Advertisement
  • باب نمبر 03: کہانیاں
  • مصنف کا نام:ویکوم محمد بشیر
  • سبق کا نام: جنم دن ملیالم کہانی (مترجم۔ضیاء الرحمٰن صدیقی)

افسانہ جنم دن کا خلاصہ:

افسانے "جنم دن” کی کہانی اس کے ایک ہی اور مرکزی کردار کے گرد گھومتی ہے جو انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہا ہے۔ یہ افسانہ خود کلامی کے انداز میں لکھا گیا ہے۔یہ کردار ایک مصنف کا کردار ہے جوایک کرائے کے انتہائی چھوٹے کمرے میں رہ رہا ہے اور اس کا مالک مکان اس کو سخت نا پسند کرتا ہے کیوں کہ وہ ہمیشہ کرایہ ادا کرنے میں دیر کرتا ہے۔

وہ اپنے جنم دن والے دن میں صبح ہی صبح تیار ہو کر اس آس میں بیٹھ جاتا ہے کہ آج کا دن اس کا اچھا گزرے گا۔وہ مفلسی کے مرحلے سے گزر رہا ہے مگر اپنے جنم دن والے دن وہ کسی سے قرض لے کر اپنا آنے والا تمام سال برباد نہیں کر نا چا ہتا ہے۔دن بھر اسے چائے کی شدید طلب رہتی ہے مگر اس کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ وہ اپنی ضرورت کو پورا کر سکے۔

Advertisement

اسے ایک دوست کی جانب سے دوپہر کے کھانے کی دعوت ملتی ہے تو وہ بہت خوشی سے جب وہاں پہنچتا ہے تو وہاں پر دوست کو نہ پا کر اسے شدید افسوس ہوتا ہے اور اپنی بھوک کے ساتھ اپنے گرتے پڑتے وجود کو لے کر وہ اپنے کرائے کے کمرے تک پہنچتا ہے۔تمام دن گزر جانے کے بعد وہ بھوک سے نڈھال ہوتا ہے۔سی آئی ڈی کی بھی اس پر کڑی نظر ہے کیونکہ یہ وہ دور ہے جب ہر جانب انقلاب کی گونج کی اور اس وقت میں تمام مصنفین پر کڑی نظر ہے کہ ان کے قلم سے کوئی ایسی تحریر نہ نکلے جو انقلاب کا باعث بنے یا حکومت کی کرسی کو الٹانے کا سبب بنے۔ ایسی ہی ایک کارروائی سے فارغ ہونے کے بعد جب یہ مصنف اپنے گھر پر آتا ہے تو اس کی خیر ہوتی حالت کو دیکھ کر ایک ملازم لڑکا اس کو دو آنے ادھار دیتا ہے۔ جس میں سے ایک آنے میں چائے،دوسا اور بیڑی لینے کے بعد باقی کا ایک آنہ یہ مصنف انقلاب کے لئے بھوک ہڑتال کرنے والے غریب لوگوں تک رسائی کے لئے دوست کو دے دیتا ہے۔

رات کو پڑوسی میتھیو کے کچن سے آنے والے کھانے کی مہک مصنف کی بھوک کی شدت کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ جنم دن کے روز وہ کسی سے مانگنا نہیں چاہتا تو مجبوراً وہ اس کے باورچی خانے سے کھانا چرا کر کھا لیتا ہے۔ چوری کا کھانا کھانے کے بعد وہ اس خوف میں مبتلا ہوتا ہے کہ اس کی چوری پکڑے جانے پر وہ سب کی نظروں میں گر جائے گا مگر اس کی چوری کا کسی کو پتا نہیں چلتا اور اس کا بھرم رہ جاتا ہے۔

Advertisement

سوالات:

سوال نمبر 01: اس افسانے کا عنوان "جنم دن” کیوں رکھا گیا ہے؟ وضاحت کیجئے۔

افسانے کا عنوان جنم دن اس کہانی میں موجود کردار کی مناسبت سے رکھا گیا ہے کہ وہ دن اس کا جنم دن ہوتا ہے اور اس کی غربت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ اس کے پاس کھانے یا چائے پینے تک کے پیسے نہیں ہوتے ہیں اور وہ یہ سوچ کر کسی سے قرض نہیں لینا چاہتا کہ آج اس کا جنم دن ہے تو اگر وہ آج ایسے عمل سے باز رہے تو آنے والے وقت میں یہ اس کے لیے اچھا ہو گا مگر اس کے جنم دن کے روز ہی اس کی بے بسی اس کو چوری کی نوبت تک لے جاتی ہے۔

سوال نمبر 02:”جنم دن” افسانے کا خلاصہ بیان کیجئے۔

اوپر دیا گیا خلاصہ ملاحظہ فرمائیں۔

سوال نمبر 03: افسانہ نگار کے جنم دن کے واقعات میں کس واقعے نے آپ کو بے حد متاثر کیا اور کیوں؟

افسانہ نگار کے جس واقعے نے مجھے متاثر کیا وہ یہ کہ جب وہ اخبار ایڈیٹر مسٹر پی کی دوکان پر جاتا ہے اور جس انداز میں چائے کی شدید طلب پر بھی وہ مسٹر پی کی چائے کی پیشکش کو ٹھکراتا ہے۔ وہ انداز قابل تحسین ہے۔ مجھے اس واقعے نے اس لیے متاثر کیا کہ اس میں اس مصنف کی ازلی خوداری کی جھلک دیکھنے کو ملتی ہے اور وہ اپنی کمزوری کو اپنی خوداری پر غالب نہیں آنے دیتا۔

Advertisement

سوال نمبر 04: افسانے کے مرکزی کردار کی معاشی تنگدستی کا حال اپنے لفظوں میں لکھیے۔

افسانے کے مرکزی کردار کی معاشی تنگدستی کا یہ حال ہے کہ وہ ایک کرائے کے سٹور میں رہ رہا ہے جہاں اس کے بستر اور آرام دہ کرسی،میز کے بعد محض سانس لینے کی جگہ بچتی ہے۔ اس کا یہ کمرہ کسی بھی قسم کی روشنی سے عاری ہے کیوں کہ اس کے پاس کھانے کو پیسے موجود نہیں تو چراغ کا تیل کہاں سے لے۔بھوک کا یہ عالم ہے کہ وہ چائے کا ایک کپ بھی خرید کے پینے سے قاصر ہے۔ بھوک کی شدت سے اس کی حالت نڈھال ہوتی ہے اور اسے چوری کر کے یا قرض لے کر پیٹ بھرنا پڑتا ہے۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement