Advertisement
  • کتاب”جان پہچان”برائے نویں جماعت
  • سبق نمبر05:گیت
  • شاعر کا نام: اختر شیرانی
  • گیت کا نام: ایک دیہاتی لڑکی کا گیت

تعارف مصنف:

محمد داؤد خاں اختر شیرانی راجستھان کے شہر ٹونک میں پیدا ہوئے۔ وہ اردو کے مشہور محقق اور ادیب حافظ محمود خان شیرانی کے بیٹے تھے۔ ریاست ٹو نک کا ماحول نہایت علم پرور اور زبان و ادب کو فروغ دینے والا تھا۔ اختر شیرانی کی پرورش اسی ماحول میں ہوئی۔

انھیں فطرت سے بے پناہ لگاؤ تھا۔ قدرتی مناظر کو انھوں نے خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اختر شیرانی کو رومانی شاعر کہا جا تا ہے ۔ ان کی شاعری میں گیتوں جیسی روانی اور نغمگی ہے۔ نظم ، گیت اور سانیٹ ان کی پسندیدہ اصناف ہیں۔ ان کی شاعری کاکلیات شائع ہو چکا ہے۔ اختر شیرانی کی نظموں کا دوسرا اہم موضوع حب الوطنی ہے۔

Advertisement

ان کی نظموں میں اپنی دھرتی اور اس کے حسن کے جلووں کا عکس جھلکتا ہے۔ جنھیں پڑھ کر ایک مانوس فضا کا احساس ہوتا ہے۔اختر شیرانی مقبول اور باکمال شاعر تھے۔ ان کا انتقال عین جوانی میں ہوا۔

Advertisement

اشعار کی تشریح:

سنو! یہ کیسی آواز آرہی ہے
کوئی گاؤں کی لڑکی گارہی ہے

یہ شعر اختر شیرانی کے گیت جس کا عنوان ” ایک دیہاتی لڑکی کا گیت” ہے سے لیا گیا ہے۔ جس میں وہ دیہات کی فضا میں بیٹھی ایک لڑکی کے گیت کو بیان کیا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ کہیں سے کوئی آواز آرہی ہے سنو یہ آواز کیسی ہے۔یوں محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے کوئی گاؤں کی لڑکی کوئی گیت گارہی ہے۔

Advertisement
فضا پر بستیوں پر جنگلوں پر
دھواں دھار ایک بدلی چھا رہی ہے

وہ لڑکی اپنے پرسوز گیت میں کہتی ہے کہ تمام تر فضا ، بستیوں اور جنگلوں میں ایک ہی فضا چھائی ہوئی ہے۔یوں محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے کوئی دھواں دھار بدلی چھا رہی ہے۔

چھا چھم مینہ کی بوندیں پڑ رہی ہیں
کہ ساون کی پری کچھ گا رہی ہے

شاعر کہتا ہے کہ بارش کی بوندیں چھم چھم کر کے برس رہی ہیں۔ ان بوندوں کے برسنے کی مدھر آواز سے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے ساون کی پری آ پہنچی ہو اور وہ کوئی گیت گا رہی ہو۔

Advertisement
ہوا کی سرسراہٹ ہے کہ فطرت
پرانی زندگی دہرا رہی ہے

شاعر ہوا کی سرسراہٹ کو فطرت سے تشبیہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ہوا کی آواز کس قدر فطری معلوم ہو رہی ہے۔یوں محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے پرانی زندگی خود کو دہرانے میں لگی ہوئی ہے۔

یہ گھر سسرال ہوگا شاید اس کا
جبھی ماں باپ کی یاد آ رہی ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جس گھر میں بیٹھی وہ لڑکی گیت گارہی ہے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے وہ اس کا میکہ نہیں بلکہ سسرال کا گھر ہے۔ جبھی وہ لڑکی اس قدر افسردہ ہے اور اس کے گیت کی افسردگی یہ ظاہر کر رہی ہے کہ اسے اپنے ماں باپ کی یاد آ رہی ہو گی۔

Advertisement
جبھی مصروف ہے آہ و فغاں میں
جبھی غمگین لے میں گا رہی ہے

شاعر کہتا ہے کہ اس لڑکی کو چونکہ اپنے ماں باپ کی یاد ستا رہی ہے اس لیے ایسے لگتا ہے کہ وہ آہ و زاری میں مصروف ہے۔اس کے گیت کی افسردگی اور غمگین لہجہ اس کی کیفیت بیان کر رہا ہے۔

شوالے میں گجر بھی جاگ اٹھا
ٹھنا ٹھن ٹھن کی آواز آرہی ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اس لڑکی کا پر سوز گیت سن کر شو مندر کا گرجا بھی جاگ اٹھا ہے اور اس کے مسلسل بجنے سے ٹھن ٹھن کی آوازیں آ رہی ہیں۔

Advertisement
کوئی چڑیا نکل کر گھونسلے سے
گھنے جنگل میں منگل گا رہی ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اس گیت کی لے سے کوئی چڑیا اپنے گھونسلے سے اڑ کر گھنے جنگل میں نکل گئی ہے اور وہ جنگل میں مستی بھرا گیت گائے جارہی ہے۔

کوئی بکری کہیں کرتی ہے میں میں
کوئی بچھیا کہیں چلا رہی ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اس لڑکی پیچھے کسی بکری کے منمانے کی آواز آرہی ہے کہ وہ میں میں کیے جا رہی ہو۔ اس کے پیچھے گائے کی بچھیا کے چلانے کی آواز بھی سنائی دے رہی ہے۔

Advertisement
مگر ان سب سے بے پروا وہ وہ لڑکی
برابر گیت گاۓ جارہی ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ وہ لڑکی اپنے پیچھے اور اردگرد کی تمام آوازوں سے بے نیاز مسلسل اپنا گیت گائے جارہی ہے۔

سوچیے اور بتایئے:-

لڑکی کے گاتے وقت کس طرح کا ماحول تھا؟

لڑکی جب گیت گارہی تھی اس وقت گاؤں کی فضا، بستیوں اور تمام ماحول پر بدلی سی چھائی ہوئی تھی۔ اس کے پیچھے بچھیا اور بکری وغیرہ کی آواز آرہی تھی۔

Advertisement

لڑکی غمگین لے میں کیوں گا رہی تھی؟

لڑکی اپنے سسرال میں موجود تھی اور اسے اپنے میکے والوں کی یاد آ رہی تھی جس کی وجہ سے اس کے گانے کی لے غمگین تھی۔

لڑکی کن چیزوں سے بے پروا ہوکر گا رہی تھی؟

لڑکی مندر کی گھنٹی ، بچھیا کی آواز اور بکری کے منمانے تمام آوازوں سے بے پروا ہو کر اپنا گیت گا رہی تھی۔

Advertisement

عملی کام:-

حرف عطف ’’ واؤ‘‘ کے ذریعے دولفظوں کو ملانے کی کچھ مثالیں لکھیے۔

دل و جان ، روز و شب ، آرام و سکون ، صبح و شام ، لیل و نہار وغیرہ۔

Advertisement

Advertisement