ڈاکٹر کلیم عاجز

دنیا میں کوئی بھی شاعری کا دلدادہ ایسا نہیں ہے جو ڈاکٹر کلیم عاجز کے نام سے واقفیت نہ رکھتا ہو۔ ڈاکٹر کلیم عاجز بہار کے ایک انتہائی مشہور شاعر گزرے ہیں۔ ان کے والد یا والدہ کے خاندان میں کوئی شاعر نہیں گزرا تھا۔ ان کی شاعرانہ ذوق و شوق کا آغاز بٹوارۂ ہند سے پہلے ہوا۔

ان کی ولادت 1920ء میں تیلہاڑہ نامی چھوٹے سے گاؤں میں ہوئی جسے قدیم زمانے میں بدھ مت کا خانقاہ مانا جاتا تھا۔ انکے علاقے کے ایک فرقہ وارانہ قتلِ عام میں ان کے خاندان کے بیشتر افراد مار دیے گئے۔ البتہ ان کے اس غم نے انھیں دنیا سے متنفر کرنے کہ بجائے ایک بہترین انسان بنا دیا۔

کلیم عاجز نے پٹنہ یونیورسٹی سے اردو میں بی۔ اے اور ایم۔ اے مکمل کیا۔ وہ بی۔ اے میں گولڈ میڈلسٹ تھے۔ انھوں نے اپنی ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی اسی یونیورسٹی سے 1965ء میں حاصل کی۔ اسی دوران ان کا لکھا مقالہ "بہار میں اردو لیٹریچر کا ارتقاء” کتابی شکل میں بھی جاری ہوا۔ عاجز اپنی پی۔ ایچ۔ ڈی مکمل کرنے کے بعد پٹنہ یونورسٹی سے بطور اردو معلم کافی عرصے تک جڑے رہے۔ ملازمت سے فراغت کے بعد وہ حکومتِ بہار کی اردو مشاورتی کمیٹی کے صدر مامور ہوئے اور تاحیات اس عہدے پر فائز رہے۔

عاجز نے محض 17 سال کی عمر سے ہی غزلیں لکھنا شروع کردیا تھا اور 1949ء تک وہ مشاعروں میں بھی شامل ہونے لگے۔ ٦۰۔ ٧٠ کے دوران وہ اکلوتے شاعر رہے جنہوں نے ہر سال یومِ آزادی کی شام دہلی میں منعقد ہونے والے ‘لال قلعے مشاعرے’ میں بہار کی نمائندگی کی۔ 1976ء میں انکی پہلی کتاب دہلی کے وگیان بھون میں اس وقت کے صدر جمہوریۂ ہند کے ہاتھوں سے جاری ہوئی۔

ڈاکٹر کلیم عاجز کی شاعری عوام کو بے حد متاثر کرتی ہے کیونکہ انکا انداز سادہ اور معاشرتی اقدار کا حامل تھا۔ امتیازی شاعرانہ خدمات کے لیے حکومت ہند نے انھیں 1982ء میں ‘پدماشری’ کے اعزاز سے نوازا۔ ان کی غزلیں ‘جب فصل بہاراں آئی تھی’، ‘وہ جو شاعری کا سبب ہوا’، ‘خشبو ہی خشبو تھی’ اور ‘پھر ایسا نظارہ نہیں ہوگا’ قابلِ آفریں ہیں۔ عاجز نے کبھی کوئی ادبی یا سیاسی تحریک میں حصہ نہیں لیا لیکن وہ تہذیبی میدان میں نہایت ہی کامیاب تھے۔ ان میں یہ اہلیت تھی کہ مشاعروں میں بیسویں صدی کے نامور شاعر مثلاً فراق گورکھپوری سے توجہ ہٹا کر خود پر مرکوز کرلیں۔

فراق گورکھپوری ان کی شاعری کے شیدا تھے۔ عاجز کی کتاب ‘جب فصل بہاراں آئی تھی’ کے پچھلے صفحہ میں انھوں نے لکھا تھا، "میں سوچتا ہوں کہ میں خوش قسمت ہوں جو مجھے کلیم عاجز کی غزلیں انکی زبانی سننے کا موقع نصیب ہوا۔ جب میں نے ان کا کلام سنا، انکی شاعری نے میرے دل میں ہم آہنگی، محبت اور بے حد خوشی پیدا کردی۔ مجھے انکی شاعری سے انتہائی الفت ہے۔”

14 فروری 2015ء کو جھارکھنڈ کے شہر ہزاری باغ میں ڈاکٹر کلیم عاجز رحلت فرما گئے۔ انہیں ان کے آبائی گاؤں میں دفن کیا گیا۔

"بات کتنی ہی بے سلیقہ ہو کلیم،
بات کرنے کا سلیقہ چاہیے۔”

Written byTehreem Shaikh

Close