Advertisement

غزل

ان نے کیا تھا یاد مجھے بھول کر کہیں
پاتا نہیں ہوں تب سے میں اپنی خبر کہیں
آجائے ایسے جینے سے اپنا تو جی بہ تنگ
جیتا رہے گا کب تلک؟ اے خضر! مر کہیں
پھرتی رہی تڑپتی ہی عالم میں جا بہ جا
دیکھا نہ میری آہ نے روئے اثر کہیں
یوں تو نظر پڑے ہیں دل افگار اور بھی
دل ریش کوئی آپ سا دیکھا نہ پر کہیں
ظالم!جفا جو چاہے سو کر مجھ پہ، ولے
پچھتاوے پھر تو آپ ہی، ایسا نہ کر کہیں

تشریح

پہلا شعر

ان نے کیا تھا یاد مجھے بھول کر کہیں
پاتا نہیں ہوں تب سے میں اپنی خبر کہیں

شاعر کہتا ہے کہ محبوب بڑا مغرور ہے۔ کبھی سیدھے منہ بات نہیں کرتا،یاد کیا کرے گا۔پر نہ جانے کیسے بھولے سے اس نے مجھے کبھی یاد کر لیا تھا۔ یہ اس کا سر ہے کہ جب سے میں بے خود ہو گیا ہوں خود اپنی خبر مجھے نہیں ہے۔

Advertisement

دوسرا شعر

آجائے ایسے جینے سے اپنا تو جی بہ تنگ
جیتا رہے گا کب تلک؟ اے خضر! مر کہیں

خضر ایک پیغمبر جن کی نسبت مشہور ہے کہ انھوں نے آبِ حیات پی رکھا ہے اور ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ نکُتہ اس شعر میں یہ ہے کہ مسّرت کے ساتھ اگر غم نہ ہو تو خوشی کا احساس نہیں ہوتا۔ لہٰذا زندگی کے ساتھ اگر موت نہ ہو تو زندگی بے لطف ہو جاتی ہے۔ اب شاعر حضرت خضر سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ ایسی بے لطیف زندگی کیوں کر جیتا ہے،کیوں نہیں مر جاتے،آخر کب تک جیو گے۔ہمارا جی تو ایسی بے لطیف زندگی جینے سے بیزار ہو جاۓ۔

Advertisement

تیسرا شعر

پھرتی رہی تڑپتی ہی عالم میں جا بہ جا
دیکھا نہ میری آہ نے روئے اثر کہیں

شاعر کہتا ہے کہ ہمارے مقدر کا اندازہ لگائیے۔ سنتے ہیں کہ آہوں میں اثر ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے اس دل سے نِکلی آہیں دنیا میں جگہ جگہ بھٹکتی پھرتی رہیں۔

Advertisement

چوتھا شعر

یوں تو نظر پڑے ہیں دل افگار اور بھی
دل ریش کوئی آپ سا دیکھا نہ پر کہیں

شاعر کہتا ہے کہ ویسے تو محبت میں بہتوں کی بُری حالت دیکھی ہے، زخمی تن ان کے دیکھے ہیں۔ لیکن آپ جیسی حالت کا عاشق کہ جس کا دل ریشہ ریشہ ہو گیا ہو، کہیں نہیں دیکھا۔

پانچواں شعر

ظالم!جفا جو چاہے سو کر مجھ پہ، ولے
پچھتاوے پھر تو آپ ہی، ایسا نہ کر کہیں

محبوب چونکہ ظلم کرتا ہے لہٰذا استعارتاً شاعر اس سے ظالم کہہ کر خطاب کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھ پر تو جور و وفا جو چاہے کرلے لیکن کچھ ایسا ویسا مت کرنا کہ جس پر خود تجھے بعد میں پچھتانا پڑے۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement