Advertisement
  • سبق نمبر19: حصہ نظم
  • شاعر کا نام:کیفی اعظمی
  • نظم کا نام:آندھی

نظم آندھی کی تشریح:

اٹھو دیکھو وه آندھی آ رہی ہے
افق پر برق سی لہرا رہی ہے
قیامت ہر طرف منڈلا رہی ہے
زمین ہچکولے پیہم کھا رہی ہے
اٹھو دیکھو وہ آندھی آرہی ہے

کیفی اعظمی اپنی نظم "آندھی” میں آندھی کے آنے کی منظر کشی یوں کرتے ہیں کہ اٹھو اور دیکھو آندھی آرہی ہے۔آندھی آنے کا منظر یہ ہے کہ آسمان پر اک جانب سے بجلی سی لہرائی اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر جانب قیامت منڈلانے لگی۔یہی نہیں اس کی تڑپ سے زمین بھی ہچکولے کھانے لگی۔

مچلتی،جھومتی، ہلچل مچاتی
تڑپتی شور کرتی دل ہلاتی
گرجتی چیختی ، فتنے اٹھاتی
اٹھو دیکھو وه آندھی آ رہی ہے

آندھی آنے کی مزید منظر کشی کرتے ہوئے شاعر کہتا ہے کہ یہ آندھی مچلتی،جھومتی،اور ہلچل مچاتی ہوئی ایک جانب سے وارد ہو رہی ہے۔اس کی تڑپ ایسی ہے کہ دل دہل جاتے ہیں۔جبکہ اس کی گرج سے فتنے سے اٹھ رہے ہیں۔دیکھو یہ آندھی آرہی ہے۔

Advertisement
فضا میں آتشیں پرچم اڑاتی
زمین پر آگ کے دھارے گراتی
شرارے رولتی شعلے بچھاتی
سنہری روشنی پھیلا رہی ہے
اٹھو دیکھو وہ آندھی آ رہی ہے

یہ بند اس نظم کا مرکزی خیال ہے جس میں شاعر آندھی کے منظر کو مزید یوں بیان کرتا ہے کہ یہ آندھی محض گرد و دھول کا غبار نہیں بلکہ یہ فضا میں سرخ پرچم اڑاتی آرہی ہے جو کہ انقلاب کی علامت ہے۔جس کی وجہ سے زمین پر آگ کے دھارے گر رہے ہیں۔ہر جانب سے شرارے اور شعلے لپکتے دکھائی دے رہے ہیں جن کی وجہ سے سنہری روشنی پھیلی ہوئی ہے۔یہ سب انقلاب کی آندھی ہے۔

بڑھی آتی ہے تعمیری تباہی
جھکی پڑتی ہے نور افزا سیاہی
جھکولے کھا رھا ہے قصر شاہی
بلا زنجیردر کھڑکا رہی ہے
اٹھو دیکھو وہ آندھی آ رہی ہے

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ اس آندھی کی آمد کو دیکھو کہ جو تعمیری تباہی کو لا رہی ہے۔اس کے سامنے ہر طرح کی سیاہی جھکی معلوم ہوتی ہے۔جبکہ اس انقلابی آندھی کی تاب نہ لاتے ہوئے قصر شاہی کے تخت بھی ہچکولے کھا رہے ہیں۔یہ انقلاب ان کے تخت و تاج کے دروں کو بلا خوف و خطر کھٹکھٹا رہا ہے۔

Advertisement
نشانات ستم تھرا رہے ہیں
حکومت کے علم تھرا رہے ہیں
غلامی کے قدم تھرا رہے ہیں
غلامی اب وطن سے جا رہی ہے
اٹھو دیکھو وہ آندھی آ رہی ہے

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ اس آندھی کی وجہ سے ظالموں کے نشانات بھی تھر تھرا اٹھے ہیں۔جبکہ حکومت کے پرچم بھی خطرے سے دوچار ہیں۔اس آندھی کی بدولت غلامی کے قدم بھی تھر تھرانے لگے ہیں کہ اب غلامی کے اور دن باقی نہیں رہنے والے ہیں۔یہ ایک انقلابی آندھی ہے۔

سوالوں کے جواب لکھیے:

سوال نمبر01:افق پر برق سی لہرانے سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

افق پر برق لہرانے سے شاعر کی مراد طوفان یعنی آندھی کی آمد کا پتہ دینا ہے۔ آندھی کی آمد سے قبل آسمان پر ایک بجلی کی سی چمک دکھائی دی۔ یعنی انقلاب سے قبل کی ولولہ انگیزی اور جوش ہے۔

سوال نمبر02:آندھی آنے کے کیا آثار نظر آتے ہیں؟

آندھی آنے سے قبل افق پر برق لہرائی،زمین نے ہچکولے کھائے۔جبکہ یہ آندھی مچلتی ،جھومتی اور ہلچل مچاتی ہوئی وارد ہوئی۔جس کی وجہ سے زمین پر آتشیں آگ کے شرارے گرنے لگے۔

Advertisement

سوال نمبر03:تعمیری تباہی سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

تعمیری تباہی سے شاعر کی مراد ظلم وستم کے خلاف عوامی جدوجہد اور انقلاب ہے۔

عملی کام:

درج ذیل لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے۔

فتنےدور حاضر میں طرح طرح کے فتنے سر اٹھا رہے ہیں۔
شرارےآتشی آندھی زمین پر شرارے رولتی آگے بڑھ رہی تھی۔
زنجیرمیں نے چڑیا گھر میں ہاتھی کو زنجیر سے بندھے دیکھا۔
علم ہمارے فوجی سرحدوں پر اپنے وطن کا علم بلند رکھے ہوئے ہیں۔
Advertisement

Advertisement