سوال نمبر 1: اس کہانی کا خلاصہ اپنے الفاظ میں تحریر کیجیے۔

آج سے کئی سال پہلے کوفہ کے پاس ایک عطر بیچنے والا رہتا تھا۔اس کا نام عطار تھا اور اس کا ایک بیٹا ہوا جس کا نام جابر رکھا گیا۔اس کو اپنی بیٹے کی فکر لاحق ہوئی چنانچہ وہ جرائم کرنے لگا۔ ابھی جابر کچھ ہی برس کا ہوا تھا کہ باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ اب اس کی تعلیم کا بوجھ اس کی والدہ کے سر پر پڑ گیا تو انہوں نے جابر کو تعلیم کے لئے اپنے رشتے داروں کے یہاں بیج دیا۔ یہاں ان کو معمولی تعلیم میسر ہوئی لیکن ان میں تلاش کرنے کا مادہ بھرا ہوا تھا۔

کچھ عرصہ گزرنے کے بعد جابر کوفہ واپس آئے۔‌ ان دونوں کوفہ میں عمدہ علمی ماحول تھا۔جابر کو مزید تعلیم کا شوق پیدا ہوا اس نے مروجہ تعلیم کے لیے مدرسے میں داخلہ لیا۔ اب جابر جوان ہو گیا تھا اوراس سے ماں کی غریبی دیکھے نہ گی۔ اس لیے اس نے سونا بنانے کا سوچا اوراس نے مختلف دواؤں کی خاصیت معلوم کرنا شروع کر دیا۔ مختلف قسم کے دھاتیوں اور جڑی بوٹیوں کوایک خاص قسم کی بھٹی میں پھگلاانا شروع کیا۔

غرض وہ طرح طرح کی دھاتیں اور الگ الگ شکلوں کے برتن بناتا رہا۔وہ ہر وقت کیمیاگری کے نئے نئے تجربہ کرتا اسی دوران اس نے بہت سارے چیزیں ایجاد کیں۔ جس سے لوگوں کو بہت فائدہ ہوا اسی طرح وہ مشہور ہو گیا۔

ہارون رشید جو اس وقت کا خلیفہ تھا، انہوں نے جابر کو بغداد آنے کی دعوت دی اور پھرخلیفہ نے اس کی بہت عزت کی اور انعام و اکرام سے نوازا۔جابر ہی نے ہمیں بتایا کہ ٹھوس چیز کو بخارات میں کیسے تبدیل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح اس نے دوائیوں کو محفوظ رکھنے کا طریقہ بھی ایجاد کیا۔جا بر یہیں نہیں رکا بلکہ اس نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ لوہے کو کس طرح صاف کرکے فولاد میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

جابر نے معدنی تیزاب ایجاد کیا جو نہایت ہی کارآمد ہے اور اس نے nitric acid ایجاد کیا۔ اس کو بناتے وقت اس نے کافی برتن ضائع کیے۔ جس برتن میں تیزاب رکھتا اس میں سوراخ ہو جاتا تھا۔جابر کی بہت ساری کوششوں کے بعد اس کے پاس ایک سونے کا برتن بچا تو اس نے اس کو بھی آزمایا پر سونے کے برتن پر تیزاب کا کوئی اثر نہیں ہوا۔اورشیشے کے برتن پر بھی تیزاب کا کوئی اثر نہ ہوا پھر جابر نے اپنے تجربات کے کے بارے میں لوگوں کو بتایا کہ سونے اور شیشے کے برتنوں پر تیزاب کا کوئی اثر نہیں ہوتا باقی تمام تمام برتن تیزاب سے جل جاتے ہیں۔

جابر ایک عظیم سائنسدان تھا اس نے تیزاب ایجاد کیا، اس نے سونا پگلانے والا تیزاب بھی ایجاد کیا۔ یہ سب بنانے میں اس کی آنکھیں خراب ہوگئیں اور ساتھ ساتھ انگلیاں بھی جل رہی تھی لیکن اس نے اپنے کام کو نہیں چھوڑا۔ کوفے کے اس عظیم سائنسداں کو علم کیمیا یعنی (کمسٹری) کا بابا آدم تسلیم کیا جاتا ہے۔

اس سبق کے سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔

سوال نمبر2: ذیل کے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجئے۔

محاورےجملے
فکر لاحق ہونازید کو اپنی پڑھائی کی بہت زیادہ فکر لاحق ہوتی ہے۔
بوجھ پڑھناجب امتحان آتے ہیں تو بچوں پر بوجھ پڑ جاتا ہے۔
کوٹ کوٹ کر بھرناوالدین کے دلوں میں بچوں کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہوتی ہے۔
دُھن سوار ہوناامتحان کے آتے آتے بچوں پر محنت کرنے کی دُھن سوار ہوجاتی ہے۔
بابا آدممولوی عبدالحق کو اردو کا باوا آدم کہا جاتا ہے۔

سوال نمبر 3: سوچیے اور ذیل کے جملوں کو پورا کیجئے۔

١- کیمیا بنانے والاکیمیا گر
٢-عطر بچنے والاعطار
٣- صبر کرنے والاصابر
٤- رنگنے والا کورنگ ساز
٥- شیشے بنانے والے کوشیشہ گر
٦- لوہے کے اوزار بنانے والے کولوہار
٧- پڑھانے والے کواستاد
٨- علم حاصل کرنے والےطالبِ علم