Advertisement

نظم جلوہ دربار دہلی کی تشریح:

سر میں شوق کا سودا دیکھا
دہلی کو ہم نے بھی جا دیکھا
جو کچھ دیکھا اچھا دیکھا
کیا بتلائیں کیا کیا دیکھا

نظم کے اس بند میں شاعر اکبر الہ آبادی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے دہلی شہر دیکھنے کا شوق ہوا تو میں دہلی کو دیکھنے جا پہنچا۔جب میں نے شہر کی سیر کی تو یہاں پر جو کچھ دیکھا وہ بہت خوب اور اچھا تھا۔اب میں کیا بتاؤں کہ یہاں میں نے کیا کیا دیکھا تھا۔

Advertisement
جمنا جی کے پاٹ کو دیکھا
اچھے ستھرے گھاٹ کو دیکھا
سب سے اونچے لاٹ کو دیکھا
حضرت ”ڈیوک کناٹؔ” کو دیکھا

اس بند میں شاعر نے کہا ہے کہ جب وہ دہلی آئے تو انھوں نے دریائے جمنا کا پاک اور صاف ستھرے گھاٹ دیکھے، سب سے اونچے لاٹ (لارڈ) اور ڈیوک کناٹ کے دیدار کیے۔

Advertisement
پلٹن اور رسالے دیکھے
گورے دیکھے کالے دیکھے
سنگینیں اور بھالے دیکھے
بینڈ بجانے والے دیکھے

وہ دور چونکہ انگریزوں کا دور تھا تب شاعر نے دہلی میں سب سے اونچے لاٹ (لارڈ) اور ڈیوک کناٹ کے دیدار کیے۔ پلٹن، فوجی رسالے، ہتھیار بند اور یہاں گورے، کالے فوجی تھے اور انہیں کے ساتھ بینڈ باجے والے بھی موجود تھے۔

خیموں کا اک جنگل دیکھا
اس جنگل میں منگل دیکھا
برھما اور ورنگل دیکھا
عزت خواہوں کا دنگل دیکھا

دہلی میں شاعر نے دیکھا کہ دور تک (کشمیری گیٹ تا کنگزوے کیمپ) خیموں کا جنگل تھا، جدھر نظر جاتی تھی، خیمے ہی خیمے تھے۔ اس دربار دہلی کے لئے بلند مرتبہ، عزت دار لوگوں کے درمیان مقابلہ ہو رہا تھا کہ وہ کس مقام پر رہے گا، اس کا خیمہ کہاں ہوگا، وہ انگریز حکمراں کس قدر نزدیک رہے گا۔

Advertisement
سڑکیں تھیں ہر کمپ سے جاری
پانی تھا ہر پمپ سے جاری
نور کی موجیں لیمپ سے جاری
تیزی تھی ہر جمپ سے جاری

اس بند میں شاعر نے ان کیمپوں کے لگنے کی منظر کشی کرتے ہوئے بتایا کہ خیمے لگانے میں یہ اہتمام کیا گیا تھا کہ ہر کیمپ کا الگ راستہ تھا جو سڑک کی طرف جاتا تھا، ہرطرف پانی کے پمپ لگے ہوئے تھے، روشنی کے لئے لیمپ تھے، ہر شخص تیزی سے دوڑ دوڑ کر کام کر رہا تھا۔

Advertisement
ڈالی میں نارنگی دیکھی
محفل میں سارنگی دیکھی
بیرنگی بارنگی دیکھی
دہر کی رنگا رنگی دیکھی

شاعر کہتا ہے کہ کہیں سجاوٹ زیادہ تھی اور کہیں کم، ماحول کو خوبصورت بنانے کے لئے درختوں، ٹہنیوں پر مصنوعی نارنگیاں لگائی گئی تھیں، محفل میں موسیقی میں سارنگی بج رہی تھی۔ ہر جانب رنگا رنگ جلوے موجود تھے۔

اچھے اچھوں کو بھٹکا دیکھا
بھیڑ میں کھاتے جھٹکا دیکھا
منہ کو اگرچہ لٹکا دیکھا
دل دربار سے اٹکا دیکھا

شاعر یہاں کے ہجوم کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس قدر لوگ تھے اور رونق تھی کہ معلوم ہو رہا تھا کہ پوری دنیا یہاں سمٹ آئی ہے۔ لوگوں کے ہجوم میں اچھے اچھے بھٹک رہے تھے، بھیڑ میں دھکے لگ رہے تھے۔ اس وجہ سے لوگوں کے چہرے لٹکے ہوئے تھے مگر دل دربار میں اٹکا ہوا تھا۔

Advertisement
ہاتھی دیکھے بھاری بھرکم
ان کا چلنا کم کم تھم تھم
زریں جھولیں نور کا عالم
میلوں تک وہ چم چم چم چم

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ دہلی کی اس رونق میں میں نے دیکھا کہ بھاری بھرکم ہاتھیوں کی کمر پر سنہری کام والی جھولیں پڑی ہوئی تھیں۔ وہ ٹھہر ٹھہر کر آہستہ آہستہ چل رہے تھے، جدھر نظر جاتی تھی، میلوں تک رونق نظر آ رہی تھی۔ سنہری روشنیاں چم چم کر رہی تھیں۔

پر تھا پہلوئے مسجد جامع
روشنیاں تھیں ہر سو لامع
کوئی نہیں تھا کسی کا سامع
سب کے سب تھے دید کے طامع

شاعر اکبر الہ آبادی نے دہلی میں دیکھا کہ جامع مسجد کے اطراف میں بھی لوگ موجود تھے، ہر طرف روشنی سے علاقہ جگمگا رہا تھا۔ اس قدر بھیڑ تھی کہ کوئی کسی کی بات سننا نہیں چاہتا تھا۔ سب کے سب اس بات کے خواہش مند تھے کہ کسی طرح دربار کا جلوہ دیکھیں۔

Advertisement
سرخی سڑک پر کٹتی دیکھی
سانس بھی بھیڑ میں گھٹتی دیکھی
آتش بازی چھٹتی دیکھی
لطف کی دولت لٹتی دیکھی

دہلی میں دربار کی شان و شوکت بڑھانے کے لیے سڑکوں پر سرخ بجری کوٹ کر ڈالی گئی تھی۔ بھیڑ میں سانس لینا محال تھا۔ آتش بازی چھوڑی جارہی تھی۔ مفت میں لطف اندوز ہونے کے سامان تھے۔ لطف کی دولت لٹتی دیکھی سے مراد ہے کہ لوگ یہاں بغیر کوئی پیسہ خرچ کئے لطف حاصل کررہے تھے۔

چوکی اک چولکھی دیکھی
خوب ہی چکھی پکھی دیکھی
ہر سو نعمت رکھی دیکھی
شہد اور دودھ کی مکھی دیکھی

دہلی میں دربار کے لئے ایک بہت قیمتی چوکی کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ہر طرف نعمتیں رکھی ہوئی تھیں (کھانے پینے کا سامان) اسی کے ساتھ ساتھ شہد اور دودھ پر بیٹھنے والی مکھی بھی موجود تھی۔

Advertisement
ایک کا حصہ من و سلویٰ
ایک کا حصہ تھوڑا حلوا
ایک کا حصہ بھیڑ اور بلوا
میرا حصہ دور کا جلوا

شاعر نے اس محفل کے کھانے کی کیفیت کو یوں بیان کیا ہے کہ یہاں موجود تو طرح طرح کے کھانے تھے مگر عالم یہ تھا کہ کسی کے حصّے میں لذیذ کھانے آرہے تھے تو کسی کو صرف حلوے پر اکتفا کرنا پڑ رہا تھا۔ کوئی بھیڑ اور ہنگاموں کا حصہ بنا ہوا تھا۔ اکبر کہتے ہیں کہ ان کے حصے میں دور کا جلوہ آیا یعنی انہوں نے دور ہی سے دربار دہلی منعقد ہوتے دیکھا۔

اوج بریش راجا دیکھا
پرتو تخت و تاج کا دیکھا
رنگ زمانہ آج کا دیکھا
رخ کرزن مہراج کا دیکھا

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ اس موقع پر برٹش حکومت کا عروج نظر آیا۔ تخت و تاج کی چمک دیکھ کر آج کے زمانے کے رنگ کا خیال آیا (وقت کس قدر بدل گیا ہے) کبھی یہاں مغلوں کی حکومت تھی اور اب تخت پر لارڈ کرزن تشریف فرما ہیں۔

Advertisement
پہنچے پھاند کے سات سمندر
تحت میں ان کے بیسوں بندر
حکمت و دانش ان کے اندر
اپنی جگہ ہر ایک سکندر

شاعر تخت شاہی پر انگریزوں کو براجمان دیکھ کر کہتا ہے کہ انگریز ہندوستان میں سات سمندر پار سے آئے تھے۔ ان کے ساتھ بیسیوں اعلی افسر تھے جن میں عقل کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور ہر ایک اپنی جگہ سکندر تھا۔

اوج بخت ملاقی ان کا
چرخ ہفت طبقاقی ان کا
محفل ان کی ساقی ان کا
آنکھیں میری باقی ان کا

شاعر کہتا ہے کہ اس وقت انگریزوں کی خوش نصیبی پورے عروج پر تھی۔ ان کی وسیع حکومت اور سلطنت کو دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ ساتویں آسمان تک انگریزوں کی حکومت ہے۔ انگریزوں کی محفل تھی اور اس محفل میں وہی چھائے ہوئے تھے۔ جب کہ شاعر کی آنکھیں یہ سب مناظر دیکھنے پر مجبور تھیں۔

Advertisement
ہم تو ان کے خیر طلب ہیں
ہم کیا ایسے ہی سب کے سب ہیں
ان کے راج کے عمدہ ڈھب ہیں
سب سامان عیش و طرب ہیں

شاعر اکبر الہ آبادی کہتے ہیں کہ وہ تو ان کے خیر خواہ ہیں اور صرف وہ ہی نہیں، سبھی لوگ ان کی طرح بھی خیر خواہ ہیں کیونکہ ان کے حکومت کرنے کے طریقے شاندار ہیں اور عیش و عشرت کے سامان کی کوئی کمی نہیں ہے۔

سوالوں کے جواب لکھیے:

سوال نمبر01:”سر میں شوق کا سودا دیکھا”سے کیا مراد ہے؟

اس سے شاعر کی مراد ہے کہ انھیں دہلی شہر دیکھنے کی خواہش ہوئی۔

Advertisement

سوال نمبر02:”خیموں کا ایک جنگل دیکھا”اس مصرعے میں شاعر نے کس منظر کی عکاسی کی ہے؟

خیموں کے جنگل کے منظر میں شاعر نے جس منظر کی عکاسی کی ہے وہ یہ ہے کہ دہلی میں انھوں نے دیکھا کہ دور تک (کشمیری گیٹ تا کنگزوے کیمپ) خیموں کا جنگل تھا، جدھر نظر جاتی تھی، خیمے ہی خیمے تھے۔ وہاں لوگ خیموں میں دربار کے قریب کی جگہ پانے کے لیے لڑ رہے تھے۔

سوال نمبر03:”میرا حصہ دور کا جلوہ”شاعر نے کیوں کہا ہے؟ وضاحت کیجیے۔

شاعر نے میرا حصہ دور کا جلوہ اس لیے کہا کہ دربار کے آس پاس اتنی بھیڑ اور ہنگامہ تھا کہ شاعر اکبر الہ آبادی کہتے ہیں کہ ان کے حصے میں دور کا جلوہ آیا یعنی انہوں نے دور ہی سے دربار دہلی منعقد ہوتے دیکھا۔

Advertisement

عملی کام:

اس بند کے ردیف اور قافیہ کی وضاحت کیجئے۔

سڑکیں تھیں ہر کمپ سے جاری
پانی تھا ہر پمپ سے جاری
نور کی موجیں لیمپ سے جاری
تیزی تھی ہر جمپ سے جاری

اس بند میں ردیف "سے جاری” ہے جبکہ قافیہ کمپ،پمپ،لیمپ اور جمپ ہیں۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement