کے ان چھوٹی چھوٹی چیزوں سے جو مطالب نکالے ہیں وہ بڑے سبق آموز ہیں۔ خواجہ صاحب کے لکھنے کا ایک مخصوص انداز ہے۔

انشائیہ اوس کا خلاصہ

اس سبق میں مصنف “خواجہ حسن نظامی” نے اوس یعنی ننھی شبنم کے حوالے سے لکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ برسات کے موسم میں ہر شخص اپنے من چاہے موسم کا طلب گار ہوتا ہے۔ کسی کو بارش کی بوندیں چاہیے ہوتی ہیں تو کوئی کالی گھٹائیں پسند کرتا ہے۔مگر مجھے بارش کے بعد دھل اور کھل کر سامنے آنے والے مناظر لبھاتے ہیں۔

Advertisement

رات کے گزرنے کے بعد صبح کے منظر میں اوس کے قطرے پھولوں کی پتیوں پر یوں چپ چاپ نظر آتے ہیں کہ جیسے رات کو آسمان کے تارے تھے جو نجانے کب زمین پر ٹوٹ کر گرے ہوں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اوس کے قطرے انسا نی صحت کے لیے مضر ہیں۔ مگر یہ تو ساری مخلوق کو اس قدر ہشاش بشاش کرتے اور ان کے لیے فائدہ مند ہیں تو انسانی صحت کے لیے یہ کیسے نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔

اوس کو قدرت ربانی کا جلوہ بھی کہا ہے کیونکہ جن لوگوں کی آنکھ سویرے بیدار ہونے کی عادی ہیں وہ صبح سورج نکلنے سے پہلے اوس کو دیکھ کر ذات الہی کے ہزاروں جلوؤں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔صبح کے وقت پھولوں کے نظارے اور ان پر گرنے والے یہ قطرے کسی محشر کے جلوے سے کم نہیں ہوتے ہیں۔

Advertisement

مگر افسوس کہ اس اوس کی عمر بہت کم ہوتی ہے کہ رات کو پیدا ہوتی اور صبح مر جاتی ہے۔اوس کا مزاج صلح کل ہے۔ یہ سورج نکلنے کے ساتھ ہی جان دے دیتی ہے۔اس سے گلہ ہے کہ یہ کسی پیاسی زبان کی پیاس دور نہیں گر پاتی مگر اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اوس جب گرتی ہے تو ہاتھی نہا لیتا ہے لیکن چڑیا کی پیاس نہیں بجھتی ہے۔مختصرا اوس کو دیکھ کر قدرت کے کرشمے یاد اتے ہیں۔

سوچیے اور بتایئے:

اوس کے قطرے پھولوں کی پتیوں پر کیسے لگتے ہیں؟

اوس کے قطرے پھولوں کی پتیوں پر یوں چپ چاپ نظر آتے ہیں کہ جیسے رات کو آسمان کے تارے تھے جو نجانے کب زمین پر ٹوٹ کر گرے ہوں۔

Advertisement

خدا کی مخلوق کس چیز سے تروتازہ اور نہاں ہوتی ہے؟

خدا کی مخلوق اوس کے گرنے سے تروتازہ اور نہاں ہو جاتی ہے۔

مصنف نے اوس کو قدرت ربانی کا جلوہ کیوں کہا ہے؟

مصنف نے اوس کو قدرت ربانی کا جلوہ اس لئے کہا ہے کیونکہ جن لوگوں کی آنکھ سویرے بیدار ہونے کی عادی ہیں وہ صبح سورج نکلنے سے پہلے اوس کو دیکھ کر ذات الہی کے ہزاروں جلوؤں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

Advertisement

اوس کے بارے میں کون سی ضرب المثل مشہور ہے؟

اوس کے متعلق یہ ضرب المثل مشہور ہے کہ اوس جب گرتی ہے تو ہاتھی نہا لیتا ہے لیکن چڑیا کی پیاس نہیں بجھتی ہے۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے:

اوسرات خوب اوس پڑی۔
مخلوقتمام چرند پرند اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔
عجیب و غریبآج ایک نہایت عجیب و غریب معاملہ پیش آیا۔
عمل دخلاس کی اصلاح میں اس کے اساتذہ کا بہت عمل دخل ہے۔
صلحکل ہمیں صلح کل بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کے واحد اور جمع بنائے:

واحدجمع
جذبہجذبات
مشاہدہمشاہدے
جلوہجلوے
خبراخبار
گھٹاگھٹائیں
بوندبوندیں

عملی کام :

اوس پر پانچ جملے لکھیے۔

  • اوس زمین پر مائع نمی ہے جو صبح کے وقت نظر آتی ہے۔
  • اوس سورج کے چمکنے کے ساتھ غائب ہو جاتی ہے۔
  • بخارات کے گاڑھا ہونے سے اوس بنتی ہے۔
  • اوس پودوں پر بہت خوشنما محسوس ہوتی ہے۔
  • اوس تمام مخلوق کے لیے بہت صحت مند ہے۔

Advertisement