مجاز مرسل کی تعریف

یہ علم بیان کی تیسری شاخ ہے۔ اصطلاح میں یہ وہ لفظ ہے جو اپنے حقیقی معنوں کے بجائے مجازی معنوں میں استعمال ہو اور حقیقی و مجازی معنوں میں تشبیہ کے علاوہ کوئی اور تعلق ہو۔ مثلاً:

خاتون آٹا گوند رہی ہے۔ یہاں آٹا اپنے حقیقی معنوں میں استعمال ہوا ہے یعنی آٹا سے مراد آٹا ہی ہے۔

احمد چکی سے آٹا پسوا لایا ہے۔ یہاں آٹا گندم کے معنوں میں استعمال ہوا ہے جو اس کی ماضی کی حالت ہے۔ یعنی آٹا تو نہیں پسوایا گیا بلکہ گندم پسوائی گئی تھی اور آٹا بنا۔ لیکن آٹا پسوانے کا ذکر ہے۔علمائے بلاغت نے اس کی 24 اقسام بتائی ہیں۔

(بلاغت کی بحث میں تشبیہ ابتدائی صورت ہے اور استعارہ اس کی بلیغ تر صورت ہے۔ اس کے بعد استعارہ اور مجاز مرسل میں بھی فرق ہے۔ استعارہ اور مجاز مرسل میں لفظ اپنے مجازی معنوں میں استعمال ہوتا ہے لیکن استعارہ میں لفظ کی حقیقی اور مجازی معنوں میں تشبیہ کا تعلق ہوتا ہے جب کہ مجاز مرسل میں لفظ کے حقیقی اور مجازی معنوں میں تشبیہ کا تعلق نہیں ہوتا۔

اسی طرح مجاز مرسل اور کنایہ میں بھی فرق ہے کنایہ میں لفظ کے حقیقی و مجازی معنی دونوں مراد لیے جا سکتے ہیں۔ جب کہ مجاز مرسل میں حقیقی معنی مراد نہیں لئے جا سکتے بلکہ مجازی معنی مراد لیے جائیں گے۔)

Mock Test Urdu Paper 2009

مجاز مرسل کی تعریف 1
Close