اس ناول کی پوری کتاب پی ڈی ایف (pdf) میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ناول کا خلاصہ

ناول "جنت کے پتے” میں حیا سلیمان نامی ایک لڑکی کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ پوری کہانی تقریباً اسی کے گرد گھومتی ہے۔ اس کہانی کی دلچسپ بات پاکستانی فوج کے جاسوس ہیروز کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے، اس کہانی میں گمنام ہیروز کی عظمت کو سلام پیش کیا گیا ہے۔

حیا سلیمان اسلامک یونیورسٹی سے ایل ایل بی آنرز کر رہی ہے، اس کا یونیورسٹی میں ساتواں سیمسٹر تھا۔ یورپی یونین کے ذریعے اسبانجی یونیورسٹی، ترکی میں اس کا تبادلہ ہوتاہے اس یونیورسٹی میں حیا کو پانچ ماہ کے ایک سمیسٹر کے لیے پڑھنے جانا ہوتا ہے۔ حیا بہت پُرجوش ہوتی ہے اس کے اس ملک سے باہر جاکر پڑھنے کا یہ پہلا تجربہ ہونے جا رہا ہوتا ہے۔

حیا کے والد سمیت وہ لوگ تین بھائی اور ایک بہن ہوتی ہیں، سب سے بڑے فرقان تایا، پھر حیا کے والد سلیمان، پھر زاہد چچا اور آخر میں سبین پھوپھو تھیں۔ تایا فرقان کے تین بچے داور، فرخ اور ارم ہیں، سلیمان کے دو ہی بچے ہیں حیا اور روحیل۔ زاہد چچا کی تین بیٹیاں مہوش سحرش اور ثناء ہیں اور ایک ہی بیٹا ہے جس کا نام رضا ہے۔ سبین پھوپھو کا صرف ایک بیٹا ہے جس کا نام جہان سکندر ہے، جہان کا نکاح حیا سے بچپن میں ہی ہو جاتا ہے۔ حیا غیر محسوس طریقے سے جہان سے محبت کرنے لگتی ہے، یہ قدرتی امر ہے کہ لڑکی کو ہمیشہ اپنے شوہر سے محبت ہو جاتی ہے۔

تایا فرقان کے بیٹے داور کی شادی پر حیا اور ارم کی ڈانس ویڈیو کوئی انٹرنیٹ پر ڈال دیتا ہے، ارم حیا کو بتاتی ہے اور ان دونوں کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل جاتی ہے۔ اس ویڈیو پر لوگوں کے سینکڑوں ویوز آرہے تھے، وجہ اس کا عنوان "شریفوں کا مجرا” تھا۔ اس سے پہلے بھی حیا کو ایک اجنبی شخص کی جانب سے پھولوں کے گلدستے اور کارڈ موصول ہو رہے تھے، جس میں حیا کی زندگی میں پیش آنے والے لمحات کا قبل از وقت سے ذکر ہوتا ہے۔

انہی دنوں ارم کا ایک رشتہ آتا ہے، جو کہ صوم و صلوۃ کے پابند گھرانے سے ہوتا ہے، لڑکا ارم اور حیا کو پہچان لیتا ہے، ان کی ویڈیو دیکھ کر ان کی شکل ملانے کی کوشش کرتا ہے، جب اس کو یقین ہو جاتا ہے کہ وہ وہی دونوں ہیں جن کا مجرا آج کل انٹرنیٹ پر وائرل ہو چکا ہے، تو اٹھ کر چلا جاتا ہے اور رشتہ نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں بتاتا۔

ٹی وی پر پی ٹی اے کے اشتہار کو دیکھ کر حیا سائبر کرائم سیل سے رابطہ کرتی ہے، اور شکایت درج کراتی ہے کہ ان کی شادی کی ویڈیو کو کسی نے انٹرنیٹ پر ڈال دیا ہے، وہاں سے میجر احمد کا فون آتا ہے اپنے آفس حیا کو بلا کر ان کا یہ مسئلہ حل کر دیتا ہے، ان کی ہر جگہ سے ویڈیو ہٹا لی جاتی ہے۔ میجر احمد حیا کو پرپوز کرتا ہے اور حیا اس کو ریجیکٹ کر دیتی ہے۔

داور کی شادی پر اس کی ملاقات اپنے رشتے کے لئے آئے ولید لغاری سے ہوتی ہے۔ ولید لغاری اس کے ابو کے دوست لغاری صاحب کا بیٹا ہے، وہ چاہتی ہے کہ ولید کو سب کچھ بتا دے جو اس کے والد ان کے گھر والوں سے چھپا رہے ہوتے ہیں کہ حیا کا نکاح بچپن ہی میں جہان کے ساتھ ہو چکا ہے، اس لیے وہ برات کے فنکشن پر ولید کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ جاتی ہے لیکن گاڑی میں اس طرح تنہا ولید کے ساتھ بیٹھنا اس کی بہت بڑی غلطی ہوتی ہے۔ ولید اس کو ایک سنسان جگہ لے جاتا ہے، جب ولید اس کی آبرو پامال کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ڈولی اچانک سے پیچھے سے آ کر ولید کے سر میں ایک فرائی پین مارتا ہے۔ ڈولی حیا کو ایک بازار میں ملتا ہے وہ ایک خواجہ سرا ہے، حیا کو اس سے سخت چڑ تھی لیکن آج اس نے اس کی عزت بچا لی تھی ڈولی کی بہن کی پنکی بھی اسے دوران ٹریفک ملتی ہے لیکن تب تک حیا ولید والا واقعہ بھول چکی ہوتی ہے اور غصے میں آ کر اس کا ہاتھ زخمی کر دیتی ہے وہیں پر وہ دیکھتی ہے کہ پنکی کے ہاتھ پر ایک کانٹے کا نشان ہے اور پنکی کا چہرہ جھلسا ہوا ہے۔

ایک شاپنگ سینٹر پر شاپنگ کے دوران حیا ایک لڑکے کو دیکھتی ہے جس کے ہاتھ پر وہی کانٹے کا نشان ہوتا ہے جو کہ اس نے پنکی کے ہاتھ پر دیکھا تھا۔ وہ کبھی بھی نہ شک کرتی اگر اس کے ہاتھ پر حیا کا لگایا ہوا زخم نہ ہوتا، حیا طنز کر کے پوچھتی ہے کہ تم وہی پنکی خواجہ سرا ہو نا؟ لڑکا برا مان جاتا ہے، اس کی ماں بہنیں بھی حیا کو ڈانٹنے لگتی ہیں حیا کہتی ہے کہ اپنے بھائی سے پوچھو جو خواجہ سرا بن کر سڑکوں پر بھیک مانگتا پھرتا ہے، تبھی دکاندار آ کر کہتا ہے کہ شور مت کریں پھر لڑکے کی طرف دیکھ کر کہتا ہے کہ اوہ میجر احمد، اور حیا کو دکان سے باہر جانا پڑتا ہے کہ وہ اب ایک میجر سے ٹکر نہیں لے سکتی۔

ڈی جے حیا کی یونیورسٹی فیلو ہے۔ ترکی جانے سے پہلے حیا اور ڈی جے کی جب ملاقات ہوتی ہے تو ڈی جے انتہائی کھڑوس لڑکی لگتی ہے مگر بعد میں ڈی جے اور حیا کی خوب دوستی ہوجاتی ہے۔ ترکی جاتے ہوئے ان کا یہ پہلا ہوائی سفر ہوتا ہے راستے میں انہیں ایک عمر رسیدہ شخص ملتا ہے اور یہ ایک نہایت ہی باتونی شخص ہے اس کا نام عثمان شبیر ہے۔ یہ جاتے وقت انہیں اپنا ایک کارڈ دے جاتا ہے جس پر اس کا ذاتی فون نمبر لکھا ہوتا ہے۔

استنبول کے ہوائی اڈے پر حیا اور ڈی جے کو احمد اور چغتائی نامی لڑکے لینے آتے ہیں۔ یونیورسٹی لے جانے سے پہلے وہ انہیں ایک مزار پر حاضری دلوانے لے جاتے ہیں، اس کے بعد ان کی ذمے داری ایک نہایت حسین لڑکی ہالے نور لے لیتی ہے۔ وہ انہیں اپنے گھر لے جاتی ہے، کھانا کھلا کر انہیں ہاسٹل چھوڑتی ہے اور ہر چیز کے بارے میں آگاہ کرتی ہے، یہ ایک مخلوط ہاسٹل ہے جس میں لڑکے لڑکیوں کو کمرے دیے گئے ہیں، ہالے نور حیا کو اس کی پھپھو کے گھر لے جاتی ہے، دروازہ جہان ہی کھولتا ہے اور سرد مہری کا اظہار کرتا ہے وہ اس کو پہچاننے ہی سے انکار کر دیتا ہے، اس کا دل ٹوٹ جاتا ہے۔ مگر پھپھو بہت پر تپاک استقبال کرتیں ہیں، وہ اس کے لیے کھانا بنانے لگتی ہیں کہ تبھی دروازے پر گھنٹی بجتی ہے جہان باہر جاتا ہے اور واپسی پر سفید پھولوں کا گلدستہ اور کارڈ اٹھا کر لے آتا ہے اور حیا کے منہ پر دے مارتا ہے کہتا ہے کہ اپنے عاشق کو ہمارے گھر کا پتا کیوں دیا، حیا کے پیروں میں سے زمین نکل جاتی ہے جب کارڈ پر تحریر پڑھتی ہے تو شرم سے پانی پانی ہو جاتی ہے اور غصے سے لال پیلی ہو جاتی ہے جس پر لکھا ہوتا ہے کہ میری محبوبہ کے لیے اس کے محبوب کی طرف سے۔ وہ اٹھ کر چلی جاتی ہے۔

حیا کو اپنے ساتھی کلاس فیلوز میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی جبکہ ڈی جے کو ہر لڑکا ہینڈسم لگتا ہے۔ حیا کو استنبول گھومنے پھرنے کا شوق ہوتا ہے ایک دن وہ بن سنور کر لال رنگ کے کپڑوں اور جوتوں اور لال بناؤ سنگھار میں نکلتی ہے، میٹرو ٹرین کی سیڑھیوں پر اس کی ایڑی والی جوتی کھٹک سے ٹوٹ جاتی ہے، ٹرین میں جس سیٹ پر وہ بیٹھتی ہے اس کے ساتھ ہی جہان صاحب تشریف فرما ہوتے ہیں تو تھوڑی دیر بعد جہان اس کو بھی دیکھ لیتا ہے پھر جہاں اسے اپنا جوتا اتار کر دیتا ہے، اس کے بعد وہ لوگ نیا جوتا خریدتے ہیں پھر اس کو ایک ریسٹورینٹ لے جاتا ہے اور کافی لے دیتا ہے، وہ اس کے اس رویے کے بارے میں پوچھتی ہے تو وہ اس کے تیار ہونے کی خوشی بتا کر کافی پلاتا ہے۔ بعد میں اس کو بتاتی ہے کہ استنبول میں لال رنگ میں بناؤ سنگھار کر کے جو لڑکی باہر نکلتی ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ ایک آوارہ لڑکی ہے اور آوارہ مرد اس کو اپنے ساتھ کافی پلانے لے جاتے ہیں۔ حیا کو بہت زیادہ غصہ آتا ہے کہ جہان نے اس کو کتنا غلط کہا ہے اس کے بعد وہ کافی دیر تک روتی رہتی ہے۔

اس یونیورسٹی میں پڑھائی کے دوران حیا کی ملاقات انجی نامی ایک انڈین مسلمان سے ہوتی ہے۔ ڈی جے اور حیا دونوں ہی اس سے مل کر بہت خوش ہوتی ہیں۔ ویلنٹائن ڈے پر پھر سے وہی سفید پھول اور کارڈ موصول ہوتے ہیں حیا پھول اور کارڈ سامنے دیوار پر مارتی ہے مگر وہ جاکر معتصم کو لگتے ہیں۔ معتصم فلسطین سے آئے تین لڑکوں میں سے ایک لڑکا ہے،حیا کو وہ اس کارڈ پر لگے اس لیموں کے رس کی طرف متوجہ کرتا ہے، جس میں خفیہ طور پر اے آر پی لکھا ہوتا ہے۔

انجم باجی کے گھر دعوت پر حیا کو معلوم پڑتا ہے کہ اے آر پی ترکی میں رہنے والا ایک بہت بڑا سمگلر ہے مگر وہ حیا کو کیوں پھول بھیج رہا ہے اس کا اس کو معلوم نہیں ہو پاتا۔

حسین فلسطینی لڑکا کی سالگرہ پر حیا بریڈ کا ایک مصنوعی گھر بناتی ہے۔ یہ ایک بہت ہی خوبصورت جنجربریڈ ہاؤس ہوتا ہے۔ وہ کچن سے پارٹی روم میں لے کر جا رہی ہوتی ہے کہ جہان دروازہ کھول کے اندر آتا ہے دروازہ حیا سے ٹکرایا اور اس کا بریڈ کا مصنوعی گھر نیچے گر جاتا ہے، حیا جو پہلے ہی غصے سے بھری ہوتی ہے بقیہ بریڈ جہان کے منہ پر دے مارتی ہے۔

جہان آدھی رات تک وہیں باہر رکا رہتا ہے بعد میں حیا اس کو اپنے ساتھ کچن میں لے جا کر کافی بنا دیتی ہے تبھی حیا کے موبائل پر کسی غیر شناسا نمبر سے کال آنے لگتی ہے، کال پر اے آر پی ہوتا ہے وہ گھبرا کر فون بند کر دیتی ہے جہان کو شک پڑ جاتا ہے مگر وہ ظاہر نہیں کرتا جہان اس کو ڈنر کی آفر کرتا ہے حیا قبول کر لیتی ہے۔

کچھ دن بعد ہی تیار ہوکر جس دن حیا ڈنر پر جارہی ہوتی ہے اس کی گورسل چھوٹ جاتی ہے، تبھی ایک شوگر گاڑی آکے اس کے پاس رکتی ہے اس کا ڈرائیور حیا کا نام لیتا ہے پھر جہان سکندر کا حیا سوچتی ہے کہ شاید جہان نے اس کے لیے گاڑی بھیجی ہے مگر جہان کے پاس پہنچنے پر معلوم ہوتا ہے کہ گاڑی اس نے نہیں بھیجی وہ ریسٹورنٹ میں ڈنر کے لیے بیٹھے ہوتے ہیں کہ انہیں پھر سے وہی وہی پھول اور کارڈ موصول ہوتے ہیں جس پر لکھا ہوتا ہے کہ
"آپ کا میری گاڑی میں سفر کرنے کا شکریہ اصولاً میری گاڑی پر سفر کرنے کے بعد آپ کو میرے ساتھ ڈنر کرنا چاہئے مگر آپ اپنے کزن کے ساتھ ڈنر رہی ہیں”
نیچے لکھا ہوتا ہے اے آر پی۔ جہان اس کے ہاتھ سے کارڈ کھینچ لیتا ہے اور تحریر پڑھ کر شدید غصے میں آجاتا ہے۔ حیا کو بھی غصہ آجاتا ہے وہ کہتی ہے میں سمجھیں تم نے گاڑی بھیجی ہے اس ڈرائیور نے تمہارا نام لیا تھا وہ اٹھ کر چلی جاتی ہے جاتے جاتے وہ اپنا موبائل لینا بھول جاتی ہے جسے بعد میں جہان اٹھا لیتا ہے۔

اس کے بعد حیا اور جہاں کی ملاقات بیوک ادا میں ہوتی ہے۔ حیا جہان کے گزشتہ رویے پر اس سے ناراض ہوتی ہے، مگر بعد میں وہ زیادہ دیر جہان سے ناراض نہیں رہ پاتی۔ وہاں پر وہ عالی شان بنگلے دیتے ہیں ایک عالیشان بنگلے کے نیچے اے آر پی لکھا ہوتا ہے، حیا وہ عالیشان بنگلہ دیکھ کر متاثر ہوتی ہے۔جب وہ واپس آرہے ہوتے ہیں کہ راستے میں حیا کا کلچ لے کر ایک لڑکا بھاگ جاتا ہے جس میں حیا کے ڈاکومنٹس ہوتے ہیں حیا اس کے پیچھے بھاگ پڑتی ہے، اور وہ لڑکا اے آر پی کے عالیشان بنگلے میں گھس جاتا ہے حیا اس کے پیچھے پیچھے چلی جاتی ہے جب وہ اندر جاتی ہے تو ایک عمر رسیدہ خاتون سے اس کی ملاقات ہوتی ہے، وہ عمر رسیدہ خاتون حیا کو اے آر پی یعنی عبدالرحمان پاشا کا رشتہ دیتی ہے، معلوم ہوتا ہے کہ وہ عبدالرحمان پاشا کی والدہ ہے۔

عبدالرحمن پاشا نے ہی حیا کے ساتھ ایسا کرنے کو بولا ہوتا ہے، اس کی والدہ حیا کو سب بتا دیتی ہیں کہ عبدالرحمان پاشا نے اس کو پاکستان میں ایک چیریٹی شو میں دیکھا تھا اور اس کو پسند کر لیا بعد میں اس کے پیچھے اپنا پرانا ملازم ڈولی لگایا، پھر میجر احمد کے ذریعے سے اس کی ویڈیو انٹرنیٹ سے ہٹوائی، میجر احمد کرنل گیلانی کا بیٹا ہے اور جہان کے والد کی غداری اور اپنے بے قصور باپ کو پھنسائے جانے کا بدلہ لینے کے لیے حیا کے آگے شادی کا جال پھینکتا ہے۔ اب وہ حیا کو آفر کرتی ہے کہ وہ اپنے غریب ترین کزن کو چھوڑ کر عبدالرحمان پاشا سے شادی کرلے مگر حیا جھٹ سے انکار کر دیتی ہے، اور اپنا سنہری کلچ اٹھا کر وہاں سے نکلنے لگتی ہے، وہاں نکلتے وقت وہ دو بہت ہی پیاری لڑکیوں کو دیکھتی ہے جس میں سے ایک کا نام عائشے گل اور دوسری کا نام بہارے گل ہوتا ہے۔ عائشے گل کی عمر سترہ سال اور بہارے گل سات سال کی ہے۔
جہان حیا کو بتاتا ہے کہ وہ ایک امیر آدمی نہیں ہیں، وہ ایک معمولی سا ریسٹورنٹ اونر ہے ریسٹورنٹ قسطوں پر لیا گیا ہے جس کی قسطیں وہ مسلسل کئی سالوں سے ادا کر رہا ہے اور اسی ریسٹورنٹ کو لے کر وہ بہت زیادہ پریشان ہے کیونکہ اس کی مالکن اس سے آئے روز پیسوں کا مطالبہ کرتی رہتی ہے۔ حیا یہ سن کر کافی پریشان ہو جاتی ہے۔
اے آر پی کے گھر سے واپس آنے کے بعد سے وعدے کے مطابق اے آر پی کا کوئی میسج نہیں آتا کیونکہ اس نے پہلے ہی کہہ دیا ہوتا ہے کہ وہ کبھی اب میسج، کال یا تنگ نہیں کرے گا کیونکہ وہ زبردستی کا قائل نہیں۔

ڈی جے کے سر میں اکثر درد رہنے لگا ہے مگر وہ اس کو میگرین کا درد سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہے۔ ایک دن حیا اور ڈی جے جہان کے ریسٹورنٹ میں جاتی ہیں اور اس کو مناتی ہیں کہ وہ انہیں ٹاپ قپی دیکھانے لے چلے، وہ لوگ بہت زیادہ انجوئے کرتے ہیں لیکن ڈی جے کے سر میں درد اٹھ جاتا ہے اور وہ وہیں سے ہوسٹل چلی جاتی ہے اب جہان اور حیا اکیلے رہ جاتے ہیں جہان کو بھی بہت تیز بخار ہوتا ہے وہ دوا لے کر وہیں سو جاتا ہے تبھی حیا کو اندازہ ہوتا ہے کہ جہان اپنے ریسٹورنٹ کو لے کر بہت زیادہ پریشان ہے۔ اسے آر پی کا آخری میسج یاد آتا ہے کہ اگر کوئی کام پڑے تو مجھے ضرور یاد کریئے گا وہ اے آر پی کو میسج کرتی ہے کہ مجھے آپ سے ایک کام ہے وہ فوراً کال کر دیتا ہے ،اس پر وہ اسے کہتی ہے کہ میرا کزن کا ریسٹورنٹ ہے جس کو ریسٹورنٹ کی مالکن پیسوں کے لیے تنگ کرتی رہتی ہے آپ اس سے بات کر کےکچھ رعایت کرا دیں۔ وہ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہتا ہے کہ اوکے۔
جب جہان اور حیا رسٹورنٹ کی طرف جاتے ہیں تو وہاں پر ریسٹورنٹ مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہوتا ہے کوئی غنڈے آ کر جہان کا ریسٹورنٹ توڑ کر چلے جاتے ہیں جہان مزید پریشان ہو جاتا اور حیا روتے ہوئے واپس چلی جاتی ہے۔

کافی دنوں کے بعد وہ انجم باجی، ہالے نور اور ڈی جے کو لے کر اپنی پھپھو کے گھر جاتی ہے، پھپھو ان کے لیے کھانا بنا رہی ہوتی ہیں کہ جہان آجاتا ہے اپنی امی سے اونچی اونچی آواز میں بات کرنے لگتا ہے، حیا اپنے دوستوں کو لے کر وہاں سے نکل آتی ہے، راستے میں وہ ہالے نور سے پوچھتی ہے کہ جہان کیا کہہ رہا تھا کہتی ہے کہ وہ کہہ رہا تھا کہ میں دن رات کتوں کی طرح اس لئے نہیں کماتا کہ آپ یہ سب اس کے دوستوں پر لٹا دیں۔ حیا برے طریقے سے بےعزتی محسوس کرتی ہے۔

اپریل میں مہوش کی شادی ہوتی ہے مگر حیا اور ڈی جے کی اسپرنگ بریک ہوتی ہیں۔ ان دنوں میں وہ اور ڈی جے پورا ترکی گھومنے کا ارادہ رکھتی ہیں ڈی جے کے سر میں ایک بار پھر درد ہوتا ہے مگر وہ پھر سے نظر انداز کر دیتی ہے۔ ایک دکان پر فون رجسٹر کروا رہی ہوتی ہیں تو ڈی جے بیہوش ہو جاتی ہے اس کے سر میں ایک تھیلی ہوتی ہے جو کہ پھٹ جاتی ہے اور ڈے جے کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ حیا اس کی موت سے بہت زیادہ ڈسٹرب ہو جاتی ہے۔ لاش لے کر حیا اور جہان پاکستان آجاتے ہیں جہان کا رویہ سبھی سے نامناسب ہوتا ہے مگر جلد ہی اس کو اپنے نامناسب رویے کا احساس ہو جاتا ہے۔ وہ کوشش کرتا ہے کہ حیا اور اس کے درمیان اور اس کے گھر والوں کے درمیان ناچاقی ختم ہو جائے وہ حیا کے والد کو مناتا ہے کہ وہ حیا کو واپس ترکی جانے دیں۔

شادی کی رات حیا کو پنکی ملتا ہے اور اس کو ایک لکڑی کا ڈبہ دیتا ہے کہتا ہے یہ ڈولی نے دیا ہے اور جب تک تم اس ڈبے کو کھولو تو شاید دینے والا زندہ نہ رہے، اس ڈبے پر ایک پاسورڈ ہے جو کہ مجھے بھی معلوم نہیں ہے اور کسی کو معلوم نہیں ہے تمھیں خود اس کو کھولنا ہے، اس کے بعد وہ کہتا ہے کہ اس ڈبے کو توڑ کر مت کھولنا ورنہ اندر جو کچھ بھی ہے سب کچھ تباہ و برباد ہو جائے گا۔

جہان حیا کو لیکر واپس ترکی آجاتا ہے اب اس کا رویہ کافی حد تک حیا کے ساتھ درست ہو چکا ہوتا ہے، حیا سمجھتی ہے کہ وہ اپنے مالی حالات کو لے کر کافی زیادہ پریشان ہے۔ ایک دن جب وہ معتصم کو اپنا ڈبہ دکھاتی ہے تو معتصم اسے بتاتا ہے کہ یہ تو ایک چائنیز ڈبہ ہے جو کہ ایک قول سے کھلے گا۔

حیا ایک دن اپنی پھپھو کے گھر جا رہی ہوتی ہے کہ راستے میں سے اس کو کوئی اغوا کر لیتا ہے وہ جب ہوش میں آتی ہے تو اس وقت اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا ہی اندھیرا ہوتا ہے کوئی چیز اس کے اوپر آ کے بار بار گرتی ہے وہ سمجھتی ہے کہ اسے اے آر پی نے اغواء کیا ہے مگر جلد ہی یہ معلوم پڑتا ہے کہ اسے اے آر پی کے ایک بندے نے اپنے ذاتی مفاد کے لئے اغوا کیا ہے، اس کے پاس دو موبائل ہوتے ہیں ایک اس کے کلچ میں ہوتا ہے جو کہ اس کے کپڑوں میں چھپا ہوتا ہے دوسرا اس کے کورٹ میں ہوتا ہے جو کہ ان اغواء کاروں کے پاس چلا جاتا ہے۔ جب وہ اپنا موبائل کھولتی ہے تو وہ پاکستانی سم ہوتی ہے جس میں30 سیکنڈ کی کال کی جاسکتی ہے اسی کلچ میں عثمان شبیر کا کارڈ پڑا ہوتا ہے اس کے نمبر پر فون کرتی ہے اس کا بیٹا فون اٹھاتا ہے وہ اسے اپنی تمام حالت بتاتی ہے لیکن غلط ایڈریس دیتی ہے بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی اور جگہ پر موجود ہے۔

تھوڑی دیر میں آ کر اسے ایک حبشی اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ وہاں پر تین بڑی سلاخیں لوہے کی پڑی ہوتی ہیں جن پر انگریزی کے حروف درج ہوتے ہیں وہ آگ میں پڑی دہک رہی ہوتی ہیں۔ ایک روسی آدمی آتا ہے اور حیا کے بازو پر کچھ انگریزی کے الفاظ درج کرتا ہے جن میں سب سے پہلا حرف ڈبلیو ہوتا ہے بعد میں ایچ اور او لکھا جاتا ہے۔ اس سب میں حیا کو بہت زیادہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہاں تک کہ وہ نیم بیہوش ہوجاتی ہے۔

تبھی حیا کے کپڑوں میں چھپا موبائل بج اٹھتا ہے جسے وہ روسی آدمی اٹھا لیتا ہے اور کال سننے پر معلوم ہوتا ہے کہ حیا نے اپنا پتہ کسی کو دیا ہے وہ موبائل کو توڑ دیتا ہے اور حیا کے بالوں میں ابلتی ہوئی ویکس انڈیل دیتا ہے حیا مکمل طور پر بیہوش ہو جاتی ہے۔ جب اس کو ہوش آتا ہے تو وہ اے آر پی کے گھر پر موجود ہوتی ہے جہاں پر اس کی تیمارداری عائشے گل کر رہی ہوتی ہے۔

عائشے گل حیا کا بہت زیادہ خیال رکھتی ہے اور اس کے بالوں میں لگی ہوئی ویکس کو پگھلا پگھلا کر صاف کرتی ہے اور اس کے بالوں کو بالکل بھی جڑ سے اکھاڑنے نہیں دیتی ہے۔ عائشے گل بہت ہی عمدہ سیرت کی مالک ہے اس کے چہرے پر ہر دم اطمینان رہتا ہے عائشے گل کا ساتھ حیا کو بہت زیادہ پرسکون رکھتا ہےوہ ایک خوبصورت لڑکی ہے اس کا صاف ستھرا چہرہ گوری رنگت اور اس کے چہرے کے گرد لپٹا اسکارف اسے بہت خوبصورت بناتا ہے۔ عائشے گل حیا کو اے آر پی سے بات کرانا چاہتی ہے لیکن حیا اس سے بالکل بھی بات نہیں کرنا چاہتی بعد میں عائشہ گل حیاکو بتاتی ہے کہ کس طرح عبدالرحمان پاشا نے اس کی جان بچائی ہے۔

یہ خوبصورت عالیشان بنگلہ عبدالرحمن پاشا کا نہیں ہے بلکہ یہ بنگلہ عائشے گل کا ہے، عائشے گل اور بہارے گل کے والدین اس دنیا میں نہیں ہیں یہ بنگلہ انہیں جائیداد کے طور پر حاصل ہوتا ہے آنے جو کے عبدالرحمن پاشا کی امی ہوتی ہیں عائشہ کی رشتے میں میں دادی لگتی ہیں یہ گھر ان کا ہوتا ہے لیکن اب وہ یہ گھر قانونی کارروائیوں کے بعد عائشے گل کے نام کروا دیتی ہیں۔ اے آر پی حیا سے بات کرنا چاہتا ہے وہ اسے منع کر دیتی ہے کہ وہ اس سے بات نہیں کرنا چاہتی۔ وہ کہتا ہے جب تک آپ یہاں اس گھر میں ہی ہیں اس گھر میں کبھی نہیں آؤں گا۔ عائشے گل اور اور بہارے گل ہر روز جنگل میں جا کر لکڑیاں کاٹ دیتی ہیں انہیں خصوصی طور پر اجازت حاصل ہوتی ہے کہ وہ جا کر لکڑیاں ضرورت کے مطابق کاٹ لیا کریں۔ ایک دن حیا بہارے گل کے ہاتھ میں ایک لکڑی کا باکس دیکھتی ہے یہ بالکل اسی کے باکس کے جیسا ہوتا ہے جو کہ اس کو پنکی نے دیا ہوتا ہے وہ سمجھتی ہے کہ یہ میرا ہی باکس ہے مگر بعد میں وہ پانچ حروف والا باکس نکلتا ہے جو کہ بہار کو اے آر پی نے دیا ہوتا ہے۔ اس کے اوپر بھی ایک پہیلی لکھی ہوتی ہے جو کہ وہ بہارے گل کو حل کرنی ہوتی ہےاور وہ بہت ہی آسان پہیلی ہوتی ہے مگر حیا کے باکس پر جو پہلے لکھی ہوتی ہے وہ بہت مشکل ہوتی ہے۔ وہ عائشے گل سے پوچھتی ہے یہ لکڑی کے ڈبے کون بناتا ہے؟ تو عائشے گل کہتی ہے ہم یہ لکڑیاں اسی لئے تو کاٹ رہی ہیں کہ چائینیز پزل باکس بنائیں جو کہ بہت ہی مہنگے بکتے ہیں۔

عائشہ گل کی ایک بہت ہی پیاری عادت ہوتی ہے کہ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتی اس لئے اس کے ہر سیپ میں سے موتی نکلتا ہے اور وہ اللہ پر توکل رکھتی ہے، آہستہ آہستہ وہ حیا کی زندگی کو بدلنے لگتی ہے، اور اس کی صحبت میں اپنے آپ کو دھیرے دھیرے بدل لیتی ہے، حیا جیسے ہی نیا موبائل اور نمبر لیتی ہے اس پر میجر احمد کی کال آجاتی ہے وہ پزل باکس اس کو میجر احمد ہی نے دیا ہوتا ہے اور پہیلیاں بھی وہی لکھتا ہے۔

ایک دن جب بہارے اور عائشے گھر پر نہیں ہوتی تو وہ اسٹڈی روم میں چلی جاتی ہے جہاں پر دیواروں پر جا بجا اس کی تصاویر لگی ہوتی ہیں جو کہ اس کے علم میں لائے بغیر بنائی جاتی ہیں، وہ آج اپنی ان تصاویر کو دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اے آر پی اس سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے

ایک دن وہ بہارے کو اس کی پہیلی کے بارے میں تھوڑا سا ہنٹ دے دیتی ہے اور بہارے وہ پزل باکس کھول لیتی ہے، اور اس میں سے بہت ہی پیارا سا ایک ہار نکلتا ہے اور اس میں وہی موتی پروئے ہوتے ہیں جو کہ بہارے نے اے آر پی کو دیے ہوتے ہیں۔ بہارے اور عائشے اے آر پی سے بہت زیادہ محبت کرتی ہیں کیونکہ وہ ایک اچھا انسان ہے مگر حیا اس کو ایک بہت ہی برا انسان سمجھتی ہے اور پورا استنبول اے آر پی کو اچھا نہیں سمجھتا مگر ان دونوں بہنوں کی محبت اور عقیدت میں ذرا برابر فرق نہیں پڑتا۔

اے آر پی کا ایک اور بھائی بھی ہے یہ بات عائشے گل حیا کو بتاتی ہے، جب سے اے آر پی یہاں آیا تھا اس سے سب اختیارات چھین کر اسے یونان کے ہوٹلوں میں کام کرنے بھیج دیا تھا، اور آنے اس کے لیے بہت پریشان تھیں مگر اے آر پی سے ڈر کر کچھ نہیں بولتی ہیں۔ حیا قانون پڑھ رہی ہے اس کے ہاتھ دلچسپ کیس لگتا ہے اور وہ اے آر پی کو نیچا دیکھانے کے لیے یہ دلچسپ کہانی ہالے نور کے زریعے شائع کرانا چاہتی ہے مگر جہان نہیں چاہتا کہ وہ یہ سب کرے وہ حیا کے ارادے جان کر بہت بے چین ہو جاتا ہے۔ حیا کے واپس اسپانجی جاتے ہی اے آر پی واپس آجاتا ہے وہ ایک مغرور، خود سر اور بلیک میلر شخص ہے۔ مگر بہارے گل اور عائشے گل پھر بھی اس کو چاہتی ہیں۔

ہوٹل گرینڈ میں واپس آتے ہی وہ اپنے بھائی کو میسج کرتا ہے کہ وہ اس سے ملنا چاہتا ہے۔ وہ اس سے واپس میسج بھیجتا ہے کہ وہ جہنم میں جائے مگر اے آر پی میسج کرتا ہے کہ وہ کہاں ملنا چاہے گا ہوٹل گرینڈ میں یا برگر کنگ اسٹریٹ پر۔ برگر کنگ اسٹریٹ تو جہان کا ریسٹورنٹ ہوتا ہے اور تبھی جہان اچانک ہوٹل گرینڈ آجاتا ہے۔ واپسی پر حیا کو بھی ساتھ لے جاتا ہے۔ حیا اپنے پزل باکس کو لے کر کافی پریشان ہوتی ہے کیونکہ وہ اسے عائشے گل کی اسٹڈی روم میں رکھ آئی ہوتی ہے اور اب دکھائی نہیں دے رہا ہوتا ہے۔ عائشے نے بھی ہر جگہ تلاش کیا ہوتا ہے مگر نہیں ملتا وہ باکس اے آر پی نے اٹھا لیا ہوتا ہے اس بات کا پتہ صرف بہارے کو ہوتا ہے کہ وہ باکس کہاں رکھا گیا ہے۔ کافی دیر بعد بہارے بتا دیتی ہے اور جا کر حیا کو باکس لا دیتی ہے۔

انہی دنوں میں حیا اور جہان کی منگنی ہو جاتی ہے۔ جہان کو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا نکاح ہو چکا ہے وہ ہنستا ہے کہ وہ پہلا شخص ہے جس کی منگنی اس کے نکاح کے بعد ہو رہی ہے۔ حیا اپنے اغواء والے واقعے کے بعد کافی تبدیل ہو چکی ہے اس نے اب اسکارف لینا شروع کر دیا ہے۔ ایک دن وہ میجر احمد کا دیا گیا پزل باکس بھی کھول لیتی ہے مگر اندر ایک پزل اس کا منتظر ہوتا ہے وہ جھنجھلا سی جاتی ہے، وہ ایک چابی ہوتی ہے۔

حیا دھیرے دھیرے پردے کی طرف مائل ہو رہی ہوتی ہے، ایک دن اس کو محسوس ہوتا ہے کہ کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے، وہ کوئی اور نہیں اے آر پی ہوتا ہے، حیا اور ہالے بھاگ کر کافی ریسٹورنٹ میں چلی جاتیں ہیں مگر وہ بھی وہیں پہنچ جاتا ہے۔ حیا گرما گرم کافی اس کے منہ پر الٹ کر وہاں سے بھاگ جاتی ہے اور جہان کے ریسٹورنٹ میں پناہ لیتی ہیں۔

حیا نے اب باقاعدہ طور پر حجاب لینا شروع کر دیا ہے وہ نقاب بھی کرنے لگی ہے اس کو کافی مسائل کا سامنا ہے مگر کبھی عائشے گل کا دلاسہ تو کبھی میجر احمد کا سہارا اسے مضبوطی سے حجاب پر قائم رکھتا ہے۔ حیا ڈبے کا اندر کا پزل بھی کھوج نکالتی ہے جس کے مطابق اسے سسلی جانا ہوتا ہے وہیں پر اس کے لیے ڈولی کی جانب سے ایک امانت ملے گی۔

بار کوڈ لاکرز سے حیا کو ایک مخملی ڈبی ملتی ہے اس سے پہلے کہ وہ اس کو کھول کر دیکھ پاتی اسے ایک پیغام موصول ہوتا ہے کہ برگر کنگ اسٹریٹ پر اس کے لیے اے آر پی کا سرپرائز ہے، وہ سمجھ جاتی ہے کہ اے آر پی نے پھر سے جہان کو نقصان پہنچایا ہوگا مگر اس کی توقع کے برعکس اے آر پی جہان کو کرمنل بول رہا تھا اور جہان بھی قبول کر رہا تھا اور جس طرح وہ اے آر پی کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے بات کر رہا تھا اس سے تو یہ ثابت ہوتا تھا کہ وہ واقعی بہت بڑا کرمنل ہے اتنا بڑا کہ اس کے آگے اے آر پی کچھ نہیں، مگر اس کو نہیں معلوم ہوتا ہے کہ حیا بھی یہ سب سن رہی ہے جب تلک پتہ چلتا ہے تو پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے اور حیا بدگمان ہو کر پہلے برگر کنگ اسٹریٹ پھر اسبانچی پھر استنبول اور پھر ترکی ہی چھوڑ کر واپس پاکستان آجاتی ہے۔

ادھر حیا ترکی چھوڑ کر واپس آتی ہے پیچھے سے عائشے اور بہارے کو بھی ترکی چھوڑنا پڑتا ہے۔ اے آر پی انہیں ملک سے باہر بھجوا دیتا ہے، کچھ ہی دنوں کے بعد سکندر پھوپھا فوت ہو جاتے ہیں اور جہان اور سبین پھوپھو کی ہمیشگی کی جلا وطنی بلآخر ختم ہوئی اور وہ لوگ پاکستان آ کر رہنے لگتے ہیں۔ جہان حیا کو بتاتا ہے کہ وہ ہوٹل گرینڈ میں ملازمت کرتا تھا تبھی دونوں بھائیوں نے اس کو مل کر بلیک میل کیا کہ وہ اپنے غیر قانونی کام کرنے والے دوست سے غیر قانونی پاسپورٹ بنوا دے ، وہ حیا کے پیچھے بھی اسی لیے لگے ہوئے تھے تاکہ جہان کو مزید بلیک میل کر سکیں۔ مگر حیا وہ اب بھی کافی مبہم سا لگتا ہے۔

حیا کا بھائی روحیل امریکہ میں شادی کر لیتا ہے، وہ لڑکی بدھسٹ ہے اور اپنا مذہب نہیں چھوڑنا چاہتی اور روحیل اس کو نہیں چھوڑنا چاہتا، سلیمان صاحب جتنے بھی روشن خیال کیوں نہ ہوں لیکن ایک کافر لڑکی کو اپنی بہو کے طور پر نہیں دیکھ سکتے، ان کی اور روحیل کی جھڑپ ہوتی ہے وہ اس سے رابطے ختم کر دیتے ہیں لیکن پھر انہیں دل کا شدید ترین دورہ پڑتا ہے اور ان کی حالت تشویشناک ہو جاتی ہے۔

حیا کے تایا چچا اور ان کے بیٹے ان کے بزنس کو لیکر کیا سوچ رہے ہوتے ہیں یہ سب جہان کو نظر آ رہا ہوتا ہے۔ وہ حیا کو یہ نظریں لگا دیتا ہے حیا کو ان کے سامنے کر کے خود پیچھے ہٹ جاتا ہے حیا کو بڑا طیش آیا مگر پھر کاروباری الجھنوں نے اس کو کچھ اور سوچنے ہی نہیں دیا، سلیمان صاحب کے بعد پاور آف اٹارنی اسی کے پاس ہوتی ہے اور اس کے تایا فرقان غصے سے بھر جاتے ہیں، سلیمان صاحب کے بستر علالت پر جاتے ہی ان کے نادیدہ دشمن سر اٹھانے لگتے ہیں جن میں سر فہرست ولید لغاری اور آرکیٹیکٹ ہے، حیا کو معلوم پڑتا ہے کہ فالتو کے اخراجات نے کاروبار کو کافی نقصان پہنچا رکھا ہے وہ یہ سب ختم کر دیتی ہے۔ میٹنگز میں کوئی اس کی عزت نہیں کرتا وجہ اس کا لڑکی ہونا پھر برقع اوڑھنا پھر کم عمر ہونا پھر کاروباری الجھنوں سے ناواقف ہونا ہے، مگر حیا دھیرے دھیرے یہ سب ہینڈل کرنے لگتی ہے۔

دوسری جانب تایا فرقان جو ہمیشہ سے پردے کے حامی تھے اب حیا کو اپنے بیٹوں سے پردہ کرتا دیکھ گویا جلتے توے پر جا بیٹھے۔ ٹکا کر حیا کی بے عزتی بھرے خاندان میں کی، پردے کو لیکر حیا کی والدہ اور حیا میں پہلے ہی بحث ہو چکی تھی اب مزید ہونے جا رہی تھی وہ جہان کو کہتی ہیں کہ حیا کو سمجھائے کہ پردہ مت کرے مگر حیا نے اس کو بھی انکار کردیا۔ حیا نے جہان کو سمجھانے کا انداز ہی ایسا اپنایا کہ اسے لگا وہ اسے چھوڑ کر چلا جائے گا، حیا کی سب سے اچھی بات یہ کہ وہ جس چیز کی ٹھان لے اسے کوئی نہیں روک سکتا بس حیا کو کوئی پردے سے بھی نہیں روک سکا، چاہے جہان اسے چھوڑ کر چلا گیا۔ حیا کو اپنے پردے کی وجہ سے کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ سہتی چلی گئی۔ ایک دن اس کو اس مخملی ڈبی کے اندر چھپی فلیش ڈرائیو کا پاس ورڈ بھی معلوم ہو جاتا ہے۔ اس میں ایک ویڈیو ہوتی ہے، وہ کسی اور کی نہیں جہان کی ویڈیو ہوتی ہے۔

اس ویڈیو میں جہان حیا کو بتاتا ہے کہ وہ ایک پاکستانی جاسوس ہے ، بچپن میں اس کے ابا نے ایک پاکستانی جاسوس کو جو کہ انہیں پکڑنے آیا تھا مار ڈالا تھا اور جہان نے ان کے ساتھ ملکر اس جاسوس کو بنا کفن دفن کے دفنا دیا۔ اس کے جسم سے بہت خوشبوئیں اٹھ رہی ہوتیں ہیں وہ اپنے ملک پر قربان ہوا تھا اور اس کی لاش اس کے ملک والوں کو بھی معلوم نہ تھی کہ کدھر دفنائی گئی ہے، اس سب کا جہان پر بہت اثر پڑتا ہے اور وہ بڑا ہو کر پاکستانی جاسوس بن جاتا ہے۔

جاسوس ہونے کے ناطے وہ چاہتا تھا کہ اس کی بیوی بھی اس جیسی ہو نہ کہ نازک مزاج اور فیشن کی دلدادہ، اب شادی سے پہلے وہ حیا کو ٹرینڈ کرنا چاہتا ہے اس نے اس لیے اس کے لیے جگہ جگہ منصوبے تیار کیے ہوتے ہیں، ڈولی کوئی اور نہیں جہان ہوتا ہے، اے آر پی بھی جہان ہے، میجر احمد بھی جہان ہے، یہ سب اس کی جاب کا حصہ ہوتا ہے مگر یہ سب اس کو اپنی بیوی کو بھی سکھانا ہوتا ہے مگر براہ راست نہیں، وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ آیا اس کی بیوی ایک امیر شخص کے لیے اپنے غریب ترین شوہر کو چھوڑتی ہے کہ نہیں، وہ اپنے راز اپنے تک رکھ پاتی ہے کہ نہیں، تبھی وہ اندازہ لگائے گا وہ اس کے راز کو بھی راز رکھ پائے گی کہ نہیں، اس نے حیا کی زندگی میں جگہ جگہ پزل رکھ دیے اور دیکھا کہ وہ کیسے حل کرتی ہے مگر حیا اس کی توقع سے بڑھ کر ذہین اور سمجھدار ہے اس کو اللہ نے حسن اور سمجھداری دل کھول کے عطا کی ہوتی ہے اور ثابت قدمی تو کوئی حیا سے سیکھے۔ ان سب آزمائشوں کے بعد جہان حیا سے شادی کر لیتا ہے اور ان کی خوبصورت سی بیٹی ہوتی جس کا نام حیا ڈی جے کے نام پر خدیجہ رکھتی ہے۔

از تحریرعائشہ اقبال
Advertisements