Advertisement

راجندر سنگھ بیدی اردو ادب کے مایہ ناز افسانہ نگار ہیں۔ آپ منٹو اور کرشن چندر کے ہم عصر تھے، آپ اپنے افسانوں میں بطور مبلغ نہیں بلکہ بطور منظر نگار سامنے آتے ہیں۔ آپ افسانہ نویسی کے فنی تقاضوں سے بخوبی آگاہ تھے اور اس صفت پر نازاں بھی رہے۔ سماجی زندگی اور تعلقات آپ کے افسانوں کے خاص موضوعات ہیں۔ گرم کوٹ، اپنے دکھ مجھے دے دو اور لاجونتی آپ کے شاہکار افسانوں میں سے ہیں۔

Advertisement

افسانہ لاجونتی کا خلاصہ

افسانہ لاجونتی تقسیمِ ہند (بالخصوص پنجاب) کے تناظر میں لکھا گیا ہے۔ اس کا موضوع اغوا شدہ اور بے گھر خواتین کی گھر واپسی میں درپیش مسائل ہیں۔ “لاجونتی” افسانے کا مرکزی کردار ہے، یہ سندر لال کی بیوی ہے۔ سندر لال ایک سخت مزاج شوہر ہے اور اکثر لاجونتی کو مارتا پیٹتا بھی رہتا ہے، لیکن اس سے ان کی محبت میں کمی نہیں آتی۔

Advertisement

پنجاب کی لاجونتی کو مرد کا حاکمانہ رویہ پسند ہے، وہ سخت گیری کو سندر لال کا اظہار محبت مانتی ہے۔ تقسیم کے وقت لاجونتی اغوا ہو جاتی ہے، ایسے میں ہندوستان میں تقسیم کے مسائل سے متعلق بہت سی تحریکیں شروع ہوتی ہیں، جن میں سے ایک دل میں بساؤ تحریک ہے، کیونکہ اغوا شدہ خواتین جب واپس آتی ہیں تو ان کے اہل خانہ ان بدنصیب خواتین کو ان کے ساتھ ہونے والے واقعات کی وجہ سے اپنانے کو تیار نہیں ہوتے۔

سندر لال بھی اسی تحریک کا فعال رکن ہے، وہ لوگوں کو قائل کرتا ہے کہ یہ خواتین نفرت اور نظر اندازی کی نہیں بلکہ ہماری محبت اور ہمدردی کی مستحق ہیں۔ اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی ذمہ دار وہ نہیں بلکہ بے رحم سماج ہے اور نفرت کی مستحق یہ بے بس اور لاچار خواتین نہیں بلکہ ہمارا بے رحم سماج اور رویے ہیں۔

Advertisement

پاکستان اور ہندوستان میں اغوا شدہ خواتین کے تبادلوں کے دوران سندر لال لاجونتی کی واپسی کے لیے پر امید رہتا ہے اور دل میں بساؤ تحریک میں بھی اپنی توانائیوں کے ساتھ سرگرم عمل ہے۔ بالآخر لاجونتی کی بھی واپسی ہوتی ہے، سندر لال اسے واپس گھر لے آتا ہے لیکن اس کا رویہ اب بہت مختلف ہے، وہ لاجونتی کو لاجو نہیں دیوی کہہ کر پکارتا ہے۔ اب وہ مار پیٹ تو درکنار اس پر غصہ بھی نہیں ہوتا۔ لاجونتی اس سے بہت کچھ کہنا چاہتی ہے لیکن ان کے درمیان ایک ان دیکھی دیوار سی قائم ہو چکی ہے۔ لاجونتی کی گھر واپسی تو ہو جاتی ہے لیکن وہ اب لاجونتی نہیں دیوی ہے، کہانی کی اختتامی سطور یہ ہیں:

“… اور لاجو آئینے میں اپنے سراپا کی طرف دیکھتی اور آخر اس نتیجے پر پہنچی کہ وہ اور تو سب کچھ ہوسکتی ہے پر لاجو نہیں ہو سکتی۔ وہ بس گئی، پر اجڑ گئی … سندرلال کے پاس اس کے آنسو دیکھنے کے لیے آنکھیں تھیں اور نہ آہیں سننے کے لیے کان!… “

Advertisement

افسانہ لاجونتی کا تجزیہ

بیدی ماہر منظر نگار ہیں، وہ واعظ یا مبلغ نہیں بنتے بلکہ معاشرتی رویوں، نفسیاتی الجھنوں اور مسائل کو من و عن ہمارے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔ لاجونتی میں بھی ان کا یہی فن پیش عمل ہے۔ چوں کہ وہ انسانی نفسیات سے بھی بخوبی آگاہ ہیں اس لیے لاجونتی اور سندر لال کے کردار انھوں نے اس خوبی سے ابھارے ہیں کہ ان کے درمیان پیدا ہوئی خلیج اور ذہنی گھٹن بخوبی محسوس کی جا سکتی ہے۔

کہانی نہایت اثر انگیز ہے، لاجونتی اور سندر لال کے کردار تادیر ذہن پر نقش رہتے ہیں۔ لاجونتی میں انسانی نفسیات کے اس کھیل میں انھوں نے بہت کچھ قاری کے لیے بھی چھوڑ رکھا ہے۔ سندر لال کا رویہ لاجونتی کے لیے کیوں بدلتا ہے؟ ایسا سوال ہے جس کا جواب دینا آسان نہیں۔

Advertisement

زبان و بیان کے لحاظ سے دیکھا جائے تو بیدی نے افسانے میں بہت سی علامات استعمال کی ہیں۔ وہ چونکہ خود پنجاب سے ہیں اس لیے کئی پنجابی الفاظ اور علامات افسانے کا حصہ ہیں۔ خود افسانے کا عنوان محض خاتون کا نام نہیں بلکہ ایک استعارہ ہے۔ لاجونتی وہی پودا ہے جو چھونے سے مرجھا جاتا ہے، اس عنوان سے انہوں نے لاجونتی افسانے اور کردار کے کئی پہلو بیان کر دیے ہیں۔ کہیں کہیں ثقیل ہندی اور سنسکرت کا استعمال بھی ہے جو قدرے گراں محسوس ہوتا ہے، لیکن بلاشبہ لاجونتی ایک تخلیقی ذہن کی شاندار تخلیق اور اردو ادب کا باعثِ فخر سرمایہ ہے۔

تحریرواصف رحیم

Advertisement