Advertisement
  • کتاب” اردو گلدستہ "برائے چھٹی جماعت
  • سبق نمبر02: کہانی
  • مصنف کانام: محمد حسین حسان
  • سبق کا نام: جیسی نیت ویسا پھل

خلاصہ سبق: جیسی نیت ویسا پھل

سبق "جیسی نیت ویسا پھل” میں ایک سبق آموز کہانی بیان کی گئی ہے۔ بہت پہلے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک مالدار عورت رہتی تھی۔ جو بہت خود غرض اور لالچی تھی۔ اس کا نام للینا تھا۔ ا سکے برابر ایک غریب بیوہ عورت جوسیا رہتی تھی۔جس کے سات بچے تھے۔ جبکہ گھر میں بہت غربت تھی۔

دوسری طرف للینا کے گھر میں دولت کی ریل پیل تھی۔ ایک روز برف کا طوفان آیا ایک بوڑھا مسافر جنگل سے للینا کے گھر کی طرف آیا اور دروازہ کھٹکھٹا کر نہایت عاجزی سے مدد کی درخواست کی۔ للینا بوڑھے کو دیکھتے ہی آپے سے باہر ہوگئی اور بڑی ترش روئی سے چیخ کر بولی چل ہٹ دور ہو جا یہاں سے موا۔ آج ہی کے دن منحوس کی صورت دکھانے کو رہ گئی تھی۔ یہ کہہ کر للینا سے جھٹکے سے دروازہ بند کر دیا اور اندر چلی گئی۔وہ مسافر غریب جوسیا کی جھونپڑی کی جانب چل دیا۔

جوسیا نے بوڑھے مسافر کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ عزت کی جگہ بٹھایا اور بڑی لجاجت سے بولی بابا اس وقت ڈھنگ کا کھانا ہم آپ کو نہ کھلا سکیں گے جو روکھی سوکھی حاضر ہے۔آپ بڑے شوق سے آج کی رات یہاں رکیے۔ یہی نہیں بلکہ روسیا نے رخصت ہوتے وقت بھی بچے کھچے روٹی کے ٹکڑے بوڑھے مسافر کے تھیلے میں رکھے۔بوڑھا مسافر جاتے ہوئے جوسیا کو دعا دے کر گیا کہ آج کی صبح جو کام شروع کرو گی وہ بس سورج ڈوبتے ہی ختم ہو گا۔

Advertisement

مسافر کے جانے کے بعد جیسے ہی للینا نے بکس میں رکھا لینن کا ایک کپڑا بیچنے کی غرض سے نکالا اور اس کو ناپنے لگی تو وہ کپڑا خود بہ خود بڑھنے لگا یہاں تک کہ اس کا سارا گھر اس کپڑے سے بھر گیا۔ اسے اپنی مدد کے لیے پڑوسیوں کو بلانا پڑا۔ یہاں تک کہ شام تک وہ کپڑا اتنا زیادہ ہو گیا کہ جوسیا نے اسے اچھے داموں بیچ کر نہ صرف ایک نیا مکان بنا لیا بلکہ اپنے بچوں کے ساتھ آرام سے رہنے لگ گئی۔

یہ تمام کہانی سن کر للینا بہت پچھتائی اور دوبارہ سے اس بوڑھے مسافر کے آنے کا انتظار کرنے لگی۔ ایک سال بعد دوبارہ جب بوڑھے کا آنا ہوا تو للینا سڑک تک دوڑتی ہوئی ان کے استقبال کے لیے آئی اور آگے بڑھ کر سلام کیا۔ بوڑھے سے عاجزی سے مخاطب ہوئی کہ آپ میرے غریب خانے پر آرام فرما کر مجھ پہ احسان کریں گے۔بوڑھے کو اس کا سابقہ رویہ یاد تھا۔جس پر وہ کہنے لگی کہ وہ للینا خود نہیں بلکہ اس کی ہم شکل بہن تھی۔

اب کی بار للینا نے بوڑھے کی خوب آؤ بھگت کی۔ بوڑھے نے رخصت ہوتے وقت للینا کو بھی وہی دعا دی کہ آج کی صبح جو کام شروع کرو گی وہ بس سورج ڈوبتے ہی ختم ہو گا۔ مگر چونکہ للینا کی نیت میں کھوٹ تھا۔ جیسے ہی وہ بوڑھے کے جانگ کے بعد صندوق میں رکھے بیش قیمت کپڑے کی جانب بڑھنے لگی تو راستے میں رکھی پانی کی بالٹی سے اس کا پاؤں ٹکرایا جس کی وجہ سے سارا پانی بہہ گیا۔ للینا پانی بھرنے گئی مگر جیسے ہی وہ گھر جی سیڑھیوں تک پہنچتی اسے ٹھوکر لگتی اور سارا پانی بہہ جاتا۔

وہ مسلسل کوشش کے باوجود بھی کامیاب نہ ہورہی تھی یہاں تک کہ اسے مدد کے کیے ہمسائیوں کو بلانا پڑا۔ یوں شام ڈھلنے تک وہ پانی بھرنے کی تک و دو میں مصروف رہی۔ آخر کو جوسیا اس کی مدد کے لیے آئی اور پانی اس کے گھر تک پہنچایا مگر جب تک شام ڈھل چکی تھی۔ سچ ہے کہ جیسی نیت ویسا پھل۔

سوچیے اور بتایئے:

بوڑھے سے للینا نے کیا کہا؟

للینا بوڑھے کو دیکھتے ہی آپے سے باہر ہوگئی اور بڑی ترش روئی سے چیخ کر بولی چل ہٹ دور ہو جا یہاں سے موا۔ آج ہی کے دن منحوس کی صورت دکھانے کو رہ گئی تھی۔ یہ کہہ کر للینا سے جھٹکے سے دروازہ بںد کر دیا اور اندر چلی گئی۔

جو سیانے بوڑھے مسافر کے ساتھ کیا سلوک کیا؟

جوسیا نے بوڑھے مسافر کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ عزت کی جگہ بٹھایا اور بڑی لجاجت سے بولی بابا اس وقت ڈھنگ کا کھانا ہم آپ کو نہ کھلا سکیں گے جو روکھی سوکھی حاضر ہے۔آپ بڑے شوق سے آج کی رات یہاں رکیے۔ یہی نہیں بلکہ روسیا نے رخصت ہوتے وقت بھی بچے کھچے روٹی کے ٹکڑے بوڑھے مسافر کے تھیلے میں رکھے۔

بوڑھے مسافر کی دعا سے جو سیا کو کیا فائدہ ہوا؟

بوڑھا مسافر جاتے ہوئے جوسیا کو دعا دے کر گیا کہ آج کی صبح جو کام شروع کرو گی وہ بس سورج ڈوبتے ہی ختم ہو گا۔مسافر کے جانے کے بعد جیسے ہی للینا نے بکس میں رکھا لینن کا ایک کپڑا بیچنے کی غرض سے نکالا اور اس کو ناپنے لگی تو وہ کپڑا خود بہ خود بڑھنے لگا یہاں تک کہ اس کا سارا گھر اس کپڑے سے بھر گیا۔ اسے اپنی مدد کے لیے پڑوسیوں کو بلانا پڑا۔ یہاں تک کہ شام تک وہ کپڑا اتنا زیادہ ہو گیا کہ جوسیا نے اسے اچھے داموں بیچ کر نہ صرف ایک نیا مکان بنا لیا بلکہ اپنے بچوں کے ساتھ آرام سے رہنے لگ گئی۔

للینا نے دوسری مرتبہ بوڑھے کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا؟

دوسری مرتبہ جب بوڑھے کا آنا ہوا تو للینا سڑک تک دوڑتی ہوئی ان کے استقبال کے لیے آئی اور آگے بڑھ کر سلام کیا۔ بوڑھے سے عاجزی سے مخاطب ہوئی کہ آپ میرے غریب خانے پر آرام فرما کر مجھ پہ احسان کریں گے۔

للینا کو بوڑھے کی دعا سے فائدہ کیوں نہیں ہوا؟

للینا کی نیت میں کھوٹ تھا جس کی وجہ سے اسے بوڑھے کی دعا سے فائدہ نہ پہنچا۔

نیت کی خرابی کی وجہ سے للینا کوکن پر یشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ؟

بوڑھے نے رخصت ہوتے وقت للینا کو بھی وہی دعا دی کہ آج کی صبح جو کام شروع کرو گی وہ بس سورج ڈوبتے ہی ختم ہو گا۔ مگر چونکہ للینا کی نیت میں کھوٹ تھا۔ جیسے ہی وہ بوڑھے کے جانگ کے بعد صندوق میں رکھے بیش قیمت کپڑے کی جانب بڑھنے لگی تو راستے میں رکھی پانی کی بالٹی سے اس کا پاؤں ٹکرایا جس کی وجہ سے سارا پانی بہہ گیا۔ للینا پانی بھرنے گئی مگر جیسے ہی وہ گھر جی سیڑھیوں تک پہنچتی اسے ٹھوکر لگتی اور سارا پانی بہہ جاتا۔ وہ مسلسل کوشش کے باوجود بھی کامیاب نہ ہورہی تھی یہاں تک کہ اسے مدد کے کیے ہمسائیوں کو بلانا پڑا۔ یوں شام ڈھلنے تک وہ پانی بھرنے کی تک و دو میں مصروف رہی۔

بوڑھے کے اس قول ” جیسی نیت و یسا پھل“ سے آپ کیا سمجھے؟ وضاحت کر یں۔

جیسی نیت ویسا پھل سے مراد ہے کہ اگر آپ اچھا کام اچھی نیف سے کرو گے تو اس کا پھل بھی آپ کو اچھائی یا نیکی کی صورت میں ملے گا لیکن اگر آپ کی نیت میں کھوٹ یا لالچ ہو گا تو اس کا پھل یا انعام بھی اسی طرح کا ہوگا۔