Advertisement
وہ کتابوں میں درج ہی نہیں تھا
جو سکھایا سبق— زمانے نے
نہ ہاتھ تھام سکے نہ پا سکے دامن
بہت قریب سے اٹھ کر بچھڑ گیا کوئی
ترسادیاہے ابرگریزاں نے اس قدر
برسے جو بوندبھی تو سمندر لگے مجھے
احمد فراز
آنکھیں تک نچوڑ کر پی گئے
تیرے غم کتنے پیاسے تھے
نہ دل کے جذبات الگ، نہ محبت کے انداز الگ
‏تھی بات لکیروں کی، تیرے ہاتھ الگ میرے ہاتھ الگ
Advertisement

Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement