Advertisement
  • نظم : کسان تشریح
  • شاعر : جوش ملیح آبادی
  • ماخوذاز : شعلہ و شبنم

تعارفِ نظم :

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”کسان“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام جوش ملیح آبادی ہے۔ یہ نظم شعلہ و شبنم سے ماخوذ کی گئی ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر :

آپ کا اصل نام شبیر احمد خاں تھا، جسے تبدیل کر کے آپ نے اپنا نام شبیر حسن خاں رکھا، آپ کا تخلص جوش تھا۔ ۵؍دسمبر ۱۸۹۸ء کو ضلع ملیح آباد(یوپی) میں پیدا ہوئے۔ ابتدا میں عزیز لکھنوی سے اصلاح لی، مگر بعد میں اپنے وجدان و ذوق کو رہبر بنایا۔ پاکستان آنے کے بعد اردو ترقیاتی بورڈ، کراچی کے مشیر خاص مقرر ہوئے۔ جوش ۲۲؍فروری ١٩٨٢ء کو راہی ملک عدم ہو گئے۔

Advertisement
جھٹپٹے کا نرم رَو دریا، شفق کا اضطراب​
کھیتیاں، میدان، خاموشی، غروبِ آفتاب​

تشریح :

جوش ملیح آبادی نے اس نظم میں بڑی جان دار منظر کشی کی ہے۔ اس شعر میں انھوں نے شام کے منظر کو بڑے دل نشیں انداز میں بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت سورج غروب ہورہا ہے۔ دن کی روشنی آہستہ آہستہ رات کے اندھیرے میں تبدیل ہورہی ہے۔ آسمان پر رات اور دن کے اس مدغم کے عین درمیان کے وقت میں ایسی سرخی بکھری ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کوئی نرم رو دریا بہتے ہوئے اپنا راستہ بنا رہا ہو۔ شاعر اس شعر میں کہتے ہیں کہ سورج سارا دن اپنی روشنی اور تپش سے ہر جگہ اجالا رکھتا ہے اور اس کے غروب ہوتے ہی کھیتیاں اور میدان بھی ویران اور خاموش ہوجاتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سورج کے غروب ہونے سے وہ بھی اداس ہوگئی ہیں اور اب تھک کر آرام کرنا چاہتی ہیں جس طرح انسان دن بھر سورج کی روشنی میں محنت کرتا ہے اور پھر رات کے اندھیرے میں آرام کرتا ہے۔

Advertisement
​یہ سماں، اور اک قوی انسان، یعنی کاشتکار​
ارتقا کا پیشوا، تہذیب کا پروردگار​

تشریح :

اس شعر سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جوش ملیح آبادی کا کسانوں کے بارے میں مشاہدہ بہت گہرا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب شام کا اندھیرا ہر سُو پھیل جاتا ہے اور ہر شخص آرام کرنے کی غرض سے اپنے گھر کی راہ لیتا ہے تب بھی کچھ لوگ کام کررہے ہوتے ہیں۔ وہ لوگ کسان ہوتے ہیں جو اپنی اداس کھیتیوں میں رات دیر تک کام کرتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ ایک ملک کی ترقی کا دراومدار اس کی زرعی پیداوار پر ہوتا ہے اور جس ملک کے کسان خوش حال رہتے ہیں اس ملک کو ترقی کی منازل طے کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ کسی بھی ملک کی تہذیب کی اہمیت کسان ہی کی مرہونِ منت ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اگر ایک ملک کے پاس بہت پیسہ تو ہو لیکن وہاں کے کسان سبزی اور پھل نہ اُگائیں تو وہ ملک بہت بڑی پریشانی کا شکار ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس اگر ایک ملک کے پاس پیسے تھوڑے کم ہوں لیکن زرعی پیداوار اچھی ہو تو اس ملک کا گزارا آرام سے ہوجاتا ہے۔

جلوۂ قدرت کا شاہد، حسنِ فطرت کا گواہ​
ماہ کا دل، مہرِ عالم تاب کا نورِ نگاہ​

تشریح :

اس شعر میں شاعر کسان کی اہمیت کو کچھ اس طرح سے اجاگر کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ کسان چونکہ اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ کھیتوں میں کام کرتے ہوئے گزارتے ہیں تو وہ قدرت کے رنگوں اور حسین نظاروں کے گواہ ہوتے ہیں۔ وہ چاند کی چاندنی کے گواہ اور چاند کے لاڈلے ہوتے ہیں جو چاندنی راتوں میں بھی اپنی کھیت میں کام کرتے ہیں اور وہ سورج کی روشنی کو بھی پیارے ہوتے ہیں۔ کسان سورج کی پہلی کرن کی خوبصورتی سے لے کر سورج غروب ہوتے ہوئے شفق پر پھیلی لالی تک ہر منظر کے گواہ ہوتے ہیں۔

Advertisement
لہر کھاتا ہے رگِ خاشاک میں جس کا لہو​
جس کے دل کی آنچ بن جاتی ہے سیلِ رنگ و بو​

تشریح :

اس شعر میں جوش ملیح آبادی کہتے ہیں کہ کسان اس قدر محنت و مشقت کا عادی ہوتا ہے کہ اس کا خون گھاس پھونس اور کوڑے کرکٹ کی رگوں میں لہراتا ہے۔ یعنی وہ اپنے کھیتوں میں اس قدر محنت اور مشقت کرتا ہے کہ اپنا خون پسینا ایک کر دیتا ہے۔ جب وہ محنت کرتا ہے اور اس کا پسینا بہتا ہے تو اس پسینے میں اس کا لہو بھی شامل ہوتا ہے۔ یہاں اس بات سے شاعر کی مراد یہ ہے کہ ایک کسان اپنے کھیتوں میں انتھک محنت کرتا ہے۔ اس شعر کے دوسرے مصرعے میں شاعر کہتے ہیں کہ کسان ایک ایسی ہستی ہے جس کے دل کی آنچ یعنی آگ یا حرارت رنگ و خوشبو کا سیلاب بن جاتی ہے۔ یعنی کسان کے دلی جذبہ اور سخت محنت کے نتیجے میں فصلوں ، پھلوں اور پھولوں کو رنگت و خوشبو میسر آتی ہے۔ فصلیں کسان ہی کی صحت سے لہلہاتی ہیں۔ پھول اس کی نگرانی اور دیکھ بھال سے کھلتے ہیں اور پھل اس کی مشقت سے پکتے ہیں۔ جس طرح معمار کوئی عمارت بناتا ہے۔ وہ اپنا سارا ہنر اس پر صرف کرتا ہے تو عمارت میں ایک دلکشی اور جاذبیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس طرح جب پھلوں میں خوشبو اور ذائقہ بنتا ہے یا پھولوں میں خوشبو اور رنگت آتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ پھل یا پھول جس کھیت سے تعلق رکھتے ہیں اس کھیت کے کسان نے وہاں بہت محنت کی ہے۔

دوڑتی ہے رات کو جس کی نظر افلاک پر​
دن کو جس کی انگلیاں رہتی ہیں نبضِ خاک پر​

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ کسان جب محنت کر کے فصل اگاتا ہے تو کسان کو رات دن اس بات کی فکر لاحق رہتی ہے کہ اس کی فصلیں ٹھیک طور پر اور سازگار ماحول میں پروان چڑھیں۔ وہ لگاتار موسم اور آب و ہوا کی تبدیلیوں پر نظر رکھتا ہے۔ رات کے وقت اس کی نگاہیں آسمان کی طرف گئی رہتی ہیں کہ بارش، آندھی یا طوفان کا امکان تو نہیں۔ اگر ایسا ہو تو پھر وہ مناسب تحفظ کرتا ہے۔ اس طرح دن کی روشنی میں کسان کی انگلیاں زمین کی نبض پر رہتی ہیں یعنی وہ دن میں زمین کی حالت و کیفیت کا مسلسل جائزہ لیتا رہتا ہے۔ وہ ان تبدیلیوں کا جائزہ لے کر مناسب اقدامات بھی کرتا ہے تاکہ اس کی فصل بچی رہے۔ وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ زمین سیراب ہے یا خشک، کاشت کے لیے تیار ہے یا نہیں؟ وہ ان تمام چیزوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنی فصل کے تحفظ کے لیے اقدامات کرتا ہے۔

Advertisement
سرنگوں رہتی ہیں جس سے قوتیں تخریب کی​
جس کے بوتے پر لچکتی ہے کمر تہذیب کی

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ کسان ایک ایسی قابل قدر اور مفید ہستی ہے کہ ان کی بدولت منفی قسم کی شر پسند قوتیں مغلوب رہتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسان کی بدولت ملکی پیداوار اور آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔ قومی خزانہ مضبوط و مستحکم ہوتا ہے جس کی وجہ سے ملکی انتظام اور نظم و ضبط بہتر ہوتا۔ ر ہوتا جرائم اور تخریب کاری کا سد باب ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ کسان ہی ہے جس کی محنت ہماری تہذیب و تنظیم کو پروان چڑھاتی ہے اور اعلی اخلاقی اور انسانی قدریں فروغ پاتی ہیں۔ ان ہی کی وجہ سے معاشرے کی اصلاح ہوتی ہے اور قابل قدر روایات جنم لیتی ہیں۔

جس کے بازو کی صلابت پر نزاکت کا مدار​
جس کے کَس بل پر اکڑتا ہے غرورِ شہریار​

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ کسان کی قوت بازو پر نزاکت، بانکپن اور حسن و جمال کا دارومدار اور انحصار ہے یعنی کسان کے بازوؤں کی طاقت ملکی پیداوار اور آمدنی میں اضافہ کرتی ہے، جس کے نتیجے میں نزاکت اور بانکپن کا تحفظ ہوتا ہے۔ اس طرح کسان کے دم اور زور وقوت کے باعث ہی بادشاہ غرور و ناز سے اکڑتا ہے، یعنی بادشاہ کے فخر وغرور اور شان و شوکت کا انحصار بھی کسان کی قوت بازو پر ہے۔ اگر کسان پیداوار میں اضافہ کر کے مالیہ اور لگان ادا نہ کرے تو بادشاہ کی بادشاہت قائم نہیں رہ سکتی۔ یہ کسان ہی ہے جو لوگوں کو آرام و آسائش مہیا کرتا ہے اور بادشاہ اور حکمران کی شان بڑھاتا ہے۔

Advertisement
دھوپ کے جھلسے ہوئے رخ پر مشقت کے نشاں​
کھیت سے پھیرے ہوئے منہ، گھر کی جانب ہے رواں​

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ کسان گرمی کی شدت اور تیز دھوپ میں اس قدر محنت و مشقت سے کام کرتا ہے کہ اس کے چہرے پر اس سخت محنت کے واضح نشان نظر آتے ہیں۔ بے چارے کا چہرہ جھلس کر سیاہ پڑ جاتا ہے اور چہرے کی رونق و تازگی ختم ہو جاتی ہے۔ وہ سارا دن اپنے کھیتوں میں سخت محنت کرتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ تھک کر چور ہو جاتا ہے۔ اب وہ منھ کھیت سے موڑ کر اپنے گھر کی طرف چل پڑتا ہے۔ گھر میں وہ اپنے بیوی بچوں میں گھل مل جاتا ہے ، اس طرح اسکا دل بہل جاتا ہے اور وہ اگلے روز کی محنت مشقت کے لیے تروتازہ ہو جاتا ہے۔

مشق

ْ۱) مندرجہ ذیل سوالات کے جواب لکھیے۔

(الف) نظم کے دوسرے شعر میں شاعر نے کن الفاظ میں کسان کی تحسین کی ہے؟

جواب : نظم کے دوسرے شعر میں شاعر نے کہا ہے کہ جب شام کا اندھیرا ہر سُو پھیل جاتا ہے اور ہر شخص آرام کرنے کی غرض سے اپنے گھر کی راہ لیتا ہے تب بھی کچھ لوگ کام کررہے ہوتے ہیں۔ وہ لوگ کسان ہوتے ہیں جو اپنی اداس کھیتیوں میں رات دیر تک کام کرتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ ایک ملک کی ترقی کا دراومدار اس کی زرعی پیداوار پر ہوتا ہے اور جس ملک کے کسان خوش حال رہتے ہیں اس ملک کو ترقی کی منازل طے کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ کسی بھی ملک کی تہذیب کی اہمیت کسان ہی کی مرہونِ منت ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اگر ایک ملک کے پاس بہت پیسہ تو ہو لیکن وہاں کے کسان سبزی اور پھل نہ اُگائیں تو وہ ملک بہت بڑی پریشانی کا شکار ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس اگر ایک ملک کے پاس پیسے تھوڑے کم ہوں لیکن زرعی پیداوار اچھی ہو تو اس ملک کا گزارا آرام سے ہوجاتا ہے۔

Advertisement

(ب) "جلوۂ قدرت کا شاہد” سے کون مراد ہے؟

جواب : "جلوۂ قدرت کا شاہد” سے مراد کسان ہے۔

(ج) نبض خاک پر انگلیاں رہنے کا کیا مطلب ہے؟

جواب : نبضِ خاک پر انگلیاں رہنے کا مطلب یہ ہے کہ کسان ہر وقت زمین کی حالت پر نظر رکھتا ہے۔

Advertisement

(و) شاعر نے کسان کے گھر لوٹنے کی جو تصویر کشی کی ہے ، اسے دو سطروں میں لکھیے۔

جواب : شاعر کہتے ہیں کہ کسان دن بھر کام کرکے تھک جاتا ہے۔ پھر وہ منہ کھیت سے موڑ کر اپنے گھر جا کر اپنے خاندان سے مل کر تر و تازہ محسوس کرتا ہے۔

(د) شاعر نے کسے ارتقا کا پیشوا کہا ہے؟

جواب : شاعر نے کسان کو ارتقا کا پیشوا کہا ہے۔

Advertisement

(ہ) کون سی قوتیں کسان سے سرنگوں رہتی ہیں؟

جواب : تخریب کی قوتیں کسان سے سرنگوں رہتی ہیں۔

(ز) کھیت سے منھ پھیر کر کسان کہاں جاتا ہے؟

جواب : کھیت سے منھ پھیر کر کسان اپنے گھر جاتا ہے۔

(ح) نظم کے آخری شعر میں شاعر نے کن پانچ چیزوں کا ذکر کیا ہے؟

جواب : نظم کے آخری شعر میں شاعر نے دھوپ، مشقت، کھیت، منہ اور گھر کا ذکر کیا ہے۔

Advertisement

۲) نظم "کسان” کا متن مد نظر رکھ کر درست جواب پر نشان لگائیں:

(الف) نظم کا ابتدائی منظر ہے :
شام کا
صبح کا
جھٹ پٹے کا ✓
رات کا

(ب) کسان کی انگلیاں دن کے وقت رہتی ہیں۔
بل کی ہتھی پر
حقے کی نسے پر
خاک کی نبض پر ✓
بانسری پر

Advertisement

(ج)کسان قدرت کے جلوے کا ہے
نباض
مداح
گواہ ✓
شاہد

(د) کسان کھیت سے رخ پھیر کر کہاں جاتا ہے؟
گھر میں ✓
ویرانے میں
منڈیر کی طرف
گاؤں میں

Advertisement

(و) نظم کسان کس شاعر کی تخلیق ہے؟
جوش ملیح آبادی ✓
جمیل الدین عالی
میر انیس
ولاور فگار

(و) یہ نظم جوش کے کس مجموعہ کلام سے لی گئی ہے؟
حرف و حکایت
شعلہ و شبنم ✓
جذبات فطرت
سنبل و سلاسل

Advertisement

(ز) شاعر نے تہذیب کا پروردگار کسے کہا ہے؟
عالم
مزدور
کسان ✓
معلم

۳) نظم کسان کا متن ذہن میں رکھ کر، درست الفاظ کے ذریعے سے مصرعے مکمل کریں:

  • (الف) جلوہ قدرت کا (شاہد) حسن فطرت کا گواہ
  • (ب) دن کو جس کی انگلیاں رہتی ہیں نبضِ (خاک) پر
  • (ج) جس کے بوتے پر لچکتی ہے کمر (تہذیب) کی
  • (د) جس کے کس بل پر اکڑتا (ہے غرور) شہر یار
  • (و) دھوپ کے جھلسے ہوئے (رُخ) پر مشقت کے نشاں

۳) درج ذیل فہرست میں سے مذکر مؤنث الگ الگ کیجیے:

Advertisement
مذکر :
شفق
میدان
سماں
فاتح
فلک
مونث :
نظم
نسیم
فطرت
تہذیب
دھوپ
Advertisement
Advertisement

Advertisement