تعارف

ڈاکٹر جمیل جالبی یکم جولائی 1929ء کو علی گڑھ میں پیدا ہوئے۔ ایم اے (اردو) اور ایل ایل بی کیا۔ پھر پی ایچ ڈی اور ڈی لٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اعلیٰ ملازمتوں کے امتحان میں کامیاب ہوئے اور محکمہ انکم ٹیکس سے طویل عرصے تک وابستہ رہے۔ کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور مقتدرہ قومی زبان کے صدر نشین بھی رہے۔

مختلف علمی و ادبی کانفرنسوں اور سیمینار میں شرکت کے لیے بیرون ملک بھی مدعو کیے گئے۔ جالبی صاحب کی خصوصیت تھی کہ انھوں نے ہمیشہ بڑی بات سوچی، بڑے علمی و ادبی منصوبوں پر ہاتھ ڈالا اور اپنے اوصاف کی وجہ سے انھیں تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب رہے۔ ’’ارسطو سے ایلیٹ تک‘‘ تاریخ ادب اردو (چار جلدیں)، ’’قومی انگریزی اردو لغت‘‘، اسی طرح ان کے دیگر وقیع علمی کام۔ سلیم احمد ان ہی کاموں کی وجہ سے کہا کرتے تھے کہ مجھے شبہ ہے کہ اردو ادب شاید محمد حسن عسکری کو فراموش کردے، لیکن ڈاکٹر جمیل جالبی کے علمی کاموں کو ادبی مؤرخ نظرانداز نہیں کرسکے گا۔

شخصیت

دراز قامت، مضبوط جسم، چوڑا چکلا چہرہ، روشن آنکھیں، چمکتا ہوا گنج اور سر کے دونوں طرف جھالر کی طرح لٹکے بال، کلّے میں دبا پان جسے چباتے تو تقریباً آہنی جبڑے میں دبے پان پر ترس آنے لگتا۔ایک انٹرویو میں ان سے پوچھا گیا کہ آپ اتنے بڑے علمی کام کیسے کرلیتے ہیں؟ تو انھوں نے مسکرا کر فرمایا تھا: ’’میں نے بہت پہلے یہ طے کرلیا تھا کہ ایک ادیب ہوکر زندگی گزارنی ہے، چنانچہ جب ملازمت ملی تو طے کرلیا کہ دفتر میں کوئی ادبی مصروفیت نہیں رکھوں گا اور گھر میں کوئی دفتری معاملہ نہیں لاؤں گا۔ ساتھ ہی میں نے اپنا ایک معمول بنالیا اور ہمیشہ اسی معمول پر کاربند رہا۔ صبح تیار ہوکر دفتر چلے جانا، دفتر سے واپس آکر کچھ دیر آرام کرنا یا سوجانا، شام کو لمبی واک پر نکل جانا اور پھر واپس آکر چائے پی کر اپنی لائبریری میں لکھنے پڑھنے کے کام میں لگ جانا اور رات بارہ ایک بجے تک کام کرتے رہنا۔ بس اس باقاعدگی کی وجہ سے جس علمی کام میں ہاتھ ڈالا، وہ مکمل ہوگیا۔‘‘

’’اس معمول میں فرق کیوں نہیں آیا۔ کیا ایک معمول پر بہت دن تک کاربند رہنے سے طبیعت اُکتا نہیں جاتی؟‘‘ میزبان نے پوچھا تھا۔ کہنے لگے: ’’ایک واقعہ سناتا ہوں۔ ایک شام خاندان کے ایک بزرگ تشریف لائے۔ ان سے باتیں ہوتی رہیں۔ جب میرے لکھنے پڑھنے کا وقت شروع ہوا تو میں اٹھ کھڑا ہوا اور ان سے اجازت چاہی۔ بزرگ نے بے تکلفی سے ہاتھ پکڑ کر بٹھادیا۔ فرمایا: بیٹھو بھئی، تمھارے لکھنے پڑھنے کا کام تو چلتا رہتا ہے۔ ہم اتنی دُور سے آئے ہیں اور کبھی کبھار آنا ہوتا ہے، ہم سے باتیں کرو۔‘‘

میں چار و ناچار بیٹھ گیا۔ بزرگ پابند صوم و صلوٰۃ تھے، کچھ ہی دیر بعد اذان ہوئی تو بزرگ اٹھ کھڑے ہوئے نماز کے لیے۔ میں نے پوچھا: ’’حضور کہاں چلے؟‘‘ توقع کے مطابق جواب دیا’’نماز پڑھ کے آتا ہوں‘‘۔ میں نے ادب سے ان کا ہاتھ پکڑ کر بٹھا دیا۔ عرض کیا: ’’حضور! نماز تو زندگی بھر پڑھتے رہیں گے۔ آئیے آج باتیں کرتے ہیں۔‘‘

وہ سٹپٹائے، کہنے لگے: ’’میاں! عبادت کیسے چھوڑی جاسکتی ہے؟‘‘ عرض کیا:’’میرا کام بھی میرے نزدیک عبادت ہے، میں بھی اس عبادت کا کبھی ناغہ نہیں کرتا۔‘‘

اہلیہ

نامناسب ہوگا اگر ڈاکٹر جالبی کی کامیابی کے تذکرے میں ان کی وفا شعار اور خدمت گزار اہلیہ کو فراموش کردیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ جو ہر بڑے آدمی کے عقب میں ایک عورت کی موجودگی کا انگریزی مقولہ ہے، اس کا سو فی صد اطلاق ڈاکٹر صاحب پر ہوتا ہے۔ ایک دن کسی بات پر انھوں نے خود یہ اعتراف کیا کہ ’’میں نے جو لکھنے پڑھنے کا اتنا سارا کام کرلیا اس کی وجہ میری بیگم ہیں، جنھوں نے اپنی ذات کو میری ذات میں فنا کردیا‘‘۔کسی بیوی کو اس سے بڑا خراج ِ تحسین اور کیا ہوسکتا ہے!

ادبی خدمات

ڈاکٹر صاحب کے علمی، ادبی اور تحقیقی کارناموں سے کس کافر کو انکار ہوگا! اردو ادب کی کتنی ہی تاریخیں اب تک لکھی گئی ہیں لیکن جیسی محنت، مستقل مزاجی، دقیقہ رسی اور علمی و تحقیقی لحاظ سے جو مقام ان کی ’’تاریخ ادب اردو‘‘ کو حاصل ہے کسی اور تاریخ کو نہیں۔ اسی طرح ’’ارسطو سے ایلیٹ تک‘‘ میں انھوں نے مغرب کی دو ہزار سالہ تنقیدی فکرکو جس سلیقے سے ترجمہ و تعارف کے ساتھ اردو قارئین کے لیے پیش کیا، وہ بجائے خود ایک وقیع علمی کام ہے۔

بالکل ایسے ہی جتنی گہرائی اور وسعتِ فکر ڈاکٹر جالبی کی کتاب ’’پاکستانی کلچر‘‘میں نظر آتی ہے، اس کے مقابلے میں آج بھی کوئی دوسری کتاب پیش نہیں کی جاسکتی۔ غرض تحقیق، تنقید اور ترجمے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر صاحب سرکاری ملازمت کے دوران ’’نیا دور‘‘جیسا اعلیٰ ادبی معیار کا رسالہ بھی پابندی سے نکالتے رہے۔ گو ملازمت کی مجبوری کی وجہ سے رسالے پر ان کا اپنا نام کبھی شائع نہیں ہوا لیکن ادبی حلقے خوب واقف ہیں کہ اس رسالے کے ذریعے جدید ادب، جدید ادبی رجحانات اور مغرب کے نمائندہ ادب کی ہمارے ادب میں جتنی کچھ بھی آبیاری ہوئی، وہ ڈاکٹر جالبی کی مساعی کی مرہونِ منّت ہے۔

تصانیف

  • انہوں نے سولہ کتابیں اور دو سو سے زیادہ مضامین لکھے ہیں۔
  • (1) ایلیٹ کے مضامین(1960ء)،
  • (2) پاکستانی کلچر (1964ء)،
  • (3) ارسطو سے ایلیٹ تک (1965ء)،
  • (4) تنقید اور تجربہ (1967ء)،
  • (5) تاریخ ادبِ اردو (جلد اوّل) (1975ء)،
  • (6) کدم رائو پدم رائو (1974ء)،
  • (7) تاریخ ادبِ اردو (1982ء)،
  • (8) دیوانِ حسن شوقی (ترتیب)،
  • (9) کلام نصرتی،
  • (10) جانورستان (ترجمہ)،
  • (11) قدیم اردو کی لغت،
  • (12) محمد تقی میر۔ ایک مطالعہ،
  • (13) ادب، کلچر اور مسائل،
  • (14) نئی تنقید،
  • (15) حیرت ناک کہانیاں،
  • (16) پاکستان، دی آئیڈینٹٹی آف کلچر۔

اعزازات

  • جمیل جالبی کی ادبی خدمات کو دیکھتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے انھیں ”ستارۂ امتیاز” ، ”ہلالِ امتیاز”قومی ادبی انعام سے بھی نوازا۔
  • ان کی چار کتابوں کو 1965ء، 1973ء اور 1975ء میں دائود ادبی انعام سے نوازا گیا۔

آخری ایام

۱۸ اپریل ۲۰۱۹ میں آپ اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے اور یوں اردو ادب کا ایک ستارہ ہم سے بچھڑ گیا۔

Advertisements