Advertisement

سوال:- عمیق حنفی کی حالات زندگی اور کلام کی خصوصیات تحریر کیجئے۔

  • نام : عبدالعزیز حنفی
  • تخلص : عمیق
  • پیدائش : 1928ء مہو چھاؤنی اندور (M.P.) میں پیدا ہوے۔
  • وفات : 1988ء دہلی میں ہوا۔

تعلیم:

عمیق حنفی نے ابتدائی تعلیم مہو میں حاصل کی۔ اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے اندور چلے گئے۔ سیاست (راجنیتک) اور تاریخ (ہسٹری) میں M.A. کیا۔ عمیق کو فلسفہ (Philosophy) سے انہیں خاص دلچسپی تھی۔ عمیق حنفی کو موسیقی (راگ/گانے بجانے) کے بھی بڑے دلدادہ (عاشق) تھے۔ انہوں نے باقاعدگی سے موسیقی کا علم بھی حاصل کیا۔ اور موسیقی کے فن کی باریکیوں پر بہت عمدہ مضامین بھی لکھیں۔

ملازمت:

عمیق حنفی نے طویل (لمبے) عرصے تک آل انڈیا ریڈیو میں ملازمت کی۔ پھر اسٹیشن ڈائریکٹر کی حیثیت سے 1987ء میں سبکدوش (Retirement) ہوے۔

خصوصیات کلام:

عمیق حنفی نے اپنا ادبی سفر ترقی پسند تحریک کے عروج کے دور سے شروع کیا۔ ان کے کلام کا پہلا مجموعہ "سنگ پیراہن” اسی دور سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے بعد عمیق حنفی جدیدیت کے زیرِاثر آ گئے۔ عمیق حنفی نے طویل نظمیں بھی لکھی جنہیں غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔ ان میں "سندباد” ، "شہزاد” ، "سیارگاہ” ، "شب گست” ، "صوت الناقوس” اور "صلصلۃ الجرس” کو خاص اہمیت ہے۔

عمیق حنفی کا "آئینے کا کورس” ریڈیائی ڈراموں کا مجموعہ ہے۔ عمیق حنفی کی اردو کے علاوہ انگریزی اور دوسری ہندوستانی زبانوں کے ادب پر بھی گہری نظر تھی۔ "شعلے کی شناخت” اور "شعر چیزے دیگر است” ان کی تنقیدی کتابیں ہیں۔

عمیق حنفی نے اپنا ادبی سفر ترقی پسند تحریک کے عروج کے دور میں کیا تھا۔ ان کا پہلا مجموعہ کلام "سنگ پیراہن” اسی دور سے تعلق رکھتا ہے۔اس کے بعد جدیدیت کے زیر اثر آ گئے۔کئج طویل نظمیں بھی لکھیں۔ جن میں ‘سندباد’ ‘شہزاد’ ‘شب گست’ کی خاص اہمیت ہے۔ آئینے کا کورس ان کا ریڈیائی ڈراموں کا مجموعہ ہے۔

⭕️ نظم ملک بے سحروشام کا خلاصہ:

عمیق حنفی نے اس نظم کا عنوان اپنے زمانے کے ماحول کو سامنے رکھ کر قائم کیا۔ اس نظم کے پہلے آٹھ مصرعوں میں شاعر نے اپنے لڑکپن کا تزکرہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب مجھے کسی چیز کن فکر نہیں تھی تو صبح سورج نکلنے اور سورج کے غروب ہونے کے منظر کا دیکھا کرتا تھا۔ اور قدرت کے حسین مناظر سے لطف اندوز ہوتا رہتا تھا۔ (اس کیفیت سے شاعر کے جسم و جان میں تازگی محسوس ہوتی تھی۔

اس کے بعد نظم کے دوسرے حصے کے سات مصرعوں میں شاعر پھر اپنے لڑکپن کی بات کہتا ہے کہ شام کے وقت ہونے سے پہلے وہ کسی جھیل پر پہنچ جاتے اور پھر اس کے پانی میں پاؤں ڈال کر ہلاتے،اس وقت موجیں (لہریں) اچھلتی کودتی نظر آ تی۔ دن بھر کا تھکا سورج اپنے خوابستان میں جانے سے پہلے مسکراکر مجھے شب بخیر کہتا تو اچھا لگتا تھا۔ (اس کیفیت کو شاعر نے ملک بے سحروشام کہا ہے-) اور میں ڈوبتے سورج کی تصور میں کھوئے ہوئے اپنے گھر آ جاتا تھا۔

نظم کے آخری پانچ مصرعوں میں شاعر اپنی جوانی کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب میں لڑکپن چھوڑ کر جوان ہوا تو مجھے جروریات زندگی نے اس طرح گھیر لیا کہ مجھے صبح ہونے اور آفتاب کے غروب ہونے کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔تھک کر شام کو گھر آتا اور پھر اگلے دن اسی طرح کام میں مصروف ہو جاتا۔ (شاعر اب ایسی دنیا میں رہتا ہے جس میں صبح شام نہیں ہوتی۔ یعنی انسان زندگی کے کام دھندوں میں اس قدر الجھ جاتا ہے کہ اسے قدرت کی بنائی ہوئی خوبصورت چیزوں کا بھی پتہ نہیں چلتا۔)
اس نظم میں شاعر نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ نئے زمانے کی ضرورتوں نے ہمیں ایسی کئی چیزوں سے دور کر دیا ہے جن سے ہم روحانی خوشی حاصل کرتے تھے۔ہم نے اپنی زندگی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے اس قدر مصروف رہتے ہیں کہ ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کب صبح سورج نکلتا ہے اور کس وقت ڈوبتا ہے۔

نظم ملک بے سحروشام کی تشریح

کچھ برس پہلے سویرے منھ اندھیرے
ایک پہاڑی پر پہنچ جاتے تھے ہم
ایک کالے سخت تکیے سے اٹھا کر اپنا سر
ادھ جگا سورج ابھر کر دیکھ لیتا تھا ہمیں!
ہم سحرخیز و سے شرما کر جھکا لیتا تھا سر
دفعتاً اس کے لبوں سے پھوٹ پڑتی تھی ہنسی
ہاتھ وہ ہم سے ملا تھا بہ صد حسن تپاک
جسم و جاں میں پھیل جاتی تھی شگفتہ تازگی
  • معنی:- تپاک : گرم جوشی
  • بہ صد حسن تپاک : بے حد گرم جوشی کے ساتھ
  • کالے سخت تکیے : کالے پہاڑ

حوالہ: یہ بند عمیق حنفی کی نظم "ملک بے سحروشام” سے لیا گیا ہے۔

تشریح:

حنفی نے نظم کے اس بند میں اپنے لڑکپن کے دنوں کا ذکر کیا ہے جب اسے کسی بات کی فکر نہیں تھی۔جب شاعر آزادانہ زندگی گزارتا تھا۔ تو وہ صبح سویرے گھر سے نکل کر ایک پہاڑی پر چلے جاتے تھے۔اور وہاں اور وہاں بیٹھ کر سورج کے طلوع (نکلنے) ہونے کا منظر دیکھتے تھے۔پہاڑ کے کالے پتھروں کے پیچھے سے سورج آہستہ آہستہ ابھرتا اور اس کی نظر اس پڑتی تو ایسا لگتا گویا سورج انہیں دیکھ کر مسکرا رہا ہے اور صبح ہونے سے پہلے بیدار (جاگنا) ہونے والوں سے شرما جاتا ہے۔اور شاعر کو ایسا لگتا ہے جیسے سورج کی کرنیں اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ان کا گرم جوشی سے خیر مقدم (استقبال) کر رہی ہے۔اور سورج کی ان کرنوں سے ہمارے جسم میں تازگی پھیل جاتی ہے۔

شام کو جب جھیل کے پانی میں ڈالے اپنے پانو
دائرہ در دائرہ موجیں اٹھا دیتے تھے ہم
تب تھکا ماندہ، انیندہ، مضمحل سورج
اپنے خوابستان میں روپوش ہو جانے سے قبل
مسکرا کر ہم سے کہتا شب بخیر
اور چل پڑتے تھے ہم سب اپنے گھر
دائرہ در دائرہ موجوں میں سورج گھیر کر
  • معنی:- انیندہ : ادھ جگا
  • مضمحل : نڈھال
  • خوابستان : خوابوں کی سر زمین
  • روپوش : غائب
  • حوالہ: یہ بند عمیق حنفی کی نظم”ملک بے سحروشام” سے لیا گیا ہے۔

تشریح:

نظم کے دوسرے بند میں شاعر اپنے لڑکپن کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب شام کے وقت ہم کسی جھیل کے پانی میں پاؤں ڈالتے تھے تو اس کی موجوں (لہروں) کے گول گول دائرے بن جاتے تھے۔اس وقت دن بھر کا تھکا ہوا سورج اپنے خوابستان (خواب گاہ) میں جانے سے پہلے ہم سب سے شب بخیر کہتا ہے اور ہم اپنے ساتھیوں کے ہمراہ (ساتھ) غروب ہوتے ہوے سورج کا تصور اپنے دل میں لیکر اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے تھے۔

اور اب؟
اب تو یہ بھی یاد رکھنا ہے محال
کس طرف پورب یے، پچھم ہے کدھر،
کب اگا کرتا ہے سورج اور کب جاتا ہے ڈوب
کس کو بستر میں پتہ!
کس کو دفتر میں خبر!
  • معنی:- محال : مشکل
  • حوالہ: یہ بند عمیق حنفی کی نظم”ملک بے سحروشام” سے لیا گیا ہے۔

تشریح:

نظم کے تیسرے بند میں شاعر اپنی موجودہ زندگی کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ہم جیسے ہی جوانی میں داخل ہوے تو زندگی کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں اس قدر مشغول ہوئے کہ یاد رکھنا بھی مشکل ہو گیا کہ کس طرف پورب ہے اور کس طرف پچھم۔ کہ سورج کب طلوع (نکلتا) اور کب غروب (چھپنا) ہوتا ہے۔ کیونکہ دن بھر دفتر میں کام کرتے ہیں اور رات کو تھک ہار کر گھر لوٹ آتے ہیں۔ اور پھر صبح دیر تک بیدار (جاگنا) نہیں ہوتے۔ دفتر کی مصروفیات اور دیر سے اٹھنے کے سبب قدرت کے ان خوبصورت منظر کا لطف نہیں اٹھا پاتے۔

(اس بند میں شاعر نے لڑکپن کی زندگی کا مقابلہ جوانی کی زندگی سے کیا ہے۔ شاعر کا لڑکپن کا زمانہ عیش و آرام، بے فکری اور آزادی کا زمانہ تھا۔ گھومنا پھرنا، صبح کا منظر دیکھنا، جھیلوں کے کنارے پر بیٹھ کر غروب آفتاب (ڈوبتے سورج) کا منظر دیکھنا دلکش معلوم ہوتا تھا۔ لیکن جوانی کے زمانہ میں اب اتنی فرصت نہیں کے یہ سب دیکھیں۔ کیونکہ ضروریات زندگی کو پورا کرنے میں ہم اس قدر مشغول ہو گئے ہیں کہ سب کچھ بھلا بیٹھے۔

مشقی سوالات کے جوابات:

سوال: شاعر اپنے ماضی کی صبحوں کو کیوں یاد کرتا ہے؟

جواب: شاعر اپنے ماضی کی صبح کو اس لیے یاد کرتا ہے کہ وہ سورج طلوع ہونے سے پہلے ایک پہاڑی پر پہنچ جاتا تھا اور وہاں سے سورج کو طلوع ہوتے دیکھا تھا۔ اور فطرت کے حسین مناظر سے لطف اندوز ہوتا تھا مگر اب وہ فطری خوبصورتی اور قدرتی مناظر سے بہت دور ہو گیا ہے۔ اس لیے وہ ماضی کی صبحوں کو یاد کرکے دل بہلانے کی کوشش کرتا ہے۔

سوال: شاعر کو اپنی گزشتہ شامیں کیوں یاد آتی ہیں؟

جواب: شاعر کو اپنے گزشتہ شام اس لیے یاد آرہی ہے کہ وہ شام کے وقت جھیل کے کنارے بیٹھ کر اس کے پانی میں پاؤں پھیلاتا تھا تو اس میں لہریں پیدا ہوتی۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس وقت تک وہاں رہتا جب تک سورج غروب نہ ہو جاتا۔غروب آفتاب کا منظر بڑا دلکش ہوتا ہے۔ اس وقت ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سورج ہمیں شب بخیر کہہ رہا ہو اس طرح وہ مناظر فطرت سے لطف اندوز ہوتا تھا۔

سوال : شاعر کے لیے کیا یاد رکھنا محال ہے؟

جواب : شاعر جوان ہو کر دنیا کی ضروریات زندگی کو پورا کرنے میں اس قدر مشغول ہوگیا ہے کہ اسے یہ یاد رکھنا بھی مشکل نظر آرہا ہے کہ کس طرف پورب ہے اور کس طرف پچھم ہے۔ سورج کب طلوع ہوتا ہے اور کب ڈوب جاتا ہے۔ گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر کے چکر میں وہ فطرت کے حسین نظاروں سے محروم ہو گیا ہے۔

⭕️ مشقی سوالات کے جوابات:

سوال : عمیق حنفی کا اصل نام کیا ہے؟

جواب : عبد العزیز حنفی ہے۔

سوال : عمیق حنفی کی پیدائش کب اور کہاں ہوئی؟

جواب : 1928ء مہو چھاؤنی ضلع اندور (ایم پی) میں۔

سوال : عمیق حنفی کے ریڈیائی ڈراموں کا مجموعہ لکھوں۔

جواب : آئینے کا کورس ان کا ڈرامائی مجموعہ ہے۔

سوال : عمیق حنفی کی مشہور طویل نظمیں کون سی ہیں؟ نام لکھو۔

جواب : سند باز، شہزاد، سیارگاں، شب گشت وغیرہ۔

سوال : عمیق حنفی کی تنقیدی کتابوں کے نام تحریر کریں۔

جواب : شعلے کی شناخت اور شعر چیزےدیگر است ہے۔

از تحریر ارمش علی خان