Advertisement
  • باب نمبر 07: انشائیہ
  • مصنف کا نام:خواجہ حسن نظامی
  • سبق کا نام:مچھر

انشائیہ مچھر کا خلاصہ:

“مچھر” خواجہ حسن نظامی کا انشائیہ ہے۔مچھر دیکھنے میں تو بھنبھناتا ہوا ننھا سا پرندہ ہے مگر یہ انسان کو خوب ستاتا ہے۔یہ وہ واحد پرندہ ہے جس سے ہندو،سکھ مسلمان غرض ہر مسلک کے لوگ مشترکہ طور پر خفا ہیں۔انسان نے اس کو ختم کرنے کے کئی حیلے بہانے کیے مگر ہمیشہ مچھر سے شکست فاش ہی ہوا۔اتنا بڑا انسان اس ذرا سے مچھر پر قابو نہیں پا سکتا۔اس کے لئے کئی طرح کے اسپرے اور ادویات بھی تیار کیں مگر کچھ بھی کارگر ثابت نہیں ہوا۔

امیر،غریب،ادنی، اعلی،بچے،بوڑھے وغیرہ کوئی بھی اس سے محفوظ نہیں ہے۔یہاں تک کہ مچھر تو ان کے دوستوں یعنی اس کے پالتو جانوروں کو بھی اپنا دشمن مانتا ہے۔انسانوں نے ہمیشہ مچھر پر الزام تراشی کی کہ اس کی وجہ سے طاعون پھیل رہا اور کبھی اس پر ملیریا پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا۔انسان نے اس کو ختم کرنے کی کئی تدبیریں کیں اور مچھر یہ سب کچھ دیکھتا رہا۔

Advertisement

انسان کہتا ہے کہ مچھر بہت کم ذات ہے یہ گندی جگہوں اور تنگ موریوں میں رہتا ہے۔اور اس کی بزدلی دیکھو کہ سوتے میں انسان پر حملہ آور ہوتا ہے۔لیکن مچھر کا کہنا ہے کہ وہ بزدل نہیں ہے بلکہ وہ تو ان کے کانوں میں آکر برملا اعلانِ جنگ کرتا ہے مگر انسان اتنا لا پروا اور غافل ہے کہ وہ عبادت کرنے کی بجائے غفلت میں پڑا سوتا رہتا ہے۔

Advertisement

میرے کارناموں کی تو شاید انہیں خبر ہی نہیں کہ میں نے نمرود جیسے انسان کو عبرت دلا دی۔اس کے غرور کو توڑا۔تم مجھ پر نا حق بگڑتے ہو اور خواہ مخواہ مجھے اپنا دشمن مانتے ہر۔مچھر اپنے حق میں گواہی کے لئے شب بیدار صوفی سے پوچھنے کا کہتا ہے کہ اس سے دریافت کرو تو دیکھنا کہ وہ میری شان میں کیا کہتا ہے۔وہ یقیناً مچھر کی زندگی کو دل سے پسند کرتا ہے کہ رات کو جو خدا کی تقدیس کا وقت ہے میں اس وقت میں اٹھ کر ترانے کرتا ہوں۔

Advertisement

آدمی غفلت میں پڑے سو رہے ہوتے ہیں اس کو ان پر غصہ آتا ہے۔اسی لیے مچھر ان کے کانوں میں جا جاکر کہتا ہے کہ اٹھو اور خدا کی عبادت کرو۔مگر انسان اس سریلی نصحیت کی پروا نہیں کرتا ہے۔شاہ صاحب کی زبان سے اپنے لیے یہ عارفانہ کلمات سننا میرے لیے غنیمت ہے۔یہ سن کر احساس ہوتا ہے کہ آدمیوں میں بھی انصاف کرنے والے موجود ہیں۔یوں میرا دل کرتا ہے کہ میں جا جا کر ان صوفی صاحب کے پاؤں چوموں اور ان کی خدمت کروں اگر انسان بھی صوفی صاحب کا طریقہ استعمال کر لیں تو یقیناً ہماری یعنی مچھر کی قوم انسان کو ستا نے سے باز آ جائے گی۔

سوالات:

سوال نمبر1: مضمون نگار نے مچھر کا حلیہ کن الفاظ میں بیان کیا ہے؟لکھیے۔

مضمون نگار مچھر کا حلیہ کچھ اس طرح بیان کیا ہے کالا بھوتنا،لمبے لمبے پاؤں،بے ڈول چہرہ لیے ہوئے ہے جو گورے چٹے آدمیوں کو کاٹتا ہے۔

Advertisement

سوال نمبر 2:اس سبق میں انسان کو کیا نصحیتیں کی گئی ہیں؟اپنے الفاظ میں لکھیے۔

اس سبق میں انسان کو نصیحت کی گئی ہے کہ رات کا وقت چونکہ اللہ کی عبادت کا ہے اس لیے وہ اس وقت میں غفلت کا شکار ہونے کی بجائے اللہ کی عبادت کی جانب متوجہ ہوں۔انسان کو چاہیے کہ وہ کسی کو بلاوجہ باتیں سنانے کی بجائے کوئی بہتر عملی کام کر کے دکھائیں۔

سوال نمبر 3:مصنف نے مچھروں کے کس عمل کو شوخیانہ ریمارک قرار دیا ہے؟

مچھر نے ڈاکٹر صاحب کے خون کی چوسی ہوئی بوندوں کو ہی پانیر میں کی گئی اپنی برائی کے اوپر بطور ریمارکس ڈالا۔اس عمل کو مصنف نے اس کا شوخیانہ ریمارک قرار دیا۔

Advertisement

سوال نمبر 4:”مچھر جانتا ہے کہ دشمن کے دوست بھی دشمن ہوتے ہیں”اس جملے کے ذریعے مصنف ہمیں کیا بتانا چاہتا ہے؟

جیسے کہ مچھر انسان کے پالتو جانوروں کو بھی اپنا دشمن مان کر کاٹنے سے باز نہیں آتا اس سے مصنف یہ سبق دینا چا ہتا ہے کہ دشمن کے دوست کبھی آپ کے دوست نہیں ہو سکتے بلکہ انہیں بھی ساتھ میں دشمن ہی تصور کیا جائے۔

عملی کام:

سوال: اس سبق میں مچھر اور انسان کے درمیان مکالمے کے کچھ اقتباسات اپنی کاپی میں نقل کیجیے۔

  • انسان:انسان کہتا ہے کہ مچھر بڑا کم ذات ہے کوڑے کرکٹ، میل کچیل سے پیدا ہوتا اور گندی موریوں میں زندگی بسر کرتا ہےاور بزدلی تو دیکھو اس وقت حملہ کرتا ہے جب کہ ہم سو جاتے ہیں۔سوتے پر وار کرنا بے خبر کے چرکے لگانا مردانگی نہیں ہے۔
  • مچھر: میرے کارناموں کی شاید تم جو خبر نہیں کہ میں نے اس پردہ دنیا پر کیا کیا جوہر دکھائے ہیں۔اپنے بھائی نمرود کا قصہ بھول گئےجو خدائی کا دعویٰ کرتا تھا۔اس کا غرور کس طرح توڑا میں نے۔

اس مضمون میں جو محاورے آئے ہیں ان میں سے پانچ کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

مزا چکھاناہماری قومی ٹیم نے مخالف ٹیم کو میچ میں ہار کا مزا چکھایا۔
کھری کھری سناناناقابلِ برداشت بات سن کر علی نے احمد کو کھری کھری سنا دیں۔
غرور توڑنامچھر نے نمرود کے دماغ میں گھس کر اس کا غرور توڑ دیا۔
ناک میں دم کرنابچوں نے کمرہ جماعت میں شور مچا کر استاد کی ناک میں دم کر دیا۔
صلواتیں سنانانمبرہ نے دوران لڑائی آمنہ کو خوب صلواتیں سنائیں۔

انشائیے میں آئے ہوئے انگریزی الفاظ لکھیے۔

پانیر
میٹم
الٹی
جرنل
ٹیشن
ایجی
ریمارک
Advertisement

Advertisement