جدید ہند آریائی

قطعی طور پر یہ کہنا مشکل ہے کہ جدید ہند آریائی زبانیں کس سن سے شروع ہوئیں۔ایک اندازے کے مطابق 1000عیسوی جدید ہند آریائی کے آغاز کا زمانہ مانا جاتا ہے۔اس وقت ہندوستان میں اہم سیاسی اور تہذیبی تبدیلیاں رونما ہورہی تھیں۔

جدید ہند آریائی زبانوں کی تشکیل کا زمانہ سیاسی لحاظ سے سخت الٹ پھیر کا زمانہ تھا۔ اسلامی تہذیب، معاشرت اور مسلمان فاتحین کی زبانوں کا اختلاط یہاں کی تہذیب و تمدن اور زبانوں سے ہونے لگا جس سے جدید ہند آریائی کے ارتقاء میں کافی مدد ملی۔ڈاکٹر سنیتی کمار چٹرجی نے اپنی کتاب "انڈو ایرین اینڈ ہندی”میں لکھا ہے کہ "اگر مسلمانوں نے ہندوستان میں فتوحات حاصل نہ کی ہوتیں تب بھی جدید ہند آریائی زبانیں پیدا ہوتی لیکن انہیں جو سنجیدہ ادبی حیثیت حاصل ہو گئی ہے اس میں ضرور دیر ہوتی” پروفیسر مسعود حسین خان کے الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کی ہندوستان میں آمد کے ساتھ ایک نیا تمدن اور ایک نئی زبان کی آمد ہوئی۔

ہندوستان ایک وسیع ملک ہے۔ اسی لئے جب جدید ہند آریائی سے مختلف قوموں کا ربط و تعلق بڑھتا گیا تو بہت سی زبانوں اور تہذیبوں کا امتزاج واضح نظر آنے لگا۔ ان میں الگ الگ لسانی خصوصیات ظاہر ہونے لگیں۔ ڈاکٹر سنیتی کمار چٹرجی نے ان کی لسانی خصوصیات کے پیش نظر جدید ہند آریائی زبانوں کو مختلف علاقوں میں تقسیم کیا ہے۔

سندھی

یہ صوبۂ سندھ کی زبان ہے۔ اس کے بولنے والوں میں مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ سندھی میں عربی و فارسی کے الفاظ کثرت سے شامل ہیں۔ پاکستان میں یہ عربی رسم الخط میں اور ہندوستان میں دیوناگری میں لکھی جاتی ہے۔ سندھی میں صوفیانہ ادب کا ذخیرہ موجود ہے۔جدید ہند آریائی زبانوں میں یہ واحد زبان ہے جس پر عربی کا راست اثر پڑا ہے۔

لہندا

یہ مغربی پنجابی کی زبان ہے۔ یہ اپنی قواعد اور فرہنگ دونوں اعتبار سے مشرقی پنجابی سے مختلف ہے۔ اس کا اپنا رسم الخط ہے جسے "لنڈا” کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ عموماً فارسی رسم الخط میں ہی لکھی جاتی ہے۔

پنجابی

مغرب میں یہ لہندا یا مغربی پنجابی، شمال اور شمال مشرق میں پہاڑی زبانوں اور جنوب میں بیکانیری بولیوں سے گھری ہوئی ہے۔ مشرق میں اس کے حدود مغربی ہندی کی دو بولیوں یعنی کھڑی بولی اور ہریانی سے ملتے ہیں۔ پنجابی ہی کی ایک شاخ ڈوگری ہے جو جموں میں رائج ہے۔ سکھ مذہب کی وجہ سے پنجابی کو بہت ترقی ہوئی۔ انھوں نے اس کے لیے گرمکھی رسم الخط اختیار کیا۔ امرتسر ضلع گرداسپور کی پنجابی معیاری سمجھی جاتی ہے۔ پنجابی فارسی، گرمکھی اور دیوناگری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے۔

گجراتی

یہ گجرات کاٹھیاواڑ اور کچھ کی زبان ہے۔ جدید گجراتی قواعد کے اعتبار سے مغربی ہندی بالخصوص برج بھاشا سے کافی متاثر ہے۔ اسماء اور افعال کے اعتبار سے یہ مغربی ہندی کی اتباع کرتی ہے جو دکنی کی بھی خصوصیت ہے۔

راجستھانی

یہ مدھیہ پردیش کی زبان ہے۔ یہ شورسینی اپ بھرنش سے نکلی ہے۔ اس میں قدیم ادب کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ ہندی کے ویر گاتھا کال کے کئی راسو راجستھانی میں ملتے ہیں۔ راجستھانی کی کئی بولیاں ہیں جن میں مارواڑی، جئے پوری، میواتی اور مالوی قابل ذکر ہیں۔ راجستان کی تہذیبی زبان ہندی ہے۔

مغربی ہندی

گریسن نے مدھیہ پردیش کی زبان کو مغربی ہندی کا نام دیا ہے۔ جس نے سب سے پہلے مشرقی اور مغربی ہندی میں فرق کیا ہے۔ مغربی ہندی کا براہ راست تعلق شورسینی اپ بھرنش سے ہے۔ مغربی ہندی کی پانچ درج ذیل بولیاں ہیں جنہیں ہم آگے تفصیل سے پڑھیں گے۔

(١) کھڑی بولی یا ہندوستانی (٢) ہریانوی (٣) برج بھاشا (٤) قنوجی (٥) بندیلی

اردو کا سلسلہ بھی انہیں مغربی ہندی کی بولیوں سے ملتا ہے اس لئے مغربی ہندی کی ان بولیوں کے بارے میں ہم آگے تفصیل سے پڑھیں گے۔

مشرقی ہندی

مشرقی ہندی میں مدگرھی، اودھی، بگھیلی اور چھتیسگڑھی بولیاں شامل ہیں۔ اودھی لکھنو، فیض آباد اور اعلی آباد میں بولی جاتی ہے۔اس کا ادب کسی زمانے میں بہت دقیع تھا۔ اس زمانے میں اس بولی کی حیثیت زبان کی تھی۔اس میں جائسی کی پدماوت اور تلسی داس کی رام چرتمانس یعنی رمائن جیسے شاہکار ملتے ہیں۔

بگھیلی، بندیل کھنڈ کی بولی ہے۔چھتیسگڑھی ، مشرقی مدھیہ پردیش میں چھتیس گڑھ کی بولی ہے۔ اس پر مراٹھی اور اڑیہ کا اثر ہے۔مشرقی ہندی بولنے والوں کی تہذیبی زبان ہندی ہے۔ ماگدھی سے تعلق رکھنے والی زبانوں میں آسامی، بنگالی، اڑیا شامل ہیں۔

اڑیا ہندوستان کی اہم زبانوں میں شامل کی جاتی ہے جس میں مراٹھی الفاظ کثرت سے ملتے ہیں۔ آندھرا پردیش سے قربت کی وجہ سے تلگو الفاظ بھی داخل ہو گئے ہیں۔ اڑیا کی قواعد بنگالی سے بہت ملتی جلتی ہے۔

ماگدھی سے بہاری زبان کا بھی ارتقا ہوا ہے۔ دراصل گیان چند جین کا خیال ہے کہ بہاری بذات خود کوئی زبان نہیں بلکہ یہ تین زبانوں یعنی میتھلی، مگہی اور بھوجپوری کا مجموعہ ہے۔ بہار میں تین رسم الخط رائج ہیں اور لکھائی، چھپائی دیوناگری میں ہوتی ہے۔ عام تحریروں میں کیتھی رسم الخط اپنایا جاتا ہے۔

Close