Advertisement

1: سوالات

سوال: وطن کو شاعر نے جنت کا ٹکڑا کیوں کہا ہے؟

ج: شاعر نے وطن کو جنت کا ٹکڑا اس لیے کہا ہے کیونکہ یہ رنگ برنگے پھولوں ، سر سبز جنگل، پیڑ پودوں اور کہیں قسم کے جانوروں سے بھرا ہوا ہے۔

Advertisement

سوال: شاعر نے وطن سے اپنی محبت کا اظہار کس طرح کیا ہے؟

ج: شاعر نے وطن سے اپنی محبت کا اظہار اس کی ہر چیز کو دلکش اورخوبصورت کہہ کر کیا ہے۔

Advertisement

سوال: ہمیں اپنے وطن کی خوبصورتی کو قائم رکھنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

ج: ہمیں اپنے وطن کی خوبصورتی کو قائم رکھنے کے لئے اردگرد کے ماحول کو صاف رکھنا چاہیے اور سر سبز جنگلوں، پیر پودوں، درختوں اور جانوروں کی حفاظت کرنی چاہیے۔

سوال: کتب میں سے پانچ مرکب الفاظ تلاش کر کے لکھیے۔

جادو بیاں
سحرانگین
لطف اندوز
قبلہ نما
دل ربا

سوال:
پہاڑ اس کے ہیں جاں فضا کس قدر
شجر اس کے ہیں خوشنما کس قدر
اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

Advertisement

شاعر اس شعر میں فرماتے ہیں کہ ہمارے وطن کے پہاڑ اور درخت خوبصورت اور دلکش ہیں اور یہ وطن کی خوبصورتی کو بڑھاتے ہیں۔

Advertisement

سوال: دریاؤں جنگلوں پھولوں پھلوں اور جانوروں کی بقا کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟

ج: دریاؤں، جنگلوں، پھولوں،پھلوں اور جانوروں کی بقا کے لیے ہمیں ماحول کے توازن کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے اور ان چیزوں کی حفاظت کو لازمی بنانا چاہیے۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement