Advertisement

کتاب”گلزارِ اردو”برائے نویں جماعت۔

تعارف مصنف:

آپ کا پورا نام نواب مرزا خاں داغ دہلوی تھا۔1801ء میں دہلی میں پیدا ہوئے اور 1905ء میں وفات پائی۔نواب شمس الدین کے لوہار کے بیٹے تھے اس لیے آپ نے قلعے میں پرورش پائی۔آپ ذوق کے شاگرد تھے۔جبکہ میر محبوب اور آصف جاہ ان کے شاگرد ہوئے۔

Advertisement

داغ کو ناظم یار جنگ،دبیر الدولہ،فصیح المک وغیرہ کا خطاب بھی ملا۔ان کے کلام کے مجموعے گلزار داغ،آفتاب داغ،فریاد داغ،مہتاب داغ اور یادگار داغ وغیرہ ہیں۔آپ کو دہلی زبان اور محاورات پر قدرت حاصل تھی۔ان کی زبان دانی کا اتنا دبدبہ تھا کہ بڑے بڑے شعراء نے ان سے اصلاح لی۔ علامہ اقبال نے بھی اپنا ابتدائی کلام انھیں دکھایا۔زبان کی شوخی بیان پر داغ کو خاص قدرت حاصل تھی۔

غزل کی تشریح:

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا
جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا

یہ شعر شاعر نواب مرزا داغ کی غزل سے لیا گیا ہے۔ جس میں شاعر اپنے محبوب کی محبت کو بیان کرتے ہوئےکہتا ہے کہ میں نے جب اپنے محبوب کو رقیب کے ساتھ دیکھا تو بہت دلبرداشتہ ہوا۔محبوب نے چھوٹی قسم سے مجھے اپنی وفا کا یقین دلا تو دیا۔مگر اس کی کھائی یہ قسم جھوٹی ہے اور اس سے محض اس کا اپنا ایمان خسارے میں پڑا۔

Advertisement
ڈرتا ہوں دیکھ کر دل بے آرزو کو میں
سنسان گھر یہ کیوں نہ ہو مہمان تو گیا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ میں اپنے امید،آرزو اور خواہشات سے خالی دل کو دیکھ کر میں ڈرتا ہوں۔ میرا یہ دل سنسان اور خالی کیوں نہ ہو اس دل کا مہمان تو محض میرا محبوب تھا۔ اب جبکہ محبوب میری دسترس میں نہیں ہے تو میرا یہ دل سنسان ہو کر خالی گھر کی مانند ہو گیا ہے۔

دیکھا ہے بت کدے میں جو اے شیخ کچھ نہ پوچھ
ایمان کی تو یہ ہے کہ ایمان تو گیا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ میں نے جب سے اپنے دل کو بت کدے میں پایا ہے یعنی جب سے اس میں کسی اور نے یوں گھر کیا ہے کہ جیسے کسی بت کو پوجا جائے۔تب سے میرا ایمان بھی رخصت ہو چکا ہے۔

افشائے راز عشق میں گو ذلتیں ہوئیں
لیکن اسے جتا تو دیا جان تو گیا

اس شعر میں شاعر اپنے محبوب سے اظہار محبت کے بعد کے جذبات کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگرچہ میں نے اپنے محبوب کے سامنے اپنی محبت کا اظہار کر لیا اور اس اظہار کے بعد مجھے کئی طرح کی ذلتیں بھی اٹھا نا پڑیں۔مگر میرے لیے خوش آئند بات یہ ہے کہ میری محبت کا اظہار اس تک پہنچ چکا ہے میں نے اس پر نہ صرف اپنی محبت ظاہر کر دی ہے بلکہ وہ جان بھی چکا ہے کہ میں اس کی محبت میں گرفتار ہوں۔

Advertisement
گو نامہ بر سے خوش نہ ہوا پر ہزار شکر
مجھ کو وہ میرے نام سے پہچان تو گیا

اس شعر میں شاعر اپنے نامہ بر یعنی محبوب تک اس کا پیغام پہنچانے والے کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگرچہ میرا محبوب میرے پیغام اور پیغام ور سے خوش نہ ہوا لیکن میں اس بات سے خوش ہو کہ میرا اظہار اور نام میرے محبوب تک پہنچ چکا ہے۔

ہوش و حواس و تاب و تواں داغؔ جا چکے
اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اس محبت کے بعد اگرچہ میرے ہوش و حواس جواب دے چکے ہیں۔ اب میرے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہا ہے میرا سب سامان تو لٹ چکا ہے اور اب میں بھی بہت جلد جانے والا ہوں۔

Advertisement

سوالوں کے جواب لکھیے:

سوال نمبر01:شاعر نے دل بے آرزو کو سنسان گھر کیوں کہا ہے؟

شاعر نے دل بے آرزو کو سنسان گھر اس لیے کہا ہے کہ اس میں سے اس کی ہر طرح کی خواہش دم توڑ چکی ہے۔اب اس کا دل ایک سنسان گھر کی مانند ہو چکا ہے۔

سوال نمبر02:تیسرے شعر میں شاعر شیخ سے متعلق کیا بات کہنا چاہتا ہے؟

تیسرے شعر میں شاعر کہنا چاہتا ہے کہ شیخ کو جب میں نے بت کدے میں پایا تو اس سے میرا ایمان جاتا رہا۔

Advertisement

سوال نمبر03:درج ذیل شعر کا مفہوم واضح کیجیے۔

افشائے راز عشق میں گو ذلتیں ہوئیں
لیکن اسے جتا تو دیا جان تو گیا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہمحبوب سے اظہار محبت کے بعد کے جذبات کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگرچہ میں نے اپنے محبوب کے سامنے اپنی محبت کا اظہار کر لیا اور اس اظہار کے بعد مجھے کئی طرح کی ذلتیں بھی اٹھا نا پڑیں۔مگر میرے لیے خوش آئند بات یہ ہے کہ میری محبت کا اظہار اس تک پہنچ چکا ہے میں نے اس پر نہ صرف اپنی محبت ظاہر کر دی ہے بلکہ وہ جان بھی چکا ہے کہ میں اس کی محبت میں گرفتار ہوں۔

سوال نمبر04: پانچویں شعر میں شاعر کا محبوب نامہ بر کی آمد پر خوش نہیں پھر بھی شاعر ہزار شکر کہوں کر رہا ہے؟

شاعر محبوب کے نامہ بر کی آمد سے خوش نے ہونے کے باوجود اس لیے خوش ہے کہ شاعر اس بات پر ہی ہزار شکر کر رہا ہے کہ وہ اپنے محبوب کی نظروں میں تو آ چکا ہے۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement