Advertisement

غزل کی تشریح:

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے

اس شعر میں شاعر زندگی کی بے ثباتی پر بات کرتے ہوئے کہتا ہے کہ زندگی پر ہمارا کوئی اختیار نہیں ہے۔زندگی ہمیں اس دنیا میں لانے کا سبب بنی تو ہم چلے آئے۔بالکل اسی طرح جب موت نے آ دبوچا تو ہم اس دنیا سے چل دیے۔نہ تو اپنی خوشی سے ہم اس دنیا میں آئے اور اب نہ ہی ہم اپنی خوشی سے اس دنیا سے جا رہے ہیں۔

بہتر تو ہے یہی کہ نہ دنیا سے دل لگے
پر کیا کریں جو کام نہ بے دل لگی چلے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ یہ لاکھ درجہ بہتر ہے کہ اس دنیا میں انسان کا دل نہ لگے کیونکہ یہ دنیا ایک عبرت کی جگہ ہے دل لگانے کی جگہ ہر گز نہیں ہے۔لیکن اس دنیا میں بعض ایسے مقام بھی آجاتے ہیں کہ جب دل لگائے بغیر گزارہ ممکن نہیں ہوتا تو ایسی صورت میں انسان کیا کرے۔

کم ہوں گے اس بساط پہ ہم جیسے بد قمار
جو چال ہم چلے سو نہایت بری چلے

اس شعر میں شاعر نے اس دنیا کوبساط کے کھیل سے تشبیہ دی ہے کہ بساط کے کھیل جیسی اس دنیا میں مجھ جیسا کھلاڑی ملنا بھی ایک نا ممکن سی بات ہے کہ یہاں میں نے جو بھی چال چلی وہ نہایت ہی بری چلی گئی۔مجھے کسی بھی چال پر کوئی کامیابی نہ ہوئی۔

Advertisement
ہو عمر خضر بھی تو کہے گے بوقت مرگ
ہم کیا رہے یہاں ابھی آئے ابھی چلے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اس دنیا کی لت ایک ایسی لت ہے کہ اگر انسان کو حضرت خضر جیسی زندگی کہ جسے دوام حاصل ہے سے بھی نوازا جائے اور آخر میں پھر جب موت آنے لگے تو وہ پھر بھی یہی کہے گا کہ ابھی تو اس دنیا میں آئے تھے۔یہ اتنی جلدی ہمیں موت نے کیوں آ دبوچا۔

نازاں نہ ہو خرد پہ جو ہونا ہے ہو وہی
دانش تری نہ کچھ مری دانش وری چلے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ حضرت انسان جسے اپنی عقل پر بہت غرور ہے اسے اس عقل پر اتنا غرور کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔کیوں کہ وہ جتنی بھی عقل برت لے آخر کار وہی ہو گا جو تقدیر کا لکھا ہے۔اس لیے اس دنیا میں تمھاری یا میری عقل سے کچھ نہ ہو گا۔

دنیا نے کس کا راہ فنا میں دیا ہے ساتھ
تم بھی چلے چلو یوں ہی جب تک چلی چلے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اس دنیا میں جو آیا ہے اسے جانا ہے ہر چیز کو فنا حاصل ہے اور اس فنا میں اس دنیا میں کوئی کسی کا ساتھ نہیں دیتا ہے۔اس لیے جب تک جیسے اور جو چل رہا ہے تم بھی چلنے دو اس میں دخل اندازی سے کچھ حاصل نہیں ہے۔

جاتے ہوائے شوق میں ہیں اس چمن سے ذوقؔ
اپنی بلا سے باد صبا اب کبھی چلے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ہم اس دنیا سے شوق کی ایک ایسی ہوا میں رخصت ہوتے ہیں کہ ہمیں اس سے بھی غرض نہیں رہتی ہے کہ نجانے صبح کی تروتاز ہوا کب چلے گی۔

سوالوں کے جواب لکھیے:

سوال نمبر01:اس غزل کے مطلعے کا مطلب لکھیے؟

اس غزل کے مطلع میں شاعر کہتا ہے کہ زندگی پر ہمارا کوئی اختیار نہیں ہے۔زندگی ہمیں اس دنیا میں لانے کا سبب بنی تو ہم چلے آئے۔بالکل اسی طرح جب موت نے آ دبوچا تو ہم اس دنیا سے چل دیے۔نہ تو اپنی خوشی سے ہم اس دنیا میں آئے اور اب نہ ہی ہم اپنی خوشی سے اس دنیا سے جا رہے ہیں۔

سوال نمبر02:عمر خضر سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

عمر خضر سے شاعر کی مراد لمبی زندگی ہے۔یعنی وہ زندگی جو حضرت خضر علیہ السلام کو عطا کی گئی۔

سوال نمبر03:”ہم کیا رہے یہاں،ابھی آئے ابھی چلے”اس مصرعے کے ذریعے شاعر نے انسانی زندگی کے کس پہلو کی نشاندہی کی ہے؟

اس مصرعے میں شاعر نے انسانی زندگی کی بے ثباتی کی نشاندہی کی ہے کہ اس دنیا میں آنا ،رہنا اور پھر جانا انسان کا ایسا ہی ہے کہ اس کا کوئی بھروسہ نہیں۔

سوال نمبر04:غزل کے مقطع میں چمن سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

مقطع میں چمن سے شاعر کی مراد یہ "دنیا” ہے۔