• کتاب”جان پہچان”برائے آٹھویں جماعت
  • سبق نمبر02:کہانی
  • سبق کا نام: کپڑوں کی دعوت

خلاصہ سبق:

اس سبق میں ایک دلچسپ کہانی بیان کی گئی ہے۔ بہت پہلے ایک شخص ناصر الدین تھا۔ وہ سادہ زندگی گزار رہا تھا۔ایک شام وہ اپنے خچر پر لوٹ رہا تھا کہ اسے راستے میں اس کا پڑوسی ملا وہ خوبصورت لباس میں ملبوس تھا اس نے ناصر الدین کو بلال سوداگر کی دعوت کی یاد دلانی کروائی۔ ناصر الدین نے کہا کہ اسے بھی اس دعوت میں جانا تھا۔ اس نے وہیں سے اپنا خچر موڑ لیا اور دعوت میں چلا گیا۔

دعوت میں ناصر الدین کو میزبان اور وہاں موجود اس کے تمام دوستوں نے نظرانداز کیا۔ کیوں کہ اس نے بیت معمولی لباس پہن رکھا تھا۔ ناصر الدین نے یہ رویہ دیکھا اور واپس گھر لوٹ گیا۔ دوسری مرتبہ ناصر الدین زرق برق لباس پہن کر گیا۔ میزبان نے اسے بہت توجہ دی۔ اس کے تمام دوست بھی اس کی طرف متوجہ ہوئے۔ میزبان نے اسے کھانے کی میز پر بٹھایا۔

ناصر الدین نے رکاب سے بوٹی اٹھا کر منھ میں رکھنے کی بجائے اسے شیروانی کی جیب میں رکھا۔ جبکہ لقمہ آستین میں ڈالا جس کی وجہ سے میزبان بلال سوداگر کو ناصر الدین پر غصہ آیا۔ اس نے ایسا کرنے کی وجہ پوچھی تو ناصر الدین نے بتایا کہ تم نے کھانے پر مجھے نہیں میرے کپڑوں کو بلایا ہے کیونکہ جب میں معمولی کپڑوں میں آیا تو مجھ سے کسی نے بات بھی نہ کی۔ اب جب میں زرق برق لباس میں آیا تو ہر شخص خاطر مدارت کررہا ہے۔ یہی وجہ کی میں کپڑوں کو کھانا کھلا رہا ہوں۔ اس کی اس بات پر تمام لوگ شرمندہ ہوئے اور انھوں نے اپنے اس رویے کی معافی مانگی۔

سوچیے اور بتایئے:

ناصر الدین کیسی زندگی گزار رہا تھا ؟

ناصر الدین سادہ زندگی گزار رہا تھا۔

دعوت میں پہلی بار ناصر الدین کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا ؟

دعوت میں پہلی مرتبہ ناصر الدین کو میزبان اور وہاں موجود اس کے تمام دوستوں نے نظرانداز کیا۔

دعوت میں دوسری بار ناصر الدین کیسے لباس میں پہنچا ؟

دعوت میں دوسری مرتبہ ناصر الدین زرق برق لباس پہن کر گیا۔

بلال سوداگر کو ناصر الدین پر غصہ کیوں آیا ؟

ناصر الدین نے رکاب سے بوٹی اٹھا کر منھ میں رکھنے کی بجائے اسے شیروانی کی جیب میں رکھا۔ جبکہ لقمہ آستین میں ڈالا جس کی وجہ سے میزبان بلال سوداگر کو ناصر الدین پر غصہ آیا۔

ناصر الدین نے کپڑوں کو کھانا کھلانے کی کیا وجہ بتائی ؟

ناصر الدین نے بتایا کہ تم نے کھانے پر مجھے نہیں میرے کپڑوں کو بلایا ہے کیونکہ جب میں معمولی کپڑوں میں آیا تو مجھ سے کسی نے بات بھی نہ کی۔ اب جب میں زرق برق لباس میں آیا تو ہر شخص خاطر مدارت کررہا ہے۔ یہی وجہ کی میں کپڑوں کو کھانا کھلا رہا ہوں۔

خالی جگہوں میں صحیح لفظ بھریے۔

  • نظر انداز ،شرمندہ ،استقبال ،معمولی
  • اس نے آگے بڑھ کر اس کا استقبال کیا۔
  • سارے دوست ناصر الدین کو نظر انداز کررہے تھے۔
  • میں جب معمولی کپڑوں میں آیا تو کسی نے مجھ سے بات بھی نہ کی۔
  • ساری محفل شرمندہ ہوگئی۔

نیچے دیے گئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے۔

دعوتمجھے شادی کا دعوت نامہ موصول ہوا۔
میزبانآج کی دعوت کے میزبان بہت ملنسار تھے۔
عمدہیہاں کا کھانا نہایت عمدہ ہے۔
استقبالہم نے بارات کا استقبال پھولوں سے کیا۔
محفلاحمد کے ڈانس نے آج کی محفل کو چار چاند لگا دیے۔

اس سبق میں ایک لفظ ‘خوش مزاج ‘ آیا ہے جو دو لفظوں خوش+ مزاج سے بنا ہے۔ایسے لفظ کو مرکب لفظ کہتے ہیں۔ نیچے لکھے ہوئے لفظوں میں سے مرکب لفظوں کی نشاندھی کیجیے۔
عقل مند ،بدمزاج ،شخص، ہم جماعت، تفریح،خوش آمدید، شیروانی، ہم وطن ،آفت ،غیر حاظر۔

مرکب الفاظ: عقل مند ،بدمزاج ، ہم جماعت ،خوش آمدید ، ہم وطن ،غیر حاظر۔
غیر مرکب الفاظ: شخص ،تفریح،شیروانی، آفت۔

عملی کام:اس سبق کا کوئی دوسرا عنوان تجویز کیجئے۔

عزت کا پیمانہ ، عزت کا معیار ، رتبے کو سلام ، وغیرہ