• کتاب” اپنی زبان "برائے چھٹی جماعت
  • سبق نمبر02:خط
  • مصنف کانام: جواہر لعل نہرو
  • سبق کا نام:ایک خط

خلاصہ سبق:

یہ سبق ایک خط ہے جو کہ پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی بیٹی اندرا کے نام نینی سینٹرل جیل الہ آباد سے لکھا ہے۔وہ اپنی بیٹی کو ان کی سالگرہ پر نیک خواہشات دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان خواہشات کو تم تک پہنچانے میں جیل کی اونچی دیواریں بھی نہیں روک سکتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے نصیحت کرنے سے ہمیشہ سے نفرت ہے۔

جواہر لعل نہرونےنصحیت کرنے کے لیے کہانی کے دلچسپ اور سبق آموز واقعے کو بیان کیا کہ تیرہ سو برس قبل ایک چینی سیاح علم ودانش کی تلاش کے غرض سے ہندوستان آیا۔اس چینی سیاح کا نام "ہیون سانگ” تھا۔یہ سیاح شمال کے پہاڑ اور ریگستان طے کرتے ہوئے علم کے حصول کے لیے ہندوستان پہنچا۔

Advertisement

اس نے راستے میں سینکڑوں مصیبتیں اٹھائیں اور ہزاروں خطروں کا مقابلہ کیا۔اس کا زیادہ تر وقت نالندہ و دیا پیٹھ میں گزرا۔ جو شہر پاٹلی پتر کے قریب واقع تھی۔ اس شہر کو اب پٹنہ کہتے ہیں۔ ہیون سانگ پڑھ لکھ کر فاضل ہو گیا تو اسے بدھ مت کا خطاب دیا گیا۔ اس نے سارے ہندوستان کو دیکھا بھالا اور یہاں کے تجربات پر ایک سفرنامہ لکھا۔

ہیون سانگ نے اپنے سفر نامے میں ایک عجیب و غریب شخص کو بیان کیا جو صوبہ بہار ،بھاگل پور کے آس پاس رہتا تھا۔ یہ شخص اپنے پیٹ کے چاروں طرف تانبے کی تختیاں باندھے رکھتا تھا اور سر پر ایک جلتی ہوئی شمع رکھتا تھا۔ جبکہ ہاتھ میں ڈنڈا لیے اکڑ اکڑ کر چلتا تھا۔ اس عجیب و غریب حلیے کی وجہ وہ یہ بتاتا تھا کہ میرے اندر بے حساب علم ہے۔

مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں میرا پیٹ نہ پھٹ جائے۔ اس لیے میں پیٹ پہ تانبے کی تختیاں باندھے رکھتا ہوں۔ جبکہ لوگ جہالت کے اندھیرے میں رہتے ہیں تو مجھے ان پہ ترس آتا ہے جس لیے میں سر پہ شمع لیے پھرتا ہوں۔ تو اس کہانی کے ذریعے پنڈت نہرو اپنی بیٹی کو سبق دیا کہ انسان کی عقل اس کے پیٹ میں نہیں ہوتی بلکہ جہاں بھی موجود ہو اس میں بہت کچھ سمانے کی گنجائش ہوتی ہے۔

غلط اور صحیح کے مباحثے سے کبھی کبھی کوئی سچائی نکل آتی ہے۔ اس لیے میں کوئی نصیحت نہ کرو گا بلکہ اگر کوئی بات نصحیت لگے تو اسے کڑوی گولی سمجھ کر نگلنے کی بجائے مشورہ سمجھو۔ تم بہت خوش قسمت ہو کہ ملک کی آزادی کی جدوجہد اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہو۔ تمھیں تمھاری ماں سے بہتر کبھی کوئی ساتھی نہیں مل سکتا ہے۔ میری دعا ہے کہ بہادر سپاہی بنو اور اپنے ملک کی خدمت کرو۔

سوچیے اور بتایئے:

پنڈت جواہر لعل نہرو کون تھے؟

پنڈت جواہر لعل نہرو ہندوستان کے وزیر اعظم تھے۔ اس کے علاوہ وہ کئی اہم وزارتوں پر بھی رہے۔

پنڈت نہرو نے یہ خط کس کے نام اور کہاں سے لکھا؟

پنڈت نہرو نے یہ خط اپنی بیٹی کے نام نینی سینٹرل جیل الہ آباد سے لکھا۔

جواہر لعل نہرو نے نصحیت کرنے کا کیا طریقہ اختیار کیا؟

جواہر لعل نہرونےنصحیت کرنے کے لیے کہانی کے دلچسپ اور سبق آموز واقعے کو بیان کیا۔

چینی سیاح کا کیا نام تھا؟

چینی سیاح کا نام "ہیون سانگ” تھا۔

چینی سیاح ہندوستان کیوں آیا؟

یہ چینی سیاح علم ودانش کی تلاش کے غرض سے ہندوستان آیا۔

چینی سیاح کو علم حاصل کرنے کے لیے کن حالات سے گزرنا پڑا؟

یہ سیاح شمال کے پہاڑ اور ریگستان طے کرتے ہوئے علم کے حصول کے لیے ہندوستان پہنچا۔ اس نے راستے میں سینکڑوں مصیبتیں اٹھائیں اور ہزاروں خطروں کا مقابلہ کیا۔

ہندوستان میں چینی سیاح کا زیادہ وقت کہاں گزرا؟

اس کا زیادہ تر وقت نالندہ و دیا پیٹھ میں گزرا۔ جو شہر پاٹلی پتر کے قریب واقع تھی۔ اس شہر کو اب پٹنہ کہتے ہیں۔

ہیون سانگ نے اپنے سفر نامے میں ایک شخص کو عجیب و غریب کیوں کہا ہے؟

ہیون سانگ نے اپنے سفر نامے میں ایک عجیب و غریب شخص کو بیان کیا جو صوبہ بہار ،بھاگل پور کے آس پاس رہتا تھا۔ یہ شخص اپنے پیٹ کے چاروں طرف تانبے کی تختیاں باندھے رکھتا تھا اور سر پر ایک جلتی ہوئی شمع رکھتا تھا۔ جبکہ ہاتھ میں ڈنڈا لیے اکڑ اکڑ کر چلتا تھا۔ اس عجیب و غریب حلیے کی وجہ وہ یہ بتاتا تھا کہ میرے اندر بے حساب علم ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں میرا پیٹ نہ پھٹ جائے۔ اس لیے میں پیٹ پہ تانبے کی تختیاں باندھے رکھتا ہوں۔ جبکہ لوگ جہالت کے اندھیرے میں رہتے ہیں تو مجھے ان پہ ترس آتا ہے جس لیے میں سر پہ شمع لیے پھرتا ہوں۔

اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے پنڈت نہرو اپنی بیٹی کو کیا سبق دینا چاہتے تھے؟

اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے پنڈت نہرو اپنی بیٹی کو سبق دینا چاہتے ہیں کہ انسان کی عقل اس کے پیٹ میں نہیں ہوتی بلکہ جہاں بھی موجود ہو اس میں بہت کچھ سمانے کی گنجائش ہوتی ہے۔ غلط اور صحیح کے مباحثے سے کبھی کبھی کوئی سچائی نکل آتی ہے۔ اس لیے میں کوئی نصیحت نہ کرو گا بلکہ اگر کوئی بات نصحیت لگے تو اسے کڑوی گولی سمجھ کر نگلنے کی بجائے مشورہ سمجھو۔

خالی جگہوں کو صحیح لفظ سے بھریے:

  • نیک خواہشات کا تعلق تو دل سے ہے۔
  • چین کا ایک سیاح علم ودانش کی تلاش میں ہندوستان آیا۔
  • ہیون سانگ پڑھ لکھ کر بہت قابل ہو گیا۔
  • اس کو فاضل قانون (بدھ) کا خطاب دیا گیا۔
  • اس کے بعد اس نے اپنا سفرنامہ لکھا۔
  • یہ شخص اپنے پیٹ کے چاروں طرف تانبے کی تختیاں باندھے رہتا تھا۔
  • میں ہر وقت اپنے سر پر مشعل لیے پھرتا ہوں۔
  • اپنے ملک کی آزادی کی جدوجہد کو دیکھ رہی ہو۔

نیچے دیے ہوئے جملوں کو صحیح ترتیب سے لکھیے:

  • میرے اندر بے حساب علم بھرا ہوا ہے۔
  • میں نینی جیل سے تمھارے لیے کیا تحفہ بھیجوں۔
  • اور جب میری عقل محدود ہے تو میں کیسے ایک عقل مند آدمی بن کر دوسروں کو مشورہ دوں۔
  • ملک چین سے ایک سیاح علم ودانش کی تلاش میں ہندوستان آیا۔
  • تم ایک دن بہادر سپاہی بنواور ہندوستان کی خدمت کرو۔
  • اس کا زیادہ وقت نالندہ و دیا پیٹھ میں گزرا۔ جو شہر پاٹلی پتر کے قریب واقع تھی۔
  • اس کے بعد اس نے اپنا سفرنامہ لکھا۔
  • ہیون سانگ پڑھ لکھ کر بہت قابل ہو گیا۔

صحیح ترتیب:

  • میں نینی جیل سے تمھارے لیے کیا تحفہ بھیجوں۔
  • ملک چین سے ایک سیاح علم ودانش کی تلاش میں ہندوستان آیا۔
  • اس کا زیادہ وقت نالندہ و دیا پیٹھ میں گزرا۔ جو شہر پاٹلی پتر کے قریب واقع تھی۔
  • ہیون سانگ پڑھ لکھ کر بہت قابل ہو گیا۔
  • اس کے بعد اس نے اپنا سفرنامہ لکھا۔
  • میرے اندر بے حساب علم بھرا ہوا ہے۔
  • اور جب میری عقل محدود ہے تو میں کیسے ایک عقل مند آدمی بن کر دوسروں کو مشورہ دوں۔
  • تم ایک دن بہادر سپاہی بنواور ہندوستان کی خدمت کرو۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے:

سیاحہندوستان میں ہر سال کئی سیاح سیر کی غرض سے آتے ہیں۔
عظیم الشان قرطبہ میں کئی عظیم الشان مساجد موجود ہیں۔
علم و حکمت تحقیق سے انسان پر علم و حکمت کے کئی نئے در کھلتے ہیں۔
بحث و مباحثہچند صاحب علم لوگوں کے درمیان بحث و مباحثہ جاری تھا۔
مشعلمشعل اندھیرے میں اجالا کرتی ہے۔

لکھیے: اپنے دوست کو ایک خط لکھیے۔ جس میں اس خط کی کہانی کا ذکر ہو۔

جے پور، ہندوستان
جولائی 2022ء30
پیاری دوست ثروت!
اسلام علیکم! امید کرتی ہوں تم خیریت سے ہو گی۔ کافی دن ہو گئے تم نے کوئی خط نہیں لکھا اور نہ ہی میرے بھیجے گئے گزشتہ خط کا کوئی جواب دیا۔ جیسے کہ تمھیں معلوم ہے کہ میں جب بھی کوئی نئی چیز پڑھتی ہوں تو جب تک اس کے بارے میں تم سے تبادلہ خیال نہ کر لوں مزا نہیں آتا۔ آج میں ایک قدیم چینی سیاح لیون سانگ کا سفر نامہ پڑھ رہی تھی جس میں اس نے ایک دلچسپ کہانی بیان کی تھی۔جو صوبہ بہار ،بھاگل پور کے آس پاس رہتا تھا۔ یہ شخص اپنے پیٹ کے چاروں طرف تانبے کی تختیاں باندھے رکھتا تھا اور سر پر ایک جلتی ہوئی شمع رکھتا تھا۔ جبکہ ہاتھ میں ڈنڈا لیے اکڑ اکڑ کر چلتا تھا۔
اس عجیب و غریب حلیے کی وجہ وہ یہ بتاتا تھا کہ میرے اندر بے حساب علم ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں میرا پیٹ نہ پھٹ جائے۔ اس لیے میں پیٹ پہ تانبے کی تختیاں باندھے رکھتا ہوں۔ جبکہ لوگ جہالت کے اندھیرے میں رہتے ہیں تو مجھے ان پہ ترس آتا ہے جس لیے میں سر پہ شمع لیے پھرتا ہوں۔ یہ کہانی پڑھ کر مجھے ایک شخص کی یاد آئی۔ یقیناً تمھارے ذہن میں بگی اسی کا خیال ابھرا ہو گا کہ ہمارے ساتھ موجود ثریا بھی کچھ ایسا ہی رویہ اختیار کیے رکھتی تھی۔ ہم تب بھی یہی بات کرتے تھے کہ اصل بڑائی تعلیم حاصل کرنے میں نہیں بلکہ اس علم کو اپنے تک محدود رکھنے کی بجائے دوسروں میں پھیلانے میں ہے۔جب تم ملو گی تو اس بارے میں مزید بات چیث کریں گے۔ گھر پہ سب کو سلام ،جویریہ،عینی اور ہارون کو پیار۔
وسلام
تمھاری دوست
مہرین